اپنی دوکان یا مکان کو بڑھا سرکاری سڑک پر قبضہ کرلینا

اپنی دوکان یا مکان کو بڑھا سرکاری سڑک پر قبضہ کرلینا

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ آجکل لوگ اپنے مکان کو بڑھالیتے ہیں سرکاری سڑک کوبھی اس میں شامل کرلیتے ہیں یونہی دوکانوں میں یہ رائج ہے بالخصوص مارکیٹوں میں کہ اپنی دوکان کی سیڑھیاں وغیرہ کافی بڑھا کر سڑک چھوٹی کردیتے ہیں اور پھر دوسری زیادتی یہ کرتے ہیں کہ اپنی دوکان کے آگے کسی موٹرسائیکل لگانے بلکہ کوئی موٹرسائیکل وغیرہ پر کھڑا بھی ہوتو اسے وہاں سے ہٹنے کا کہتے ہیں اور اس پر بدتمیزی بھی کرتے ہیں۔کئی تو اپنی دوکان کے آگے کسی کو ریڑھی لگانے پر اجرت بھی لیتے ہیں۔ شریعت اس حوالے سے کیا کہتی ہے؟

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الوہاب اللہم ہدایۃالحق والصواب

سوال میں بیان کی گئی تمام صورتیں شرعا ناجائز ہیں۔ قانونی طور پر ایک دوفٹ گھر یا دوکان کا شیڈ یا سیڑیاں بڑھانے کی اجازت ہے اس کے علاوہ کئی کئی فٹ سڑک کو اپنی دوکان یا مکان میں شامل کرلینا اور روڈ تنگ کردینا،مزید اپنی دوکان کے آگے والی سڑک کی جگہ کو اپنی ملکیت سمجھ کر وہاں کسی کو کھڑے بھی نہ ہونے دینا ،اس سے بدتمیزی کرنا یہ بھی جائز نہیں،ہاں اخلاقی انداز میں یہ عرض کی جاسکتی ہے کہ آپ میری دوکان کے آگے گاڑی کھڑی نہ کریں کہ گاہکوں کو مشقت ہوگی۔نیزدوکاندار کا اپنی دوکان سے باہر راستے پر لگے ٹھیلے یا اسٹالز کی جگہ فروخت کرنا یا کرایہ پر دینا شرعاً جائز نہیں ، کیونکہ دوکان سے باہر راستے میں جس جگہ پر ٹھیلے یا اسٹالز لگے ہوتے ہیں وہ جگہ گورنمنٹ کی ملکیت میں ہوتی ہے ، دوکاندار کی نہیں اور جو چیز ملکیت میں نہ ہو اس کو یوں کرائے پر دینا درست نہیں ۔لہذا یوں دوکان یا مکان کو بڑھا کر راستے کو تنگ کرکے لوگوں کو مشقت میں ڈالنا شرعا بھی درست نہیں اور قانونا بھی جرم ہے جس سے مسلمان کو بچنے کا حکم ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا

’’فأعطوا الطریق حقہ۔۔۔ قالوا وما حق الطریق فی حدیث أبی شریح قلنا یا رسول اللہ وما حقہ قولہ غض البصر وکف الأذی‘‘

ترجمہ:راستے کاحق اداکرو۔صحابہ نے عرض کی! یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم راستے کاحق کیاہے؟ارشادفرمایاکہ آنکھ نیچی رکھواو رراستے سے تکلیف دہ شے کودورکرو۔ (سنن ابی دائود،کتاب الادب،باب فی الجلوس فی الطرقات،جلد2،صفحہ 671،دار الفکر ،بیروت )

فتاوٰی عالمگیری میں ہے

’’السکۃ إذا کانت غیر نافذۃ فہی کدار بین شریکین لکل واحد منہما أن یسکن فی نصفہا ولیس لہ أن یحفر بئرا أو یبنی فیہا‘‘

ترجمہ: گلی جب آگے سے بند ہو تو اس کی حیثیت ایک گھر سی ہے جس میں ہر کوئی برابر کا شریک ہے۔کسی ایک کے لئے درست نہیں کہ وہ اس میں کنواں کھودے یا کوئی چیز بنالے۔(فتاوٰی ہندیہ،کتاب الکراہیت،الباب التاسع والعشرون فی الانتفاع بالأشیاء المشترکۃ،جلد5،صفحہ371،دارالفکر،بیروت)

مزید لکھا ہے

” وفي الجامع الصغير رجل أخرج إلى الطريق كنيفا أو ميزابا، أو بنى دكانا، أو جرصنا فلكل واحد من عرض الناس أن يقلع ذلك ويهدمه إذا فعل ذلك بغير إذن الإمام أضر ذلك بالمسلمين أو لم يضر، ويستوي في هذا الحق المسلم والكافر والمرأة “

ترجمہ:جامع صغیر میں ہے کہ ایک آدمی نے راستے پر بیت الخلا یا پرنالہ بنایا ہے یا کوئی دکان یا شیڈ بنایا ہے تو ہر ایک کو حق ہے کہ اسے اکھاڑ پھینکے اور گرا دے اگر اس نے امام کی اجازت کے بغیر (غیر سرکاری طور پر)ایسا کیا ہو۔ خواہ اس سے مسلمانوں کو نقصان پہنچے یا نہ پہنچے اور اس حق میں مسلمان، غیر مسلم اور عورت برابر ہیں۔

(فتاوٰی ہندیہ،کتاب الجنایات،الباب الحادي عشر في جناية الحائط والجناح والكنيف،جلد6،صفحہ40،دارالفکر،بیروت)

فتاوی ہندیہ میں ہے

”إذا اتخذ الرجل مشرعة على شاطئ الفرات ليسقي منها السقاءون ويأخذ منه الأجر فإن بنى على ملكه إن آجرها منهم للاستقاء لم يجز، وإن آجر ما ملكه لأن الإجارة وقعت على استهلاك العين مقصودا، وإن آجرها ليقوم فيها السقاءون ويضعون القرب فيها ويوقفون الدواب فيها جاز، وأما إذا بنى المشرعة على ملك العامة ثم آجرها من السقائين لا يجوز سواء آجر منهم للاستقاء أو آجر منهم ليقوموا فيها ويضعوا القرب. كذا في الذخيرة “

ترجمہ : جب کسی شخص نے فرات کے کنارے گھاٹ بنایا تاکہ پانی پلانے والے اس سے لوگوں کو پانی پلائیں اور وہ ان سے اجرت لے، تو اگر اس نے یہ گھاٹ اپنی ملکیت کی جگہ پر بنایا ہے، اور وہ ان سے پانی لینے کی اجرت لے گا تو جائز نہیں ہے، اگرچہ وہ ان سے اپنی ملک پر اجرت لے گا، اس لیے کہ اجارہ عین مقصود کو ہلاک کرنے پر ہوا ہے۔ اور اگر اس کو اجرت پر دیا ہے تاکہ پانی پلانے والے اس میں ٹھہریں اور اس میں مشکیزے رکھیں اور اس میں جانوروں کو ٹھہرائیں تو جائز ہے۔ بہر حال اگر اس نے یہ گھاٹ عام ملک پر بنایا ہے پھر اس کو پانی پلانے والوں کو اجرت پر دیا ہے تو جائز نہیں ہے۔ برابر ہے کہ اس نے ان کو پانی لینے کیلئے اجرت پر دیا یا اس میں ٹھہرنے اور مشکیزے رکھنے کیلئے دیا ہو۔ اسی طرح ذخیرہ میں ہے۔(فتاویٰ ہندیہ،کتاب الاجارۃ،فصل فی المتفرقات، جلد 4 صفحہ 453 ،دارالفکر،بیروت)

سیدی ومرشدی امام احمد رضاخان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشادفرماتے ہیں :

’’ ایسے امر کاارتکا ب جو قانوناناجائز ہواور جرم کی حد تک پہنچے، شرعابھی ناجائز ہوگا کہ ایسی بات کے لئے جر م قانونی کامرتکب ہوکر اپنے آپ کوسزااور ذلت کے لئے پیش کرناشرعابھی روانہیں۔‘‘ (فتاوی رضویہ ،جلد20،صفحہ192،رضافاؤنڈیشن،لاہور)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ

ابو احمد مفتی محمد انس رضا عطاری

17 محرم الحرام 1445ھ بمطابق05 اگست 2023ء

اپنا تبصرہ بھیجیں