احادیث میں بتائے گئے نسخوں پر عمل کرنا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ابن ماجہ کی اس حدیث پاک ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کسی نے ہر ماہ تین دن شہد چاٹے گااسے کوئی بڑی بیماری نہیں لگے گی۔ کیا اس طرح کی احادیث کا حکم عام ہوتا ہے کہ ہر شخص ان پر عمل کر کے یہ نتائج حاصل کر سکتا ہے یا پھر پیارے آقا صلی الله عليه وسلم کا یہ حکم خاص اشخاص یا خاص جگہ و مواقع کے لئے ہے ؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب
شہد میں شفاہونےکا عمومی حکم موجود ہے۔الله تعالی نے شہد کو شفاء فرمایا ہے اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے بھی دوائی کے طور پر اس کو استعمال کیا ہے۔لیکن ہر طرح کی بیماری کے لیے شہد ہی شفا ہو یہ ضروری نہیں۔موسم،ماحول،طبیعت کے سبب مختلف صورتیں ہوتی ہیں۔ لہذا شہد کے متعلق ابن ماجہ کی حدیث یا اس جیسی دوسری احادیث کا حکم عام نہیں۔ایک حدیث پاک میں بخار کی حالت میں نہانے کا ارشادہوا جبکہ وہ حکم ہر بخار کے متعلق نہ تھا ،ایک شخص اس حدیث کو سامنے رکھتے ہوئے بخار میں نہایا اور اسے نمونیہ ہوگیا ۔ وہ شخص حدیث پاک ہی کا منکر ہوگیا۔لہذااحادیث میں بیان کردہ دوائیں کسی ماہر طبیب کے مشورے سے ہی استعمال کرنی چاہئیں ۔
عمدۃ القاری میں ہے
”وقال شقیق قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم المبطون شھید ،ودواء المبطون العسل فان قلت الرجل الذی جاء الی النبی صلی الله عليه وسلم فقال أخی یشتکی بطنہ فقال اسقہ عسلاً فسقاہ فلم یفدہ ،حتی أتی الثانیہ والثالثہ ،فکذلک ،حتی قال صلی الله عليه وسلم صدق الله وکذب بطن أخیک ) قلت قد أخبر النبی صلی الله عليه وسلم عن غیب أطلعہ الله علیہ ،وأعلمہ بالوحی أن شفاءہ بالعسل فکرر علیہ الأمر یسقی العسل لیظھر ما وعد بہ ،وأیضاً قد علم أن ذلک النوع من المرض یشفیہ العسل ۔۔۔۔۔۔وأمرہ بشرب العسل معاونۃ الی أن فنیت المادۃ فوقف الاسھال ، وقد یکون ذلک من باب التبرک ، ومن دعائہ وحسن أثرہ ولا یکون ذلک حکماً عاماً لکل النّاس وقد یکون ذلک خارقًا للعادۃ من جملۃ المعجزات ،وقیل المعنی فیہ شفاء لبعض الناس ، وأولو الآیہ وحدیث أبی سعید الذی یأتی علی الخصوص ،وقالو الحجامۃ وشرب العسل والکی ،انما ھی شفاء لبعض الأمراض دون بعض ألا تری قولہ أو لذعۃ بنار توافق الداء ؟ فدل ھذا علی أنھا اذا لم توافق الداء فلا دواء فیھا وقد جاء فی القرآن ما لفظہ لفظ العموم والمراد بہ الخصوص کقولہ تعالی ( وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون یرید المؤمنین “
ترجمہ:حضرت شقیق رضی الله عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی الله عليه وسلم نے فرمایا پیٹ کے درد میں مرنے والا شھید ہے پیٹ درد کی دواء شہد ہے ۔پس اگر تو کہے کہ وہ بندہ جو بنی کریم صلی الله عليه وسلم کے پاس آیا اس نے کہا کہ میرے بھائی کو پیٹ درد کی شکایت ہے حضور اکرم صلی الله عليه وسلم نے فرمایا اس کو شہد پلاؤ اس نے پلایا کوئی فائدہ نہ ہوا یہاں تک کہ وہ دوسری اور تیسری مرتبہ پھر آیا آپ صلی الله عليه وسلم نے پھر ایسے ہی فرمایا یہاں تک کہ سرکار صلی الله عليه وسلم نے فرمایا الله نے سچ فرمایا تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹ بولتا ہے ۔
اس حدیث پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ بدر الدین عینی فرماتے ہیں : میں کہتا ہوں حضور صلی الله عليه وسلم نے غیب کی خبر دی جس پر الله نے آپ صلی الله عليه وسلم کو مطلع فرمایا اور حضور صلی الله عليه وسلم کو وحی کے ذریعے بتا دیا کہ اس کی شفاء شھد میں ہے اسی لئے آپ صلی الله عليه وسلم باربار اس بات کا فرما رہے تھے کہ اپنے بھائی کو شھد پلاؤ تاکہ جس کا الله نے وعدہ کیا ہے وہ ظاھر ہو جائے اور یہ بھی کہ آپ صلی الله عليه وسلم نے جان لیا اس سم کا مرض شھد ہی سے ٹھیک ہو گا اور یہ تبرک کے باب سے بھی ہو سکتا ہے یا اس کا تعلق آپ صلی الله عليه وسلم کی دعا اور اس کے حسن أثر سے ہے یہ ( شھد پینے والا حکم ) تمام لوگوں کے لئے عام نہیں ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے یہ آپ صلی الله عليه وسلم کے جملہ معجزات میں سے ایک معجزہ ہو(فیہ شفآء للناس ) اس آیۃ کے بارے ميں فرماتے ہیں کہ کہا گیا ہے اس میں بعض لوگوں کے لئے شفاء ہے علماء نے اس آیہ اور ابو سعید والی حدیث ان دونوں کی یہ تأویل بیان کی ہے کہ یہ دونوں خصوص پر دلالت کرتی ہیں اور علماء نے فرمایا پچھنے لگوانا شھد پینا اور آگ کے ساتھ داغنا یہ بعض بیماریوں کے لئے شفاء ہیں بعض کے لئے نہیں ہیں ،کیا تو دیکھتا نہیں کہ آگ کے ساتھ جھلس دینا اس وقت ہی ہے جب بیماری کے موافق ہو یہ اس بات پر دلالت ہے کہ اگر داغنا بیماری کے موفق نہ ہو تو پھر اس میں شفاء نہیں ہے اور جو قرآن مجید کی آیۃ کے الفاظ ہیں وہ تو عام ہیں لیکن اس سے مراد خصوص ہے جیسے الله فرماتا ہے میں نے جنوں اور انسانوں کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے یہاں پر انسان سےمراد مؤمنین ہیں ۔ ( عمدۃ القاری ،جلد 19 ،کتاب الطب ،باب الدواء بالعسل ،صفحہ 547 مکتبہ رشیدیہ ،کوئٹہ )
مرأۃ المناجیح میں ہے
” وعن أبی ھریرۃ رضی الله عنہ أنہ سمع رسول الله صلی الله علیہ وسلم یقول ( فی الحبۃ السوداء شفاء من کل داء ) “
ترجمہ:حضرت ابو ھریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے امام الأنبیاء صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ کلونجی میں موت کے سواء ہر بیماری سے شفاء ہے ۔
اس حدیث کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی فرماتے ہیں:
” ہر مرض سے مراد ہر بلغمی اور رطوبت کے امراض ہیں کیونکہ کلونجی گرم اور خشک ہوتی ہے لہذا مرطوب اور سردی کی بیماریوں میں مفید ہو گئی اور یہا ں مراد عرب کی عام بیماریاں ہیں یعنی کلونجی عرب کی عام بیماریوں میں مفید ہے ۔خیال رہے کہ احادیث شریف کی دوائیں کسی حاذق طبیب کی رائے سے استعمال کرنی چاہیئں صرف اپنی رائے سے استعمال نہ کریں کہ ہمارے مزاج اہل عرب کے مزاج سے جداگانہ ہیں ۔“( مرأۃ المناجیح شرح مشکٰوۃ المصابیح ،جلد 6 ،حدیث 4520 )
مرقاۃ شرح مشکوۃ میں ہے
” ھذا الحدیث قد غلط فیہ بعض من ینسب الی العلم ،فانغمس فی الماء لمّا اصابتہ الحمّی ،فاحتقنت الحرارۃ فی باطن بدنہ فأصابتہ علّۃ صعبۃ کاد یھلک فیھا ،فلمّا خرج من علتہ قال قولا فاحشاً لایحسن ذکرہ وذلک لجھلہ بمعنی الحدیث ،وذھابہ عنہ فتبرید الحمّی الصفراویّہ بسقی الماء الصادق البرد ووضع أطراف المحموم فیہ من أنفع العلاج وأسرعہ الی اطفاء نارھا وکسر لھیبھا ،فانّما أمر باطفاء الحمّی وتبریدھا بالماء علی ھذاالوجہ دون الانعماس فیہ وغط الرّأس فیہ “
ترجمہ: اس حدیث میں غلطی کی ہے ایسے بندے نے جس کو علم کی طرف منسوب کیا جاتا ہے جب اس کو بخار ہوا تو اس نے پانی میں غوطہ لگایا پس حرارت جسم کے اندر داخل ہو گئی تو اس کو سخت قسم کی بیماری لگ گئی قریب تھا کہ وہ اس بیماری میں ہلاک ہو جائے پس جب اس کی بیماری ختم ہوئی تو اس نے ایک ایسی غلیظ بات کی جس کا ذکر کرنا اچھا نہیں یہ سب اس کا حدیث کے معنی کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہوا اور اس کے سمجھنے سے قاصر ہونے کی وجہ سے پس بخار کو ٹھنڈا کرنا حقیقی ٹھنڈے پانی سے سیراب کرنے کے ساتھ ہے اور بخار والے کے اعضاء کو پانی میں رکھنے کے ساتھ یہ بہترین اور جلدی علاج ہے بخار کی آگ کو بجھانے اور اس کے شعلوں کو توڑنے میں پس بےشک اس طور پر بخار کی آگ کو بجھانے اور اسکو پانی کے ٹھنڈا کرنے کا حکم دیا گیا ہے نہ کہ پانی میں غوطہ لگانے اور سر کو پانی میں ڈبو دینے کا حکم دیا گیا ہے ۔ ( مرقاۃ شرح مشکوۃ ، جلد 7، کتاب الطب صفحہ 2867 الرقم 4525 ،دارالفکر بیروت ،لبنان )
مراۃ المناجیح میں ہے:
” یہ خطاب اہلِ عرب کو ہے جنہیں اکثر صفراوی بخار آتے تھے جس میں غسل مفید ہوتا ہے۔ہم لوگ اس پر بغیر حاذق حکیم کے مشورے کے عمل نہ کریں کیونکہ ہمیں اکثر وہ بخار ہوتے ہیں جن میں غسل نقصان دہ ہے اس سے نمونیہ کا خطرہ ہوتا ہے،ہاں کبھی ہم کوبھی بخار میں غسل مفید ہوتا ہےحتی کہ ڈاکٹر مریض کے سر پر برف بندھواتے ہیں۔
صفراوی بخار کے لیے یہ عمل اکسیر ہے جس پرکبھی حکیم عمل کرتے ہیں مگر یہ عمل تیزگرمی میں صفراوی بخار میں طبیب کی رائے سے کیا جائے۔مرقات نے فرمایا کہ ایک شخص نے ترجمہ حدیث دیکھ کر اپنے پر اسے آزمایا نمونیہ ہوگیا بمشکل بچا تو وہ حدیث کا ہی منکر ہوگیا حالانکہ اس کی اپنی جہالت تھی۔“(مراۃ المناجیح)
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی الله علیہ وسلم
ابوبکر نیلمی
28 فروری 2023ء