ویل چیئر پر طواف و سعی کرنا

ویل چیئر پر طواف و سعی کرنا

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس بارے میں اس بارے میں کہ وہیل چیئر پر طواف اور سعی کرنے کا کیا حکم ہے اور کیا اگر کسی کو وہیل چیئر پر طواف یا سعی کروائی تو کروانے والے کا طواف ہو جائے گا؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب

صورت مسئولہ کے مطابق وہیل چیئر پر صرف عذر کی بناء پر ہی طواف وسعی کرسکتے ہیں اور بغیر عذر کہ اگر وہیل چیئر پر کل یا اکثر چکر طواف یا سعی کے کرے تو اس پر دم واجب ہوگا اور اگر دونوں رکن وہیل چیئر پر کئے تو دو دم واجب ہونگے اگر مکہ میں رہ کر واپسی اعادہ کرلیا تو دم ساقط ہو جائے گے اور اعادہ نہیں کیا گھر واپس آگیا تو بدستور دم قائم ہونگے جن کو ادا کرنا ہوگا اور اگر کسی نے وہیل چیئر پر کسی کو طواف یا سعی کروائی اور اس میں اپنے طواف یا سعی کی نیت بھی کی تو اس کا بھی طواف و سعی ادا ہو جائے گا اگرچہ اس کو اجرت پر رکھا گیا ہو اس طرح حامل اور محمول دونوں کا رکن ادا ہو جائے گا اور وہ اجرت کا بھی مستحق ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے

” ولو طاف راكبا أو محمولا أو سعى بين الصفا والمروة راكبا أو محمولا إن كان ذلك من عذر يجوز ولا يلزمه شيء، وإن كان من غير عذر فما دام بمكة فإنه يعيد، وإذا رجع إلى أهله فإنه يريق لذلك دما عندنا كذا في المحيط “

ترجمہ :اگر کسی نے طواف یا صفا و مروہ کی سعی اس حالت میں کی کہ سواری پر سوار تھا یا کسی نے اسے اٹھایا ہوا تھا ،تو اگر یہ عذر کی وجہ سے کیا تو جائز ہے اور اس پر کچھ بھی لازم نہیں ہوگا اور اگر بغیر عذر ایسا کیا تو جب تک مکہ میں ہے ان کا اعادہ کرے اور اگر اپنے اہل کی طرف لوٹ آیا تو ہمارے نزدیک اس کی وجہ سے دم دے،یونہی محیط میں ہے۔(فتاوی ہندیہ،کتاب الحج،ج 1،ص 247،دار الفکر،بیروت)

فتاویٰ تاتار خانیہ میں ہے

”و لو طاف بالبيت محمولا أو راكبا أو سعى بين الصفا و المروة راكبا أو محمولا إن كان ذلك بعذر جاز و لا يلزمه شيء و إن كان بغير عذر فما دام بمكة يعيد و ان رجع إلى أهله يريق لذلك دما عندنا“

ترجمہ:اگر کسی نے طواف یا صفا و مروہ کی سعی اس حالت میں کی کہ سواری پر سوار تھا یا کسی نے اسے اٹھایا ہوا تھا ،تو اگر یہ عذر کی وجہ سے کیا تو جائز ہے اور اس پر کچھ بھی لازم نہیں ہوگا اور اگر بغیر عذر ایسا کیا تو جب تک مکہ میں ہے ان کا اعادہ کرے اور اگر اپنے اہل کی طرف لوٹ آیا تو ہمارے نزدیک اس کی وجہ سے دم دے۔ (الفتاوى التاتارخانية کتاب الحج ، جلد 3 ، صفحہ 503 ، مطبوعہ بیروت)

لباب المناسک میں ہے

”ولو سعی کلہ او اکثرہ راکبا او محمولا بلا عذر فعلیہ دم،وان کان بعذر فلا شئ علیہ“

ترجمہ: اگر کسی نے بلاعذر کُل یا اکثر سعی اس حالت میں کی کہ سواری پر سوار تھا یا کسی نے اسے اٹھایا ہوا تھاتو اس پر دم لازم ہوگا،اور اگر عذر کی وجہ سے کی تو کچھ لازم نہیں۔(لباب المناسک،فصل فی الجنایۃ فی السعی،ص 218، دار قرطبہ،بیروت)

بہار شریعت میں ہے:

”سعی میں پیدل چلنا واجب ہے جب کہ عذر نہ ہو، لہٰذا اگر سواری یا ڈولی وغیرہ پر سعی کی یا پاؤں سے نہ چلا بلکہ گھسٹتا ہوا گیا تو حالتِ عذر میں معاف ہے اور بغیر عذر ایساکیا تو دَم واجب ہے۔“(بہار شریعت، ج1، ص1109،مکتبۃ المدینہ،کراچی)

فتویٰ ھندیہ میں ہے

”ومن طیف بہ محمولا اجزا ذلک الطواف الحامل والمحمول جمیعا ۔۔۔او کان الحامل طواف للعمرہ والمحمول طواف الحج او بالعکس ۔۔۔۔استاجروا رجال فحملوا فحملوا امراہ فطافوا بھا ونووا الطواف اجزاھم ولھم الاجرہ واجزاء المراہ“

ترجمہ:اور اگر کسی کو اٹھا کر طواف کروادیں تو اٹھانے والے کا اور جس کو اٹھایا ہے دونوں کا طواف ہو جائے گا ۔۔۔اگرچہ اٹھانے والا طواف عمرہ کا کرتا ہوں اور جس کو اٹھایا ہو وہ حج کا طواف کرتا ہوں یا اس کے برعکس ہو۔

اگر کچھ لوگوں کو اجرت دی اور انہوں نے طواف کی نیت کرکے ایک عورت کو اٹھا کر طواف کرایا تو ان کا طواف بھی ادا ہوگیا اور ان کی اجرت بھی لازم ہوگی اور عورت کا بھی طواف ہوگیا۔(فتاوی ہندیہ،کتاب الحج،ج 1،ص 261،دار الفکر،بیروت)

بہار شریعت میں ہے :

”مریض کو طواف کرایا اور اپنے طواف کی بھی نیت ہے تو دونوں کے طواف ہوگئے اگرچہ دونوں کے دو قسم کے طواف ہوں ۔ “(بہار شریعت، جلد 1 ،حصہ 6، صفحہ 1107 ،مکتبہ المدینہ کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

بنت عثمان

12رجب المرجب 1445ھ24جنوری 2024ء

اپنا تبصرہ بھیجیں