کسی جگہ،چیز یا انسان کو منحوس سمجھنا
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس بارے میں کہ اسلام میں کسی چیز،جگہ اور شخص کو منحوس سمجھنا کیسا ہے جیسے ہمارے یہاں مشہور ہے کہ دو بہنوں کا اکٹھا نکاح منحوس ثابت ہوتا ہے ،تین کونوں والا گھر صحیح نہیں ہوتا، کالی بلی راستہ کاٹ جائے تو درست نہیں ہوتا وغیرہ؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب
صورت مسئولہ کے مطابق کسی بھی جگہ،چیز یا انسان و غیرہ کو منحوس سمجھنا یا اس سے بدشگونی لینا ممنوع ہے کہ یہ کفار کا طریقہ کار اور زمانہ جاہلیت کے لوگوں کا شعار تھا لہذا ان تمام توہمات میں کوئی سچائی نہیں اور بدشگونی لینے سے قرآن وحدیث میں جابجا طور پر منع کیا گیا ہے اور اگر انسان کو کوئی تکلیف بھی پہنچتی ہے تو وہ اس کے اپنے اعمال اور نافرمانیوں کے سبب سے ہوتی ہے ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے
قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
( فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗ اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىٕرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ)
ترجمۂ کنزالایمان: تو جب انہیں بھلائی ملتی کہتے یہ ہمارے لئے ہے اور جب برائی پہنچتی تو موسٰی اور اس کے ساتھ والوں سے بد شگونی لیتے سن لو ان کے نصیبہ کی شامت تو اللہ کے یہاں ہے لیکن ان میں اکثر کو خبر نہیں۔(سورۃ الاعراف، پارہ 9، آیت 131)
تفسیر نعیمی میں ہے :
”جب فرعونیوں پر کوئی مصیبت (قحط سالی وغیرہ) آتی تھی تو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام اور ان کے ساتھی مؤمنین سے بَدشگونی لیتے تھے، کہتے تھے کہ جب سے یہ لوگ ہمارے ملک میں ظاہِر ہوئے ہیں تب سے ہم پر مصیبتیں بلائیں آنے لگیں۔۔۔۔۔“
مفتی صاحب مزید لکھتے ہیں:
”انسان مصیبتوں ، آفتوں میں پھنس کر توبہ کرلیتا ہے مگر وہ لوگ ایسے سَرکش تھے کہ ان سب سے ان کی آنکھیں نہ کُھلیں بلکہ ان کا کُفْروسَرکشی اور زیادہ ہوگئی کہ جب کبھی ہم ان کو آرام دیتے ہیں ، اَرزانی ،چیزوں کی فَراوانی وغیرہ تو وہ کہتے کہ یہ آرام وراحت ہماری اپنی چیزیں ہیں ،ہم اس کے مستحق ہیں نیز یہ آرام ہماری اپنی کوششوں سے ہیں۔“(تفسیر نعیمی، سورۃ الاعراف، پارہ 9، آیت 131 ،جلد 9 ،صفحہ 118، مطبوعہ، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
تفسیر قرطبی میں ہے:
”اچھا شگون یہ ہے کہ جس کام کا اِرادہ کیا ہو اس کے بارے میں کوئی کلام سن کردلیل پکڑنا،یہ اس وَقْت ہے جب کلام اچھا ہو، اگر بُرا ہو تو بَد شگونی ہے۔ شریعت نے اس بات کا حکم دیا ہے کہ انسان اچھا شگون لے کر خوش ہو اور اپنا کام خو شی خو شی پایۂ ِتکمیل تک پہنچائے اور جب بُراکلام سُنے تو اس کی طرف توجُّہ نہ کرے اورنہ ہی اس کے سبب اپنے کام سے رُکے۔“(الجامع لاحکام القراٰن،پارہ 25 الاحقاف، آیت 132، جلد 16، مطبوعہ ،بیروت)
تفسیر نعیمی میں ہے:
”اسلام میں نیک فال لینا جائز ہے، بدفالی بدشگونی لینا حرام ہے۔“(تفسیر نعیمی، سورۃ الاعراف، پارہ 9، آیت 132 ،جلد 9 ،صفحہ 119، مطبوعہ، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
تفسیر صراط الجنان میں ہے:
(فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ:تو جب انہیں بھلائی ملتی۔) فرعونی کفر میں اس قدر راسِخ ہوچکے تھے کہ ان تکلیفوں سے بھی ان کی سرکشی بڑھتی ہی رہی، جب انہیں سرسبزی و شادابی، پھلوں ،مویشیوں اور رزق میں وسعت ، صحت ،آفات سے عافیت و سلامتی وغیرہ بھلائی ملتی تو کہتے یہ توہمیں ملنا ہی تھا کیونکہ ہم اس کے اہل اور اس کے مستحق ہیں۔یہ لوگ اس بھلائی کونہ تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فضل جانتے او ر نہ ہی اس کے انعامات پر شکر اد اکرتے اور جب انہیں ،قحط، خشک سالی، مرض ،تنگی اور آفت وغیرہ کوئی برائی پہنچتی تو اسے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کے ساتھیوں کی نحوست قرار دیتے اور کہتے کہ یہ بلائیں اُن کی وجہ سے پہنچیں ، اگر یہ نہ ہوتے تویہ مصیبتیں نہ آتیں۔(تفسیر صراط الجنان، سورۃ اعراف، پارہ 8، آیت 131،مکتبہ المدینہ، کراچی)
صحیح البخاری میں ہے
”قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ولا عدوی ولا ھامہ ولا صفر فقال اعرابی یا رسول اللہ فما بال الابل تکون فی الرمل لکانھا الظباء فیخالطھا البعیر الاجرب فیجر بھا ؟فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فمن اعدی الاول“
فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ مرض کا اڑ کر لگنا ہے نہ کوئی چیز ہے اور نہ صفر تو ایک دیہاتی نے عرض کیا یارسول اللہ اونٹ کا کیا حال ہے کہ وہ ریگستان میں ہرن کی طرح ہوتا ہے پھر اس سے خارشی اونٹ ملتا ہے تو اسے خارشی کردیتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو پھر پہلے اونٹ کو کس نے خارشی کردیا۔(صحیح البخاری، جلد 2، صفحہ 125، مطبوعہ ،قدیمی کتب خانہ، کراچی)
سنن أبي داود میں ہے
” حدثنا محمد بن المتوكل العسقلاني والحسن بن علي قالا: حدثنا عبد الرزاق أخبرنا معمر عن الزهرى عن أبى سلمة عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « لا عدوى ولا طيرة ولا صفر ولا هامة »‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیماری کے متعدی ہونے کے عقیدے کی کوئی حیثیت نہیں، نہ ہی بدشگونی کی کوئی حیثیت ہے، نہ ماہِ صفر میں نحوست ہے۔(سنن ابو داؤد جلد 4 صفحہ 24 حدیث 3913 مطبوعہ کراچی)
مسند بزار میں ہے
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
”لیس منا من تطیر او تطیرلہ او من تکہن او تکہن لہ او من سحر او سحر لہ“
یعنی جس نے بد شگونی لی یا جس کے لئے بد شگونی لی گئی ،یا جس نے کہانت کی یا جس کے لئے کی گئی ،یا جادو کرنے اور کروانے والا ہم سے نہیں۔ (مسند بزار،اول حدیث عمران بن حصین، جلد 9، صفحہ 52 ،حدیث 3578، مطبوعہ ،بیروت)
سنن ترمذی میں ہے
”عن عبداللہ بن مسعود عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال الطیرہ شرک الطیرہ شرک ثلاثا وما منا الا ولکن اللہ یذھبہ بالتوکل“
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بدشگونی شرک ہے۔بدشگونی شرک ہے۔بدشگونی شرک ہے تین مرتبہ فرمایا اور فرمایا کہ وہ ہم میں سے نہیں مگر وہ کہ جو اللہ عزوجل پر توکل کرے۔(سنن الترمذی ،باب السیر ،حدیث 1614 ،مطبوعہ ،کراچی)
فتح الباری میں ہے
”واصل التطیر إنهم کانوا فی الجاهلية یعتمدون علی الطیر فاذا خرج أحدهم لامرفان رای الطیرطاریمنة تیمن به واستمروان راه طاریسرة تشاء به ورجع وربما کان احدهم الطیر لیتطیر فیعتمدها فجاءالشرع بالنهي عن ذلك “
’’تطیر(بدشگونی)یہ ہے کہ دورجاہلیت میں لوگ پرندوں پراعتمادکرتے اورجب ان میں سے کوئی شخص سفرکے لیے روانہ ہونے لگتاتودیکھتاکہ اگرپرندہ اس کے دائیں جانب اڑاہے تووہ اسے اپنے لیے اچھاسمجھتے ہوئے اپناسفرجاری رکھتااوراگروہ پرندے کوبائیں جانب اڑتے دیکھتاتواس سے براشگون لیتااورسفرموقوف کرکے واپس لوٹ جاتااورکبھی کبھاروہ اس مقصدکے لیے خودپرندے اڑاکراپنی قسمت آزماتے کہ یہ دائیں پروازکرتاہے یابائیں پھرشریعت نے اس عمل کو منع قراردے دیا۔(فتح الباري از علامه ابن حجر عسقلاني،جلد 10،صفحہ 213، مطبوعہ، بیروت)
مشکوٰۃ المصابیح میں ہے:
”اہل عرب کا عقیدہ تھا کہ بیماریوں میں عقل و ہوش ہے جو بیمار کے پاس بیٹھے اسے بھی اس مریض کی بیماری لگ جاتی ہے وہ پاس بیٹھنے والے کو جانتی پہچانتی ہے یہاں اسی عقیدے کی تردید ہے۔موجودہ حکیم ڈاکٹر سات بیماریوں کو متعدی مانتے ہیں: جذام،خارش،چیچک،موتی جھرہ ،منہ کی یا بغل کی بو،آشوب چشم،وبائی بیماریاں اس حدیث میں ان سب وہموں کو دفع فرمایا گیا ہے۔(مرقات و اشعہ)اس معنی سے مرض کا اڑ کر لگنا باطل ہے مگر یہ ہوسکتا ہے کہ کسی بیمار کے پاس کی ہوا متعفن ہو اور جس کے جسم میں اس بیماری کا مادہ ہو وہ اس تعفن سے اثر لے کر بیمار ہوجاوے اس معنی سے تعدی ہوسکتی ہے اس بنا پر فرمایا گیا کہ جذامی سے بھاگو لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں۔غرضکہ عددی یا تعدی اور چیز ہے کسی بیمار کے پاس بیٹھنے سے بیمار ہوجانا کچھ اور چیز ہے۔
اہلِ عرب کا خیال تھا کہ میت کی گلی ہڈیاں الو بن کر آجاتی ہیں اور الو جہاں بول جاوے وہاں ویرانہ ہوجاتا ہے یہ عقیدہ غلط ہے،بعض لوگ کہتے ہیں کہ جس مقتول کا بدلہ نہ لیا جاوے اس کی روح الو کی شکل میں آکر لوگوں سے کہتی ہےاسقو،اسقومجھے پانی پلاؤ یہ سب باطل خیالات ہیں۔“ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، جلد6 ، حدیث نمبر:4577، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
ارشاد باری تعالیٰ ہے
(وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ)
اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ تمہارے ہاتھوں کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہے اور بہت کچھ تووہ معاف فرمادیتا ہے۔
(سورۃ شوری آیت نمبر 30 پارہ 25)
تفسیر صراط الجنان میں ہے
”{وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ: اور تمہیں جو مصیبت پہنچی۔} اس آیت میں ان مُکَلَّف مومنین سے خطاب ہے جن سے گناہ سرزد ہوتے ہیں اور مراد یہ ہے کہ دنیا میں جو تکلیفیں اور مصیبتیں مومنین کو پہنچتی ہیں اکثراُن کا سبب ان کے گناہ ہوتے ہیں ،اُن تکلیفوں کو اللہ تعالیٰ اُن کے گناہوں کا کفارہ کردیتا ہے اور کبھی مومن کی تکلیف اس کے درجات کی بلندی کے لئے ہوتی ہے۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں پر آنے والی مصیبتوں کا ایک سبب ان کا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہ کرنا ہے،اگر یہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے رہیں تو مصیبتوں سے بچ سکتے ہیں۔“(تفسیر صراط الجنان ،سورۃ شوری، آیت نمبر 30، پارہ 25، مکتبہ المدینہ، کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
ممبر فقہ کورس
20جمادی الاول 1445ھ05دسمبر 2023ء