کان میں دودھ ڈالنے سے حرمت رضاعت کا حکم

کان میں دودھ ڈالنے سے حرمت رضاعت کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی عورت نے مدت رضاعت میں بچے کے کان میں دودھ ڈالا تو کیا حکم ہو گا ؟ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ کان میں دودھ ڈالنا ایسا ہی جیسے منہ میں دودھ ڈالنا تو اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں کہ کیا کان میں دودھ ڈالنے سے رضاعت ثابت ہو جائے گی؟

بسم الله الرحمن الرحيم

الجواب: بعون الملك الوهاب اللهم هداية الحق والصواب

اگر کوئی عورت مدتِ رضاعت میں بچے کے کان میں اپنا دودھ ڈال دے تو اس سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہو گی۔

اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ بچے کے جسم میں مطلقا دودھ داخل ہونے سے رضاعت کا حکم ثابت نہیں ہوتا البتہ جب دودھ ایسے طریقے سے مدتِ رضاعت میں(یعنی ڈھائی سال کے اندر اندر) بچے کے جسم میں داخل ہو جو بطورِ غذا استعمال ہو، اور بچے کی نشوونما وافزائش کا سبب بنے تو اس صورت میں رضاعت کا حکم ثابت ہوتا ہے کیونکہ رضاعت وہی ہے جو گوشت پیدا کرے اور ہڈیوں کو بڑھائے۔ ورنہ حرمت رضاعت نہیں۔ کان میں منفذ (سوارخ) ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں علماء جدیدومتاخرین کا اختلاف ہے، علماءِ قدیم اس وقت کی طبی ریسرچ کے مطابق کان میں منفذ کے قائل تھے اور ان کے نزدیک یہ ہے کہ کان میں تیل وغیرہ ڈالا تو وہ تیل اس منفذ سے گزر کر جوف معدہ تک پہنچ جائےگا اور روزہ ٹوٹ جائے گا (کیونکہ روزے کا ٹوٹنا صرف غذائیت پر موقوف نہیں) لیکن بچے کے کان میں دودھ ڈالنے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہو گی کیونکہ یہ طریقہ ایسا نہیں جس سے غذائیت حاصل ہوتی ہو یا جسمانی نشوونما ہوتی ہو جبکہ فی زمانہ جدید ماہرین علمائے جمہور کی طبی ریسرچ یہ ہے کہ کان میں منفذ ہی نہیں۔لہذا بدرجہ اولی بچے کے کان میں عورت کا دودھ ڈالنے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہو گی۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

”ولا يثبت بالإقطار في الأذن والحقنة والإحليل والدبر والآمة والجائفة وإن وصل إلى الجوف والدماغ“

ترجمہ: اور کان میں دودھ ٹپکانے ،حقنہ میں استعمال کرنے سے اور دبر اور سوراخ ذکر میں ٹپکانے سے اور زخم اورپیٹ میں ڈالنے سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی ہے اگرچہ پیٹ یا دماغ تک پہنچ۔(الفتاوی الھندیة ، کتاب الرضاع، جلد1، صفحہ344، دار الفکر بیروت)

البحر الرائق میں ہے:

”وصول اللبن من ثدي المرأة إلى جوف الصغير من فمه أو أنفه. وقيدنا بالفم، والأنف ليخرج ما إذا وصل بالإقطار في الأذن، والإحليل، والجائفة، والآمة وبالحقنة في ظاهر الرواية“

ترجمہ: دودھ کا عورت کے پستان سے بچے کے پیٹ میں جانا اس کے منہ یا ناک کے ذریعے سے پس منہ اور ناک کی قید لگانے سے یہ سب خارج ہوگئے کہ اگر دودھ کے قطرے کان سے، سوراخ سے، پیٹ اور زخم سے، یا حقنہ سے ٹپکائے تو رضاعت ثابت نہیں ہوتی اور یہی ظاہر الروایہ ہے۔( البحر الرائق، کتاب النکاح، باب الرضاع، جلد3، صفحہ238، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت)

مبسوط للسرخسی میں ہے:

”بلغنا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال : «يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب» وذكر عروة عن عائشة رضي الله عنهما هذا الحديث قال: «يحرم بالرضاع ما يحرم بالولادة»، وفيه دليل على أن الرضاع من أسباب التحريم، وأنه بمنزلة النسب في ثبوت الحرمة؛ لأن ثبوت الحرمة بالنسب الحقيقة البعضية أو شبهة البعضية، وفي الرضاع شبهة البعضية بما يحصل بالدين الذي هو جزء الآدمية في إنبات اللحم وإنشاز العظم وإليه أشار رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : «الرضاع ما أنبت اللحم وأنشر العظم »“

ترجمہ : ہمیں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے حدیث پہنچی ہے کہ آپ نے فرمایا: رضاعت سے وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔ حضرت عروہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کی ہے کہ ولادت سے جو رشتے حرام ہو جاتے ہیں، رضاعت سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں۔ اس حدیث میں اس بات پر دلیل ہے کہ رضاعت تحریم کے اسباب سے ہے۔ حرمت کے ثبوت میں یہ نسب کے درجے میں ہی ہے۔ کیونکہ نسب کے ذریعے حرمت کا ثبوت بعضیت ( جزء ہونے کی حقیقت یا شبہ کی وجہ سے ہے اور رضاعت میں بھی بعضیت کا شبہ (گوشت اور ہڈیوں کی نشو و نما کے ذریعے ) اس دودھ سے ثابت ہو جائے گا جو کسی عورت کا جزء ہو۔ اسی کی طرف رسول اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم اشارہ فرمایا ہے۔ چنانچہ فرمایا : (حرام کرنے والی) رضاعت وہ ہے جو گوشت پیدا کرے اور ہڈیوں کو بڑھائے۔(المبسوط للسرخسی، جلد 5، صفحه 132، دار المعرفة، بيروت)

مبسوط میں مزید ہے:

” (قال:) والسعوط والوجور يثبت الحرمة؛ لأنه مما يتغذى به الصبي، فإن السعوط يصل إلى الدماغ فيتقوى به والوجور يصل إلى الجوف فيحصل به إنبات اللحم وإنشار العظم، فأما الإقطار في الأذن لا يوجب الحرمة؛ لأن الظاهر أنه لا يصل إلى الدماغ لضيق ذلك الثقب — ولكنا نقول : ليس الموجب للحرمة عين الوصول إلى الجوف بل حصول معنى الغذاء ليثبت به شبهة البعضية، وذلك إنما يحصل من الأعالي لا من الأسافل“

ترجمہ:سقوط اور وجور سے حرمت رضاعت ثابت ہو جائے گی۔ کیونکہ یہ ان چیزوں سے ہے، جن سے بچہ غذا حاصل کرتا ہے۔ کیونکہ سعوط کے ذریعے چیز دماغ تک پہنچتی ہے اور اس کے ذریعے دماغ قوت حاصل کرتا ہے۔ جبکہ وجور کے ذریعے چیز جوف (معدے) تک جاتی ہے۔ پس اس سے گوشت اور ہڈیوں کی نشو و نما حاصل ہوتی ہے۔ بہر حال کان میں دودھ کے قطرے ٹپکانا تو یہ حرمت ثابت نہیں کریں گے۔ کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ کان کے سوراخ کی تنگی کی وجہ سے یہ دودھ دماغ تک نہیں پہنچے گا۔۔ لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ رضاعت کی حرمت کے لئے دودھ کا جوف تک پہنچنا کافی نہیں۔ بلکہ غذائیت کے معنی کا حصول ضروری ہے، تاکہ غذائیت کے ذریعے بعضیت کا شبہ ثابت ہو اور یہ غذائیت اوپر سے آنے والے دودھ سے حاصل ہوتی ہے نہ کہ نیچے سے اوپر جانے والے دودھ سے۔ (المبسوط للسرخسي، جلد 5، صفحہ 134-35، دار المعرفة، بيروت)

فتح القدیر اور تبیین الحقائق میں ہے: ( واللفظ للاول):

”وكذا في الأذن لضيق الثقب، وفيه نظر لتصريحهم بالفطر بإقطار الدهن في الأذن السريانه فيصل إلى باطنه ولا يمنعه ضيق. والأوجه كونه ليس مما يتغذى به وينبت وإن حصل به رفق من ترطيب ونحوه، والمفسد في الصوم لا يتوقف عليه كما في الحصى والحديد، والوجور والسعوط تثبت به الحرمة اتفاقا“

ترجمہ:کان میں دودھ ڈالنے سے سوراخ کی تنگی کی وجہ سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہو گی۔ اس میں نظر ہے۔ کیونکہ فقہا کی صراحت ہے کہ کان میں تیل کے قطرے ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔ کیونکہ یہ یہ کر اندر تک پہنچ جائے گا۔ سوراخ کا تنگ ہونا پہنچنے سے مانع نہیں ہو گا۔ لہذا اوجہ جواب یہ کہنا ہے کہ یہ طریقہ ایسا نہیں ہے جس سے غذائیت حاصل ہوتی ہو یا نشو و نما ہوتی ہو ؟ بھلے اس سے تھوڑی بہت تری حاصل ہو جاتی ہو ۔ جبکہ روزے کا ٹوٹنا غذائیت پر موقوف نہیں ہے جیسا کہ کنکری یا لوہا اندر جانے کی صورت میں (روزہ فاسد ہو جاتاہے۔) وجور اور سقوط کے ساتھ حرمت کا ثابت ہو نا بالا تفاق ہے۔ (فتح القدیر جلد 3، صفحه 456، دار الفکر بیروت)

بہار شریعت میں صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

”عورت کا دودھ اگر حقنہ سے اندر پہنچایا گیا یا کان میں ٹپکایا گیا یا پیشاب کے مقام سے پہنچایا گیا یا پیٹ یا دماغ میں زخم تھا اس میں ڈالا کہ اندر پہنچ گیا تو ان صورتوں میں رضاع نہیں۔“(بہار شریعت، جلد2، صفحه36، مكتبه المدينه، کراچی)

واللہ و رسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ

بابر عطاری مدنی اسلام آباد

28جمادی الاخری1445ھ/11جنوری202

اپنا تبصرہ بھیجیں