کپڑے اور کنویں میں نجاست کا فرق

کپڑے اور کنویں میں نجاست کا فرق

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ کہیں کتب فقہ میں لکھاہوتا ہے کہ نجاست کپڑے پر دیکھی تو آخری وقت کی طرف نسبت کی جائے گی جیسے خون دیکھا تو آخری مرتبہ نکسیر پھوٹنے کی طرف منسوب ہوگا لیکن کئی جگہ لکھا ہے کہ کنویں میں نجاست دیکھی تو جب سے نجاست دیکھی تب سے ناپاکی کا حکم ہوگا۔ دونوں میں تطبیق یا فرق کیا ہے؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق و الصواب

پوچھی گئی صورت میں حکم یہ کہ جب نجاست کپڑے پر دیکھی تو اس میں آخری حدث جو لاحق ہوا اس کا اعتبار ہوگا اور اس وقت سے نمازوں کا اعادہ کرے گا اسی طرح اگر خون کے داغ دیکھے تو اس میں آخری دفعہ نکسیر پھوٹنے کا اعتبار ہوگا کیونکہ اس میں قاعدہ و اصول یہ ہے کہ جب نجاست کے لگنے کا وقت معلوم نہ ہو تو اسے قریب ترین وقت کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے۔ اور رہا کنویں میں نجاست گرنے کا مسئلہ تو اس میں حکم ظاہر پر لگے گا کہ جب اسے دیکھا تو وہی اس کا قریب ترین وقت ہے۔ لہذا دونوں مسائل میں فرق یہ ہے کہ پہلے مسئلہ میں میں قریب ترین وقت کا ادراک آخری حدث یا نکسیر کے وقت تک معین کرنا ممکن ہے مگر کنویں والے مسئلہ میں کوئی خاص وقت متعین نہیں کیا جاسکتا کیونکہ نجاست گرنے کا وقت معلوم ہی نہیں اور نہ غالب گمان ہے۔ لہٰذا ظاہر پر حکم لگاتے ہوئے آسانی کے پیش نظر جب اس نجاست کو دیکھا ہے اس وقت سے اس کے نجس ہونے کا اعتبار ہوگا۔

الاشباہ والنظائر میں ہے:

”قاعدہ الاصل اضافۃ الحادث الی اقرب اوقاتہ منھا ما قدمناہ فیما لو رای فی ثوبہ نجاسہ وقد صلی فیہ ولایدری متی اصابتہ یعیدھا من اخر حدث احدثہ… وقیل فی البول یعتبر من آخر مابال من الدم من آخر ما رعف“

ترجمہ:قاعدہ پیش آنے والی واقعات کو قریب ترین وقت کی طرف اضافت کرنا اصل ہے اور اسی اصول کے تحت وہ مسئلہ ہے جو ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ اگر کسی نے کپڑے پر نجاست دیکھی اور اس کپڑے میں ہی وہ نماز ادا کرچکا ہے اور اب علم نہیں ہے کہ یہ نجاست کب لگی ہے تو نماز کو دوہرائے اس آخری حدث کے اعتبار سے جو اسے لاحق ہوا تھا اور کہا گیا ہے کہ پیشاب میں آخری مرتبہ پیشاب کرنے اور خون کی صورت میں آخری مرتبہ نکسیر پھوٹنے کا اعتبار ہوگا۔(الاشباہ والنظائر، قاعدہ الیقین لایزول بالشک ، صفحہ 55 ، دار الکتب العلمیہ بیروت)

اسی میں ہے:

”ولو فتق جبۃ فیھا فارۃ میتۃ ولو یعلم متی دخلت فیھا فان لم یکن لھا ثقب یعید الصلاۃ مذ یوم وضع القطن فیھا وان کان فیھا ثقب یعیدھا من ثلاثہ ایام وقد عمل الشیخان بھذہ القاعدہ فحکمھا بنجاسہ البئر اذا وجدت فیھا فارہ میتہ من وقت العلم بھا من غیر اعادہ شیئ لان وقوعھا حادث فیضاف الی اقرب اوقاتہ وخالف الامام الاعظم رحمہ اللہ فاستحسن اعادۃ صلاۃ ثلاثہ ایام ان کانت منتفخہ او متفسخہ والا فمنذ یوم و لیلۃ عملا بالسبب الظاھر دون الموھوم احتیاطا کالمجروح اذا لم یزل صاحب الفراش حتی مات یحال بہ علی الجرح“

ترجمہ: اور اگر کسی نے روئی کا جبہ پھاڑا اور اس میں مرا ہوا چوہا ملا اور یہ معلوم نہیں کہ وہ اس میں کب گرا تھا تو اگر اس میں کوئی سوراخ نہ ہو تو جس دن سے روئی ڈالی تھی اس دن سے نماز لوٹائے اور اگر اس میں کوئی سوراخ موجود ہو تو تین دن سے نماز لوٹائے اور صاحبین نے اسی قاعدے کے تحت فتوی دیا ہے کہ اگر کنویں میں مرا ہوا چوہا پایا جائے تو اس کے گرنے کا وقت معلوم ہونے کے وقت سے ناپاک مانا جائے گا کچھ اعادے کے بغیر،کہ یہ امر حادث ہے تو اس کو قریب ترین وقت کے ساتھ منسوب کیا جائے گا۔ اور اس میں امام اعظم ابوحنیفہ کا اختلاف ہے لہذا اگر وہ پھولا یا پھٹا ہو تو اب تین دن رات کی نمازوں کے اعادے کو مستحسن قرار دیتے ہیں ورنہ احتیاطاً وہم کو ترک کر کے سبب ظاہری پر عمل کرتے ہوئے ایک دن رات کی نمازوں کا اعادہ کرے جیسے کہ زخمی جب بستر مرگ پر ہو اور اسی حالت میں مرجائے تو اس کی موت کے سبب کو اس زخم کی طرف ہی منسوب کیا جائے گا ۔(الاشباہ والنظائر، قاعدہ الیقین لایزول بالشک ، صفحہ 55 ، دار الکتب العلمیہ بیروت)

درمختار و ردالمختار میں ہے:

”وجد في ثوبه منيا أو بولا أو دما أعاد من آخر احتلام وبول ورعاف…وفي بعض النسخ من آخر نوم وهو المراد بالاحتلام؛ لأن النوم سببه كما نقله في البحر (قوله ورعاف) هذا ظاهر إذا وقع له رعاف“

ترجمہ:کپڑے میں منی پیشاب یا خون پایا تو آخری احتلام بول اور نکسیر سے اعادہ کرے اور بعض نسخوں میں آخری نیند مراد ہے کیونکہ نیند احتلام کا سبب ہے جیسا کہ بحر میں ہے اور نکسیر جب واقع ہوئی اس وقت سے اعادہ کرے یہ ظاہر ہے۔ (الدرالمختار و ردالمحتار ، کتاب الطہارۃ، باب المیاہ، فصل في البئر، فرع وجد في ثوبه منيا أو بولا أو دما] ،ج 1، ص219 دار الفکر بیروت)

ایک اور مقام پر ہے:

”(ويحكم بنجاستها) مغلظة (من وقت الوقوع إن علم، وإلا فمذ يوم وليلة إن لم ينتفخ ولم يتفسخ…ومذ ثلاثة أيام) بلياليها (إن انتفخ أو تفسخ) استحسانا. وقالا: من وقت العلم فلا يلزمهم شيء قبله، قيل وبه يفتى. وهذا (في حق الوضوء) والغسل؛…أي من حيث إعادة الصلاة يعني المكتوبة والمنذورة والواجبة وسنة الفجر، ملتقطاً “

ترجمہ:اور کنویں کی نجاست مغلظہ کا حکم لگایا جائے گا نجاست واقع ہونے کے وقت سے اگر گرنے کا وقت معلوم ہو اگر معلوم نہ ہو تو ایک دن رات سے نجاست کا حکم ہو گا اگر وہ جانور نہ پھولا نہ پھٹا،۔۔۔اور استحسان کے طور پر تین دن رات کا حکم ہوگا اگر پھولا اور پھٹ گیا۔ اور صاحبین نے کہا کہ جاننے کے وقت سے نجاست کا حکم ہے اس سے پہلے نہیں، کہا گیا کہ اسی پر فتوی ہے۔ اور یہ حکم وضو ،غسل کے بارے ہے ۔ یعنی فرض نذر واجب اور سنت فجر نماز کو دوبارہ پڑھنے کے بارے یہ حکم ہے۔(الدرالمختار و ردالمحتار ، کتاب الطہارۃ، باب المیاہ، فصل في البئر، فرع وجد في ثوبه منيا أو بولا أو دما ،ج 1، ص219-218 دار الفکر بیروت)

سیدی اعلی حضرت امام اہلسنت علیہ رحمۃ رب العزت فرماتے ہیں:

”یہ سب باتیں اُس صورت میں ہیں کہ اُس کے گرنے کا دن اور وقت معلوم ہو اور جو یہ امر متحقق نہ ہوسکے تو کُنواں اُسی وقت سے ناپاک ٹھہرے گا جب سے وہ نال اس میں دیکھا گیا اس سے پہلے کے وضو اور غسل اور نمازیں سب درست اور بدن اور برتن اور کپڑے سب پاک۔“ (فتاوی رضویہ،ج3،ص266،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

بہار شریعت میں ہے:

”کوئیں سے مرا ہوا جانور نکلا تو اگر اس کے گرنے مرنے کا وقت معلوم ہے تو اسی وقت سے پانی نجس ہے اس کے بعد اگر کسی نے اس سے وُضو یا غُسل کیا تو نہ وُضو ہوا نہ غُسل، اس وُضو اور غُسل سے جتنی نمازیں پڑھیں سب کو پھیرے کہ وہ نمازیں نہیں ہوئیں ، یوہیں اس پانی سے کپڑے دھوئے یا کسی اور طریق سے اس کے بدن یا کپڑے میں لگا تو کپڑے اور بدن کا پاک کرنا ضروری ہے اور ان سے جو نمازیں پڑھیں ان کا پھیرنا فرض ہے اور اگر وقت معلوم نہیں تو جس وقت دیکھا گیا اس وقت سے نجس قرار پائے گا۔ اگرچہ پھولا پھٹا ہو اس سے قبل پانی نجس نہیں اور پہلے جو وُضو یا غُسل کیا یا کپڑے دھوئے کچھ حَرَج نہیں، تیسیراً اسی پر عمل ہے۔ “ (بہار شریعت ج1 حصہ دوم ص339-340 مکتبۃ المدینہ)

واللّٰہ تعالی اعلم و رسولہ اعلم باالصواب

محمد شاہد حمید قادری

4رجب المرجب 1445ھ

16 جنوری 2023ء، منگل

اپنا تبصرہ بھیجیں