کفار کن چیزوں کے مکلف ہیں؟
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کفار کن چیزوں کے مکلف ہیں؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب
کفار جن چیزوں کے مکلف ہیں ان کی تفصیل درج ذیل ہے:
(1):کفار ایمان کے بالاتفاق مکلف ہیں اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو سارے انسانوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا تاکہ آپ انہیں ایمان کی دعوت دیں۔
(2): نیز عبادات پر ایمان لانے کے بھی کفار بالاتفاق مکلف ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن انہیں جس طرح ایمان نہ لانے پر عذاب ہوگا ایسے ہی عبادات کے لزوم یعنی لازم ہونے کا عقیدہ نہ رکھنے پر بھی عذاب ہوگا۔
(3): باقی رہا یہ معاملہ کہ دنیا میں عبادات ادا کرنے کے بھی وہ مکلف ہیں یا نہیں اس میں علماء کرام کا اختلاف ہے معتمد، صحیح، راجح اور اکثر علما کا موقف یہ ہے کہ کفار اداء عبادت کے مکلف ہیں اور نصوص کے ظاہر سے بھی اسی موقف کی تائید ہوتی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جن علماء کے نزدیک وہ اداء عبادات کے مکلف ہیں ان کے نزدیک قیامت کے دن انہیں عبادات بجا نہ لانے پر بھی عذاب ہوگا اور جن کے نزدیک مکلف نہیں ان کے نزدیک قیامت کے دن انہیں عبادات بجا نہ لانے پر عذاب نہیں ہوگا۔
اللّٰہ کریم جل جلالہ نے ارشاد فرمایا:
”فِیْ جَنّٰتٍ یَتَسَآءَلُوْنَ. عَنِ الْمُجْرِمِیْنَ. مَا سَلَكَكُمْ فِیْ سَقَرَ.قَالُوْا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَ. وَ لَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِیْنَ. وَ كُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَآىٕضِیْنَ. وَ كُنَّا نُكَذِّبُ بِیَوْمِ الدِّیْنِ“
ترجمۂ کنز العرفان:باغوں میں ہوں گے ۔ وہ پوچھ رہے ہوں گے ۔مجرموں سے۔کون سی چیزتمہیں دوزخ میں لے گئی؟وہ کہیں گے:ہم نمازیوں میں سے نہیں تھے ۔اور مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے۔اور بیہودہ فکر والوں کے ساتھ بیہودہ باتیں سوچتے تھے۔اور ہم انصاف کے دن کو جھٹلاتے رہے۔(پارہ :29،سورۃ المدثر، آیت:40تا46)
تفسیر روح المعانی میں ہے:
”واستدل بالآیۃ علی ان الکفار مخاطبون بفروع العبادات“
ترجمہ: اس آیت سے استدلال کیا گیا ہے کہ کفار فروعی عبادات کے مکلف ہیں۔(تفسیر روح المعانی معانی،تحت الآیۃ:42، ج15،ص 145، دار الکتب العلمیہ بیروت)
اصول سرخسی میں ہے:
”لا خلاف انھم مخاطبون بالایمان لان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم بعث الی الناس کافۃ لیدعوھم بالایمان قال تعالٰی: یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعًا الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ..، فہذا الخطاب منہ یتناولھم لامحالۃ ۔۔۔ولاخلاف ان الخطاب بالشرائع یتناولھم فی حکم المؤاخذۃ فی الآخرۃ لان موجب الامر اعتقادا للزوم و الاداء وہم ینکرون اللزوم اعتقادا وذالک کفر منہم بمنزلۃ انکار التوحید فان صحۃ التصدیق والاقرار بالتوحید لا یکون مع انکار شیئ من الشرائع“
ترجمہ:اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ کفار کو ایمان لانے کا حکم ہے اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو سارے لوگوں کی طرف بھیجا گیا تاکہ اپ انہیں ایمان کی دعوت دیں ارشاد باری تعالی ہے ترجمہ کنز الایمان: تم فرماؤ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں کہ اسمان و زمین کی بادشاہی اسی کو ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں جلائے اور مارے(زندگی اور موت دے) تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر۔ اللہ تعالی کا یہ فرمان مبارک کفار کو بھی بلاشبہ شامل ہے۔۔۔ نیز اس بات میں بھی کوئی اختلاف نہیں کہ مواخذہ اخرت کے حق میں عبادات سے متعلقہ خطابات بھی ان کو شامل ہیں اس لیے کہ حکم خداوندی سے محکوم بہ کے وجوب کے اعتقاد اور ادائیگی کا لزوم دو چیزیں ثابت ہوتی ہیں جبکہ اعتقاد لزوم کے وہ منکر ہیں اور یہ ان کا ویسا ہی کفر ہے جیسا خدا کے ایک ہونے کا انکار کرنا اس لیے کہ رسالت کی تصدیق اور توحید کا اقرار درست تب قرار پاتا ہے جب ضروریات دین میں سے کسی ایک بات کا بھی انکار نہ ہو۔( اصول سرخسی، جلد1، صفحہ 73، دارالمعرفہ بیروت)
المنار اور اسکی شرح افاضۃ الانوار میں ہے:
”(الکفار مخاطبون بالشرائع)ای بالفروع کالصلاۃ و الصوم لکن (فی حکم المؤاخذۃ فی الآخرۃ) فیعاقبون علی ترک اعتقاد وجوبھا (بلاخلاف)“
ترجمہ: (کفار بالاتفاق احکام کے مکلف ہیں) یعنی فروع کے جیسے نماز روزہ لیکن(صرف اخرت میں مواخذہ ہونے کے اعتبار سے) پس احکام شرح کہ وجوب کا اعتقاد نہ رکھنے پر انہیں عذاب ملے گا۔( افاضۃ الانوار مع نسمات الاسحار، صفحہ 60،مطبوعہ کراچی)
مزید لکھا ہے:
”(اما فی وجوب الاداء فی احکام الدنیا فکذالک)یخاطبون فیعاقبون علی ترک الاداء ایضا زیادۃ علی عقوبۃ الکفر“
ترجمہ:( رہا دنیا کے احکام کے لحاظ سے ادائیگی کا وجوب تو اس کے بھی مکلف ہیں) لہذا سزائے کفر میں اضافہ کرتے ہوئے عبادت کی ادائیگی چھوڑنے پر بھی انہیں سزا دی جائے گی۔ ( افاضۃ الانوار مع نسمات الاسحار، صفحہ 60،61، مطبوعہ کراچی)
افاضۃ الانوار شرح المنار میں علامہ علاء الدین حصکفی حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”المعتبر کما حررہ ابن نجیم ما علیہ العراقیون انہم یعاقبون علی ترکھا لان ظاہر النصوص یشہد لھم“
ترجمہ علامہ ابن نجیم مصری رحمہ اللہ نے کے بیان کے مطابق معتمد قول عراقیوں کا ہے کہ کفار کو ترک عبادت پر بھی عذاب ملے گا اس لیے کہ نصوص کا ظاہر اسی کی شہادت یعنی گواہی دیتا ہے۔( افاضۃ الانوار مع نسمات الاسحار، صفحہ 61، مطبوعہ کراچی)
عظیم محقق علامہ شامی رحمہ اللّٰہ تعالٰی تحریر فرماتے ہیں:
”الراجح علیہ الاکثر من العلماء علی التکلیف لموافقتہ لظاہر النصوص فلیکن ہذا ھو المعتمد“
ترجمہ:راجح اکثر علماء کا موقف ہے جس کے مطابق کفار فروع کے مکلف ہیں اس لیے کہ نصوص کے ظاہر کے موافق یہی موقف ہے پس اسی پر اعتماد کرنا چاہیئے۔(نسمات الاسحار، صفحہ 61، مطبوعہ کراچی)
ردالمحتار میں ہے:
”الذي تحرر في المنار وشرحه لصاحب البحر أنهم مخاطبون بالإيمان، وبالعقوبات سوى حد الشرب، والمعاملات وأما العبادات فقال السمرقنديون: إنهم غير مخاطبين بها أداء واعتقادا قال البخاريون: إنهمء غير مخاطبين بها أداء فقط وقال العراقيون إنهم مخاطبون بهما فيعاقبون عليهما وهو المعتمد. اه“
ترجمہ:منار اور صاحب بحر شرح صاحب بحر کی شرح منار کے مطابق وہ یعنی کفارایمان کے مخاطب ہیں ، اور سزاؤں کے سوائے شراب پینے کی حد کے اور معاملات کے، بہرحال جو عبادات ہیں تو سمرقندیوں نے کہا کہ وہ ادا کے اعتبار سے اور اعتقاد کے اعتبار سے اس کے مخاطب نہیں اور بخاریوں نے کہا کہ وہ ادا کے اعتبار سے صرف مخاطب نہیں ہے اعتقاد کے اعتبار سے مخاطب ہے اور عراقیوں نے فرمایا کہ وہ دونوں چیزوں کے مخاطب ہیں ادا کے بھی اور عقیدہ رکھنے کی بھی لہذا دونوں اعتبار سے ان پر سزا مقرر ہوگی اور یہی معتمد قول ہے۔(ردالمحتار، کتاب الجہاد،مطلب في أن الكفار مخاطبون ندبا،ج 4 ،ص128، دار الفکر بیروت)
ردالمحتار میں ہے:
” لأن الصحيح من مذهب أصحابنا أن الكفار مخاطبون بشرائع، وهي محرمات، فكانت ثابتة في حقهم أيضا”
ترجمہ: کیونکہ ہمارے مذہب کا صحیح قول یہ ہے کہ کفار شرائع کا مخاطب ہیں اور وہ محرمات ہیں ، لہذا یہ حرمت ان کے حق میں بھی ثابت ہوں گی۔(ردالمحتار ،کتاب البیوع ،باب المتفرقات،ج 5،ص 228، دار الفکر بیروت)
فتاوی رضویہ میں ہے:
’’صحیح یہ ہے کہ کفار بھی مُکَلَّف بالفروع ہیں۔‘‘
(فتاوی رضویہ، جلد 16، صفحہ 382، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
واللّٰہ تعالیٰ اعلم و رسولہ اعلم باالصواب
صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و بارک و سلم
ابوالمصطفٰی محمد شاہد حمید قادری
21جمادی الاولی1445ھ
6دسمبر2023ء، بروز بدھ