نعت خوانی پر ایک اعتراض کا جواب

نعت خوانی پر ایک اعتراض کا جواب

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ کسی نے ایک حدیث پاک بیان کی تھی کہ ”ایک بار حضرت عمر ﷜ حضرت حسان بن ثابت ﷜کے پاس سے گزرے جبکہ وہ مسجد میں شعر پڑھ رہے تھے حضرت عمر ﷜نے (گھور کر) ان کی طرف دیکھا۔“ اس پر اعتراض کیا کہ اس دور میں نعت خوانی اتنی زیادہ نہیں ہوتی تھی، کبھی کبھار دو چار صحابہ میں بیٹھ کر حسان بن ثابت ﷜نے ایسی کوئی بات کہی ہوگی، کیوں کہ اگر نعت خوانی اتنی زیادہ ہوتی یا صحابہ کرام اسے پسند فرماتے تو حضرت عمر ﷜کو بھی اس کا پتہ ہوتا۔ کیا اس شخص کا یہ کہنا درست ہے؟ اگر نہیں تو براہ کرم مدلل جواب عطا فرمائیں۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحيم

الجواب بعون الملك الوهاب اللّٰهم هداية الحق و الصواب

معترض کا یہ اعتراض ہرگز درست نہیں، نیز اس حدیث سے یہ استدلال بھی سراسر باطل ہے۔ یقیناً معترض کو اس حدیث پاک کے اصل ماخذ اور محمل کا، نیز اس کے مختلف الفاظ اور اس پر محدثین کے کلام کا علم نہیں ہوگا، جس کے باعث حدیث پاک کے سیاق و سباق سے بے خبر رہ جانے کی وجہ سے یہ اعتراض پیدا ہوا، کیونکہ یہ سب جاننے والا ہرگز ایسا باطل اعتراض پیش نہیں کر سکتا۔ اور اگر اسے ان سب چیزوں کا علم ہے پھر بھی یہ بات کرتا ہے تو شانِ رسالت ﷺ سے تنگ نظری اور امت میں فتنہ پیدا کرنے کے سوا، اسے کس چیز کا نام دیا جا سکتا ہے؟ حالانکہ اللہ تبارک وتعالی کا ارشاد ہے: ﴿وَالْفِتْنَۃُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ﴾ترجمہ: اور فتنہ قتل سے زیادہ شدید ہوتا ہے۔ (پارہ 2، سورۃ البقرۃ2، آیت نمبر 191)

اور ارشادِ رسول کریم ﷺ ہے:”‌الفتنة نائمة لعن الله من أيقظها“ ترجمہ: فتنہ سو رہا ہے اس کے جگانے والے پر اللہ پاک کی لعنت۔

(جمع الجوامع، جلد نمبر 4، صفحہ نمبر 86، حدیث نمبر 11511، مطبوعه: الأزهر الشريف، القاهرة)

معترض کی مستدل حدیث

اس اعتراض کے کچھ جواب مع دلائل رقم کیے جاتے ہیں، تاکہ بھولے بھالے مسلمان فتنہ انگیز افراد سے بچ سکیں نیز تشفی چاہنے والوں کی تشفی کا سامان ہو سکے۔ اس سے قبل سوال میں مشیر حدیث پاک کا اصل متن مع ترجمہ پیش کیا جاتا ہے۔ چنانچہ حضرت سیدنا سعید بن مسیب﷫ نے فرمایا:”مر عمر بحسان بن ثابت ، وهو ينشد في المسجد، فلحظ إليه فقال: قد أنشدت، ‌وفيه ‌من ‌هو ‌خير ‌منك، ثم التفت إلى أبي هريرة فقال: أسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: أجب عني، اللهم أيده بروح القدس قال: اللهم نعم“ ترجمہ: حضرت عمر ﷜حضرت حسان بن ثابت ﷜کے پاس سے گزرے، اس حال میں کہ حضرت حسان بن ثابت ﷜مسجد میں شعر پڑھ رہے تھے، تو حضرت عمر ﷜نے آپ ﷜کی طرف گوشۂ چشم سے دیکھا۔ حضرت حسان بن ثابت ﷜نے فرمایا: بلاشبہہ میں مسجد میں(تب بھی) شعر پڑھتا تھا جبکہ اس میں آپ سے بہتر ہستی موجود ہوتی۔ پھر انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ﷜کی طرف مڑ کر کہا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ (اے حسان!) میری طرف سے جواب دو۔ اے اللہ! روح قدس کے ساتھ حسان کی مدد فرما۔ حضرت ابو ہریرہ ﷜نے فرمایا: ہاں۔

(سنن النسائی، جلد نمبر 2، صفحہ نمبر 48، حدیث نمبر 716، مطبوعه: المكتبة التجارية الكبرى بالقاهرة)

نعت خوانی بہترین عمل ہے

بلا شبہہ نعت خوانی اعلی افعال میں سے ایک ہے، ہر حقیقی مسلمان نبی پاک ﷺ کی تعریف و توصیف بیان کرنے اور آپ ﷺ کی شان میں قصائد پڑھنے کو مستحسن جانتا ہے، اور کیوں نہ جانے؟ جبکہ اس پیارے فعل کا ثبوت نبی کریم ﷺ کے دور مبارک سے آج تک متواتر چلتا آ رہا ہے۔ صحابہ کرام و تابعین عظام، آئمہ مجتہدین، اولیائے کاملین اور علمائے و بزرگان دین کا ہمیشہ سے یہ معمول رہا ہے کہ اپنی محافل و مجالس میں نبی کریم ﷺ کی شان میں قصیدے پڑھتے اور ثنا خوانی کرتے ہیں۔ اگر نعت خوانی کے جواز پر صریح جزئیات و دلائل منقول نہ بھی ہوتے، تب بھی اس کے جواز کو اتنا ہی کافی تھا کہ شریعت مطہرہ نے اس سے منع نہیں فرمایا، اور جس کام سے شریعت منع نہ کرے وہ اصلاً جائز ہوتا ہے۔ نیز ہر عاشق اپنے محبوب کا ذکر کرنے میں لذت ہی محسوس کرتا ہے اور اسے اپنے محبوب کی شان کا بیان کرنا ، سننا اور اس کی کثرت کا ہونا نہایت دلعزیز ہوا کرتا ہے۔ بے شک ہر مسلمان اپنے نبی ﷺ سے بے پناہ محبت کرتا ہے اور کیوں نہ کرے! کہ یہ ایمان کامل کا تقاضہ ہے۔ جیسا کہ صحیح بخاری شریف کی حدیث پاک میں ہے: ”قال النبي صلى الله عليه وسلم:‌لا ‌يؤمن ‌أحدكم ‌حتى ‌أكون أحب إليه من والده وولده والناس أجمعين“ ترجمہ: نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی مؤمن نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ میں اسے اس کے ماں باپ، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب ہو جاؤں۔

(صحیح بخاری، كتاب الإيمان، جلد نمبر 1، صفحہ نمبر 14، حدیث نمبر 15، مطبوعه: دار ابن كثير)

جب یہ محبت ایمان کا تقاضہ ہے اور نعت خوانی کو پسند کرنا اور اس کی کثرت کا بھانا، اس محبت کا تقاضہ ہے تو پھر اعتراض کیوں اور کیسا؟ اس تناظر میں تو معترض کو اپنے ایمان پر نظر کرنی چاہیے۔ کہتے ہیں:” عاقلاں را اشارہ کافی اسْت“ یعنی عقلمند کو اشارہ ہی کافی ہے۔ خیر یہاں مقصود نعت خوانی کا اثبات نہیں، محض معترض کا جواب ہے، نعت خوانی پر دلائل دیکھنے کے لیے مستند علمائے کرام کی کتب کی طرف رجوع کیا جائے۔

معترض کے اعتراض پر معروضات

معترض اس حدیث پاک سے یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ ” دور رسالت ﷺ میں نعت خوانی اتنی زیادہ نہیں ہوتی تھی، کبھی کبھار دو چار صحابہ میں بیٹھ کر حسان بن ثابت ﷜ نے بطور نعت کوئی بات کہی ہوگی، کیوں کہ اگر نعت خوانی اتنی زیادہ ہوتی یا صحابہ کرام اسے پسند فرماتے تو حضرت عمر ﷜ کو بھی اس کا پتہ ہوتا۔” پس جیسا کہ ابتدائے جواب میں عرض کیا جا چکا کہ اس حدیث پاک سے اس قسم کی باتوں پر استدلال سراسر باطل و بے بنیاد ہے۔

اولاً تو یہ کہ دور رسالت مآب ﷺ میں کتنی نعت خوانی ہوتی تھی اور کتنی نہیں، کم ہوتی تھی یا زیادہ، اس کے متعلق اللہ پاک اور اس کے پیارے حبیب ﷺ کے بعد اُس دور والے ہی بہتر جانتے ہیں، بغیر کسی پختہ دلیل کے محض خود سے یہ کہنا کہ کم ہوتی تھی بالکل غلط ہے۔ ہر صاحب نظر شخص پر یہ واضح ہے کہ اس حدیث پاک میں ایسی کوئی بات نہیں کہ جس سے اس قسم کی کسی بات پر دلیل پکڑی جا سکے۔ اس کے برعکس صحابہ کرام ﷢کے اقوال و افعال اور ان کی محبت کے واقعات تو یہ بتاتے ہیں کہ نعت خوانی کا سلسلہ نبی پاک ﷺ کے دور مبارک ہی سے بدستور اور مسلسل چلتا چلا آ رہا ہے۔ شاید اس بات سے معترض کو مغالطہ لگ رہا ہو مروجہ شعر و شاعری ہی نعت خوانی ہے؟ چنانچہ پہلی بات تو یہ سمجھنے والی ہے کہ ہر خطے اور زمانے میں نعت گوئی کے انداز مختلف رہے ہیں، کہیں اشعار پر زیادہ زور تو کہیں نثر پر زیادہ میلان۔ یہ واضح رہے کہ اشعار ہی سے نعت خوانی نہیں ہوتی بلکہ نثر میں بھی ثنا خوانی معروف و مشہور ہے، اس نظر سے کتب سیرت دیکھیں تو ثنا خوانی سے مالا مال ملیں گی۔ دوسری بات یہ کہ اس دور میں بھی اشعار کی صورت میں نعت خوانی ہوتی تھی۔ متعدد صحابہ کرام سے کئی اشعار نبی مکرم ﷺ کی شان میں بیان کرنا ثابت بلکہ خود نبی کریم ﷺ کا انہیں پسند فرمانا بھی ثابت ہے۔ مزید برآں، کاش! معترض نے حدیث پاک کی کتب میں نبی کریم ﷺ کے فضائل و کمالات کے ابواب کا مطالعہ کیا ہوتا، تو کبھی یہ بات کرنے کی جرات نہ کرتا۔

چنانچہ امام احمد بن حنبل نے مسند میں، امام بخاری نے الادب المفرد میں، امام ابن ابی شیبہ نے المصنف میں، امام طبرانی نے معجم کبیر میں، امام بیہقی نے شعب الایمان میں، حدیث پاک نقل کی: واللفظ للاول ”عن ‌الأسود ‌بن ‌سريع، قال: قلت: يا رسول الله، إني قد مدحت الله بمدحة ومدحتك بأخرى. فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ” هات، وابدأ بمدحة الله عز وجل “ ترجمہ: حضرت اسود بن سریع ﷜سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں عرض کیا : یا رسول اللہ! بے شک میں نے اللہ پاک کی حمد بیان کی ہے اور آپ ﷺ کی نعت بیان کی ہے۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: لاؤ (مجھے بھی سناؤ) اور اللہ﷯کی حمد سے ابتدا کرو۔

(مسند امام احمد بن حنبل، جلد نمبر 26، صفحہ نمبر 227، حدیث نمبر 16300، مطبوعه: مؤسسة الرسالة)

امام طبرانی المعجم الکبیر میں، امام حاکم المستدرک میں حدیث مبارکہ لائے: ”قال خريم بن أوس بن حارثة بن لام: كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال له العباس بن عبد المطلب رحمه الله يا رسول الله: إني أريد أن أمدحك، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: هات لا يفضض الله فاك، فأنشأ العباس يقول:…وأنت ‌لما ‌ولدت ‌أشرقت … الأرض وضاءت بنورك الأفق …فنحن في الضياء وفي النور … وسبل الرشاد نخترق“ ترجمہ: حضرت خریم بن اوس بن حارثہ بن لام ﷜نے بیان کیا کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے خدمت میں موجود تھے تو حضرت عباس بن عبد المطلب ﷜نے آپ ﷺ کی بارگاہ میں عرض کی : یا رسول اللہ! میں آپ کی نعت گوئی کرنا چاہتا ہوں تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا : لاؤ، (اور نبی پاک ﷺ نے انہیں اس عمدہ کلام پر دعا سے نوازا کہ) اللہ پاک تمہارے دانت صحیح و سالم رکھے!۔ پس حضرت عباس ﷜نے اشعار پڑھنا شروع کیے: (جن میں سے یہ بھی تھے) “اور آپ ﷺ وہ ہستی ہیں کہ جب آپ کی ولادت ہوئی تو ساری زمین تاباں ہوگئی، اور آپ ﷺ کے نور سے افق روشن ہو گیا، پس ہم اسی روشنی اور نور میں ہیں، اور ہم (آپ ﷺ کی یہی عطا کردہ روشنی اور آپ ہی کے نور میں) ان ہدایت کی راستوں پر گامزن ہیں۔ (المعجم الكبير للطبراني، جلد نمبر 4، صفحہ نمبر 213، حدیث نمبر 16300، مطبوعه: مكتبة ابن تيمية القاهرة)

ثانیاً یہ اعتراض کہ “کبھی کبھار دو چار صحابہ میں بیٹھ کر حسان بن ثابت نے بطور نعت کوئی بات کہہ دی ہوگی” یہ معترض کی کم علمی اور احادیث مبارکہ کے ذخیرہ سے نا واقفی کا ثبوت ہے۔ یوں ہی یہ معترض کے عربی سے نابلد ہونے کا بھی پتہ دیتا ہے۔ پہلی بات یہ کہ کبھی کبھار دو چار صحابہ کے درمیان کی بات کیا کرنی، خود نبی مکرم ﷺ کا حضرت حسان بن ثابت ﷜کے لیے ممبر بچھوانا ثابت ہے جس پر کھڑے ہو کر آپ﷜ نبی کریم ﷺ کی شان بیان فرماتے۔ جب خود پیارے آقا ﷺ کا نعت سننا لوگوں کو سننے کا حکم دینا اور اس پر حضرت حسان ﷜ وغیرہ صحابہ کرام کو دعا دینا وغیرہ سب ثابت تو پیچھے کیا بچتا ہے؟ دوسری بات یہ کہ حضرت حسان بن ثابت ﷜کے متعلق ممبر بچوانے والی حدیث پاک کے عربی الفاظ پر ہی غور کر لیتے تو یہ اعتراض جنم ہی نہ لیتا بشرطیکہ عربی قواعد و ضوابط اور اسلوب عرب سے واقفیت ہوتی۔ حدیث پاک کے الفاظ”کان يضع“ کے ہیں، عربی کا مبتدی طالب علم بھی جانتا ہے کہ فعل مضارع کا صیغہ جب فعل ناقص کان کے ساتھ استعمال ہو تو وہ ماضی میں استمرار کا معنی دیتا ہے یعنی ماضی میں کسی کام کے مسلسل پائے جانے پر دلالت کرتا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ کبھی کبھار نہیں بلکہ مسلسل یہ نعت خوانی کا سلسلہ ہوتا رہا۔

چنانچہ امام ترمذی نے جامع ترمذی میں، امام حاکم نے المستدرک میں، امام ابو داؤد نے سنن میں، امام احمد بن حنبل نے مسند میں، امام ابو یعلی نے اپنی مسند میں، امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں اور علامہ محمد خطیب تبریزی نے مشکوۃ میں روایت کیا،حضرت عائشہ صدیقہ ﷞ نے فرمایا: واللفظ للأول”كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌يضع ‌لحسان ‌منبرا في المسجد يقوم عليه قائما، يفاخر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، أو قالت: ينافح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، ويقول رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله يؤيد حسان بروح القدس ما يفاخر، أو ينافح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم “ ترجمہ: رسول اللہ ﷺ حسان بن ثابت انصاری ﷜کے لئے مسجد اقدس میں منبر بچھوایا کرتے، حضرت حسان ﷜ اس کے اوپر کھڑے ہو کر رسول اللہ ﷺ کے فضائل و مفاخر بیان کرتے، یا حضور ﷺ کی طرف سے مطاعن کفار کا رد کرتے۔ اور رسول اللہ ﷺ فرماتے: جب تک حسان رسول اللہ ﷺ کی طر ف سے اس مفاخرت یا مدافعت میں مشغول رہتا ہے اللہ ﷯ جبریل امین کے ذریعے اس کی مدد فرماتا ہے۔

(جامع ترمذي، جلد نمبر 4، صفحہ نمبر 528، حدیث نمبر 2846، مطبوعه: دار الغرب الإسلامي بيروت)

اس حدیث پاک کی شرح میں ہے: ” (فرمایا: منبر بچوایا کرتے)حضور کی نعت شریف پڑھنے کے لیے یا مشرکین عرب کی ہجو کرنے کے لیے۔ سبحان اللہ! کیا تقدیر ہے حضرت حسان(﷜) کی کہ حضور انور (ﷺ) کی مجلس مبارک میں مسجد نبوی شریف میں آپ کو منبر عطا ہو رہا ہے، نعت خوانی نعت گوئی اللہ کی رحمت ہے بشرطیکہ مقبول ہو۔ (فرمایا: فخر کرتے) یعنی حضور (ﷺ) کی تشریف آوری اور خود اپنے کو حضور (ﷺ) کی اتباع نصیب ہونے پر فخر کرتے تھے۔…یا مشرکین سے حضور (ﷺ) کا بدلہ لیتے تھے کہ ان کی ہجو کرتے تھے، حضور انور (ﷺ) کے فضائل بیان فرماتے تھے، آپ خود سنتے اور لوگوں کو سننے کا حکم دیتے تھے حضرت حسان کو دعائیں دیتے تھے۔“

(مرآة المناجیح، جلد نمبر 6، صفحہ نمبر 350، مطبوعه: نعیمی کتب خانہ، گجرات)

امام حاکم نے المستدرک میں، امام بیہقی نے سنن الکبری میں حدیث پاک روایت کی: واللفظ للاول ”أنشد النبي صلى الله عليه وسلم كعب بن زهير بانت سعاد في مسجده بالمدينة فلما بلغ قوله:…إن الرسول لسيف يستضاء به … وصارم من سيوف الله مسلول… أشار رسول الله صلى الله عليه وسلم بكمه إلى الخلق ليسمعوا منه“وفي رواية البيهقي”الخلق ليأتوا فيَسمعوا منه “ ترجمہ: حضرت کعب بن زہیر ﷜نے (اپنے مشہور قصیدے ’’بانت سعاد‘‘) مدینہ منورہ کی مسجد نبوی میں نبی پاک ﷺ کی مدح کی اور جب اپنے ان اشعار پر پہنچے: “بیشک رسولِ کریم ﷺ وہ شمشیر ہیں جس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے، اور آپ ﷺ (کفر و ظلمت کے علم برداروں کے خلاف) اللہ پاک کی شمشیروں میں سے ایک شمشیر جوہر دار ہیں۔” تو نبی پاک ﷺ نے اپنی آستین (یعنی ہاتھ) سے لوگوں کی طرف اشارہ کیا کہ وہ کعب بن زہیر کو توجہ سے سنیں۔اور بیہقی کی روایت میں ہے :(اشارہ فرمایاکہ) لوگ آئیں اور کعب بن زہیر کا کلام سنیں۔

(المستدرك على الصحيحين، جلد نمبر 3، صفحہ نمبر 673، مطبوعه: دار الكتب العلمية بيروت)

تیسری بات کہ جس سے دو چار صحابہ میں بیٹھ کر نعت خوانی کیے جانے والے اعتراض کا جڑ سے خاتمہ ہے، وہ اسی روایت کا دوسرا متن پیش خدمت کرنا ہے کہ جس میں باقاعدہ حلقے میں حضرت حسان ﷜کا شعر پڑھنے کا بیان ہے، یہ متنِ حدیث صحیح اسناد کے ساتھ صحیح مسلم اور مسند امام احمد بن حنبل وغیرہ میں مروی ہے: ”عن ابن المسيب: ‌أن ‌حسان ‌قال ‌في ‌حلقة فيهم أبو هريرة: أنشدك الله يا أبا هريرة، هل سمعت رسول الله صلي الله عليه وسلم يقول: أجب عني، أيدك الله بروح القدس؟ فقال: اللهم نعم“ ترجمہ: حضرت ابن مسیب سے روایت ہے کہ حضرت حسان ﷜ نے ایک حلقے میں فرمایا جس میں حضرت ابو ہریرہ ﷜ (بھی) موجود تھے: اے ابو ہریرہ !میں آپ کواللہ پاک کی قسم دیتا ہوں کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ (اے حسان!) میری طرف سے جواب دے، اللہ پاک روح قدس کے ذریعے تیری مدد فرمائے؟ تو حضرت ابو ہریرہ ﷜نے فرمایا: ہاں۔

(مسند الإمام أحمد بن حنبل، جلد نمبر 7، صفحہ نمبر 375، حدیث نمبر 453، مطبوعه: دار الحديث القاهرة)

ثالثاً یہ اعتراض کہ” اگر نعت خوانی اتنی زیادہ ہوتی یا صحابہ کرام اسے پسند فرماتے تو حضرت عمر کو بھی اس کا پتہ ہوتا ” اس کا اور حدیث پاک کا آپس میں کوئی تعلق نہیں، کھنچ تان کر آپس میں ان کا تعلق جوڑنا جفا جاری کے علاوہ کچھ نہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ اس حدیث پاک میں کہاں سے یہ معلوم ہو گیا کہ حضرت عمر ﷜کو نعت خوانی کا علم نہیں تھا؟ کیسے معلوم ہو گیا کہ صحابہ کرام نعت خوانی کو پسند نہیں فرماتے تھے؟ ہرگز ایسا نہیں۔ حضرت عمر ﷜نے نہ ہی اس حدیث میں نعت خوانی سے منع فرمایا، نہ ہی نعت خوانی کو برا جانا اور نہ ہی نعت خوانی سے بے خبر ہونا ظاہر کیا۔ دوسری بات یہ کہ حدیث پاک کے الفاظ “لَحظ إليه” کے ہیں، جس کا ترجمہ ہوتا ہے “گوشۂ چشم سے دیکھنا” جیسے آنکھ کے کنارے سے دیکھا جاتا ہے۔ اس میں گھورنے کا معنی کہاں سے کر لیا؟ موجودہ دور کے بدمذہبوں کی عاداتِ رذیلہ میں سے ایک یہ بھی ہے کہ حدیث کے ترجمہ میں قوسین لگا کر اپنی من مانی باطل تشریحات لکھ دیتے ہیں جن سے سارا سیاق ہی بدل جاتا ہے، انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو اسے تشریح نہیں بلکہ تحریف کہا جائے گا۔ خیر، حدیث پاک کے الفاظ سے زیادہ سے زیادہ بطور تعجب یا بطور پرسش دیکھنا واضح ہوتا ہے۔

شرح السنۃ میں ہے: ”‌يقال لحظ ‌إليه ولحظه: إذا نظر إليه بمؤخر عينه“ ترجمہ: لحظ إلیہ اور لحظه کہا جاتا ہے جب کسی کی طرف اپنے گوشۂ چشم سے دیکھے۔

(شرح السنة للبغوي، جلد نمبر 13، صفحہ نمبر 280، مطبوعه: المكتب الإسلامي بيروت)

شرح سنن ابی داؤد میں ہے: ” (‌فلحظ ‌إليه) أي: نظر إليه بلحظه، وهو شق عينه الذي يلي الصدغ “ ترجمہ: (پس حضرت عمر﷜ نے حضرت حسان ﷜ کی طرف نظر کی) یعنی آپ ﷜ کی طرف اپنے گوشۂ چشم سے دیکھا، اور یہ آنکھ کا وہ کنارہ ہوتا ہے جوکنپٹی کے ساتھ ملا ہوا ہوتا ہے۔

(شرح سنن أبي داود لابن رسلان، جلد نمبر 19، صفحہ نمبر 186، مطبوعه: دار الفلاح)

تیسری بات یہ کہ کوئی کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ تعجب کے طور پر بھی کیوں دیکھا؟ یا بالفرض گھور کر ہی دیکھا ہو یا آخری حد یہ کہ بطور ممانعت ہی دیکھا ہو تو اس کا جواب سمجھنے سے قبل اس تمہیدی گفتگو کو بغور ملاحظہ فرمائیں!

ایک شرعی مسئلہ ہے کہ کیا شعر پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو کیا مسجد میں شعر پڑھنا جائز ہے؟ اشعار کے حوالے سے دونوں طرح کی احادیث آئیں ہیں، ممانعت کی بھی اور جواز کی بھی، بلکہ بعض احادیث سے نبی پاک ﷺ کا خود اشعار پڑھنا بھی ثابت ہے۔ طوالت سے بچنے کے پیش نظر تفصیلی کلام سے صرف نظر کرتے ہوئے محض خلاصہ تحریر کیا جاتا ہے۔ چنانچہ اشعار دو طرح کے ہوتے ہیں: اچھے اشعار جیسے حمد و نعت وغیرہ اور برے اشعار جیسے عشقیہ، فسقیہ، گندے شعر، پس شعر کی اچھائی یا برائی اس کے مضمون پر منحصر ہوتی ہے جیسا مضمون ویسا حکم۔ اچھے اشعار کا پڑھنا جائز اور برے اشعار کا پڑھنا حسب حال ناجائز ہوتا ہے۔ جیسا کہ مرآۃ المناجیح میں ہے: ”شعر کی اچھائی برائی اس کے مضمون سے ہے، بعض شعر پڑھنا عبادت ہے، بعض کفر، بعض ثواب، جیسا مضمون ویسا حکم۔“ مزید ایک مقام پر ہے:” اچھے مضمون کے شعر اچھے ہیں، جن احادیث میں اشعار کی برائی آئی ہے وہاں برے مضمون کے اشعار مراد ہیں۔ … حضور انور ﷺ شعر جانتے تھے اس کی بھلائی برائی سے واقف تھے۔“

(مرآة المناجیح، جلد نمبر 6، صفحہ نمبر 352 و341، مطبوعه: نعیمی کتب خانہ، گجرات)

اب رہا حکم مسجد میں شعر پڑھنے کا تو اس کے متعلق بھی دونوں طرح کی روایات ہیں، بعض سے جواز ثابت ہوتا ہے اور بعض سے عدم جواز۔ حضرت حساب بن ثابت ﷜کی یہ حدیث پاک بھی اسی سیاق و سباق میں ہے، جس سے کہ مسجد میں شعر پڑھنے کا جواز ثابت ہو رہا ہے۔ اس بات کی واضح دلیل محدثین کا اس حدیث پاک کو مسجد میں شعر پڑھنے کے متعلق احادیث کے باب میں نقل کرنا ہے، خود صحیح بخاری شریف میں اس حدیث پاک کو “باب الشعر في المسجد” میں ذکر کیا۔ جس کے متعلق شارحین نے لکھا، یہ باب مسجد میں شعر پڑھنے کا حکم بیان کرنے کے متعلق ہے۔ یقیناً اس ساری گفتگو سے ہر بالغ العقل شخص سمجھ گیا ہو گا کہ معترض کس موضوع کی حدیث کو کس جگہ استعمال کر کے کیسا فاسد معنی نکال رہا ہے۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم، اللہ پاک بدمذہبوں کی ان مکاریوں سے محفوظ رکھے، آمین۔ نیز اس تمہید سے حضرت عمر ﷜کے تعجب کرنے یا عند المعترض گھورنے اور منع کرنے کا سبب بھی واضح ہوگیا کہ حضرت عمر ﷜کے یہ تمام افعال نعت خوانی پر وارد نہیں ہوئے بلکہ جب حضرت عمر ﷜قریب سے گزرے اور انہیں ان کا کلام لغو محسوس ہوا تو آپ ﷜نے ان کی جانب گوشۂ چشم سے دیکھا۔ چنانچہ صاحب شفاء شریف علامہ ابو الفضل قاضی عیاض مالکی ﷫ (المتوفی: 544ھ) اس حدیث مبارکہ کی شرح میں لکھتے ہیں: ”وقوله لعمر: ” كنت أنشد، وفيه خير منك”: يعنى النبى عليه الصلاة والسلام. فيه جواز مثل هذا إذا كان لوجه من وجوه الدين، فإنشاد حسان فيه إنما كان مما يهجو به عدو الإسلام، ويمدح به النبى عليه الصلاة والسلام وينافح به عنه عليه الصلاة والسلام بالتأييد فى ذلك، وما كان بعده أيضا عليه الصلاة والسلام فمن هذا ونحوه. لكنه يكره الإكثار منه من غير ما ذكرنا قبل، ومما ليس فيه ذكر الله، ولا هو من باب العلم للاستشهاد على تفسير القرآن والحديث؛ ولهذا ما كره عمر ذلك من حسان إذ أراه من لغو الكلام، ولم يكن مما قدمناه“ ترجمہ:اور سیدنا حسان ﷜کا حضرت عمر سے یہ کہنا کہ: “بلاشبہہ میں (تب بھی) شعر پڑھتا تھا جبکہ اس میں آپ سے بہتر ہستی موجود ہوتی ” اس سے مراد نبی مکرمﷺ کی ذات ہے ۔ اس حدیث پاک میں اس طرح کے شعر کا جواز ہے جب وہ کسی دینی پہلو کے لیے ہو۔ پس حضرت حسان ﷜کا مسجد میں شعر کہنا، محض ان اشعار میں سے تھا کہ جن سے دشمنان اسلام کو ہجو کرتے اور جن سے نبی کریم ﷺ کی مدح سرائی کرتے اور جن سے آپ ﷺ کا دفاع فرماتے، اس میں تائید کے ساتھ۔ اور جو اشعار نبی کریم ﷺ کے(وصال ظاہری) کے بعد بھی تھے وہ اسی طرح کے اور اسی میں سے تھے۔ لیکن مسجد میں ان شعر کی کثرت ناپسندیدہ ہے جو ان اشعار کے علاوہ ہو جنہیں ہم نے پہلے ذکر کیا (یعنی دشمنان اسلام کی ہجو گوئی، نعت رسول ﷺ وغیرہ میں سے نہ ہو) یا ان اشعار میں سے ہو جس میں اللہ پاک کا ذکر نہیں اور نہ ہی وہ تفسیر قرآن اور حدیث مبارکہ پر استشہاد کے لیے علم کے باب میں سے ہو؛ اور یہی وجہ تھی جو کہ حضرت عمر ﷜نے سیدنا حسان ﷜سے اسے ناپسند جانا جب انہوں نے ان سے کلام کے لغو ہونے کا گمان کیا اور وہ شعر ان میں سے (یعنی دشمنان اسلام کے ہجو، مدحتِ رسول ﷺ وغیرہ میں سے) نہیں تھا جنہیں ہم نے پہلے بیان کیا۔

(إكمال المعلم بفوائد مسلم، جلد نمبر 7، صفحہ نمبر 524-525، مطبوعه: دار الوفاء للطباعة والنشر والتوزيع، مصر)

چوتھی بات مزید برآں یہ کہ امام بخاری نے اس باب میں جو روایت بسند صحیح ذکر کی اس میں یہ ابتدائی حصہ ہے ہی نہیں کہ یوں حضرت عمر﷜ حضرت حسان ﷜ کے پاس سے گزرے اور آپ ﷜نے ان کی طرف دیکھا، وغیرہ۔‌‌چنانچہ صحیح بخاری شریف میں ہے:”باب الشعر في المسجد ، حدثنا أبو اليمان الحكم بن نافع قال: أخبرنا شعيب، عن الزهري قال: أخبرني أبو سلمة بن عبد الرحمن بن عوف: أنه سمع حسان بن ثابت الأنصاري يستشهد أبا هريرة: أنشدك الله، هل سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: يا حسان، أجب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، اللهم أيده بروح القدس. قال أبو هريرة: نعم“ ترجمہ: مسجد میں شعر کا باب: ہمیں ابو الیمان الحکم بن نافع نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی، انہوں نے فرمایا: مجھے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن بن عوف نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت حسان بن ثابت انصاری ﷜ کوحضرت ابو ہریرہ ﷜سے شہادت طلب کرتے ہوئے سنا کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا تم نے نبی پاک ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ “اے حسان! رسول اللہ ﷺ کی طرف سے جواب دو۔ اے اللہ! حسان کی روح القدس کے ذریعے تائید فرما۔” حضرت ابو ہریرہ ﷜نے فرمایا: ہاں۔

(صحیح بخاری، باب الشعر فی المسجد، جلد نمبر 1، صفحہ نمبر 98، حدیث نمبر 453، مطبوعه: دار طوق النجاة)

اس باب کے تحت عمدۃ القاری میں ہے: ”( باب الشعر في المسجد) أي: هذا باب في بيان حكم الشعر في المسجد“ ترجمہ:(مسجد میں شعر کا باب) یعنی یہ باب مسجد میں شعر کہنے کا حکم بیان کرنے میں ہے۔

(عمدة القاري شرح صحيح البخاري، باب الشعر فی المسجد، جلد نمبر 4، صفحہ نمبر 216، مطبوعه: دار إحياء التراث العربي)

پس معلوم ہوا اس میں نعت خوانی پر تو کلام ہی نہیں اور نہ ہی نعت خوانی پر اعتراض، بلکہ حضرت عمر ﷜ نے شعر پڑھتا پایا تو اس پر ان کی جانب متوجہ ہوئے، پھر جب حضرت حسان ﷜نے بزبان حال اس بات کی وضاحت فرما دی کہ میں مسجد میں فضول شعر نہیں پڑھ رہا بلکہ جس طرح کے اشعار نبی اکرم ﷺ کے ہوتے ہوئے پڑھتا تھا، اسی طرح کے پڑھ رہا ہوں، یعنی جن میں نبی کریم ﷺ کی ثنا خوانی ہوتی اور دشمنان دین پر ہجو گوئی (مذمت بیان) ہوتی، تو اس وضاحت کو سننے کے بعد حضرت عمر ﷜خاموش ہو گئے بلکہ مسند امام احمد کی ایک بسند صحیح روایت میں یہ اضافہ ہے کہ یہ سن کر حضرت عمر ﷜لوٹ گئے یہ جانتے ہوئے، کہ حضرت حسان بن ثابت کی مراد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ نیز سنن ابی داؤدشریف کی ایک روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ یہ سن کر حضرت عمر ﷜نے شعر پڑھتے رہنے کی اجازت دی۔

مسند امام احمد بن حنبل کی بسند صحیح روایت میں ہے: ”قال: ‌فانصرف ‌عمر وهو يعرف أنه يريد رسول الله صلى الله عليه وسلم“ ترجمہ: راوی کہتے ہیں کہ (جب حضرت حسان ﷜کا جواب سنا) تو حضرت عمر ﷜لوٹ گئے اس بات کو جانتے ہوئے کہ حضرت حسان بن ثابت ﷜ کی مراد رسول اللہ ﷺ ہیں۔

(مسند امام احمد بن حنبل، جلد نمبر 36، صفحہ نمبر 369، حدیث نمبر 21938، مطبوعه: مؤسسة الرسالة)

سنن ابی داؤد شریف کی ایک روایت میں مذکورہ اضافی اس طرح ہے: ”فخشي أن يرميه برسول الله صلى الله عليه وسلم، فاجأزه“ ترجمہ:پس حضرت عمر ﷜کو حضرت حسان ﷜ کے نبی پاک ﷺ کے حوالے سے ان پر الزام عائد کرنے کا اندیشہ ہوا، پس آپ ﷜ نے حضرت حسان ﷜کو (اشعار پڑھنے کی)اجازت دی۔ (سنن ابی داؤد، جلد نمبر 7، صفحہ نمبر 361، حدیث نمبر 5014، مطبوعه: دار الرسالة العالمية)

اس کے تحت شرح سنن ابی داؤد میں ہے: ” فخشي أن يعيبه وينتقصه بمخالفته لرسول اللَّه صلى الله عليه وسلم حين أنكر ما أجازه النبي صلى الله عليه وسلم (فأجازه) أي: أجاز عمر حسان، أي: أجازه ما أجازه النبي صلى الله عليه وسلم“ ترجمہ: (اس حدیث پاک کا مفہوم یہ ہے کہ) جس چیز کی رسول اللہ ﷺ نے اجازت مرحمت فرمائی اس پر انکار کرتے رسول اللہ ﷺ کی مخالفت لازم آنے کی وجہ سے ان پر عیب لگنے اور بدگوئی ہونے کا خوف ہوا تو حضرت عمر ﷜نے حضرت حسان ﷜کو ان اشعار کے پڑھتے رہنے کی اجازت دی جن کی اجازت نبی پاک ﷺ نے انہیں مرحمت فرمائی تھی۔

(شرح سنن أبي داود لابن رسلان، جلد نمبر 19، صفحہ نمبر 187، مطبوعه: دار الفلاح)

پس فقہائے کرام و محدثین عظام نے اس حدیث پاک کو اس کے اصل محمل پر رکھتے ہوئے، اس سے یہ مسئلہ اخذ کیا کہ مسجد میں بیہودہ اشعار پڑھنا تمام جگہوں کی طرح برا ہے بلکہ مسجد کے ادب کے پیش نظر زیادہ قبیح و ناجائز ہے، جبکہ اچھے اشعار، مثل حمد باری تعالیٰ و نعت رسول خدا ﷺ پڑھنا بلاشک و شبہہ اچھا اور جائز ہے، بلکہ بنیتِ ثواب باعث اجر ہے۔

عمدۃ القاری ہی میں ہے: ”فيه الدلالة على أن الشعر الحق لا يحرم في المسجد، والذي يحرم فيه ما فيه الخناء والزور والكلام الساقط“ ترجمہ: اس حدیث پاک میں اس بات پر دلیل ہے کہ مسجد میں سچا شعر پڑھنا حرام نہیں ہے۔ البتہ مسجد میں وہ شعر حرام ہے جس میں بیہودہ بات، جھوٹ اور غلط کلام ہو۔

(عمدة القاري شرح صحيح البخاري، باب الشعر فی المسجد، جلد نمبر 4، صفحہ نمبر 218، مطبوعه: دار إحياء التراث العربي)

فتاوی رضویہ میں ہے: ”جھوٹے مدعیانِ خلافت اور اس نام سے شکم پروران پر آفت کی شناعت سے مسلمانوں کو آگاہ کرنا ضرور ہے اور مسجد کہ مجمع مسلمانان ہو ان بیانوں کا بہتر موقع ہے اور اس میں مسجد کی کچھ توہین نہیں کہ مساجد ذکر اﷲ کے لئے بنائی گئی ہیں اور نہی عن المنکر اور بیان شناعت گمراہاں اعظم ِ طرق ذکراﷲ واجل احکام ِ شریعۃ اﷲ سے ہے۔“

(فتاوی رضویہ، جلد نمبر 6، صفحہ نمبر 597، مطبوعه: رضا فاؤنڈیشن لاہور)

اس میں ہے: ”اشعار حسنہ محمودہ کا پڑھنا جن میں حمد الٰہی ونعت رسالت پناہی جل جلالہ وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم ومنقبت آل واصحاب واولیاء وعلمائے دین رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین بروجہ صحیح اور نجیع مقبول شرعی یا ذکر موت وتذکیر آخرت واہوال قیامت وغیر ذٰلک مقاصد شرعیہ ہو قطعا جائز وروا اور خود زمانہ اقدس حضور پر نورسید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے آج تک تمام ائمہ دین وعباد اللہ الصالحین میں رائج دیا ہے۔“

(فتاوی رضویہ، جلد نمبر 23، صفحہ نمبر 363، مطبوعه: رضا فاؤنڈیشن لاہور)

بہار شریعت میں ہے: ” مسجد میں شعر پڑھنا ناجائز ہے، البتہ اگر وہ شعر ”حمد و نعت و منقبت و وعظ و حکمت کا ہو”، تو جائز ہے۔“

(بہار شریعت، جلد نمبر 1، حصہ نمبر 3،صفحه نمبر 647، مطبوعه: مکتبة المدینہ)

و اللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبــــــــــــــــــــــــــــه

ابو محمد احمد رضا عطاری حنفی

29 رمضان المبارک 1445ھ / 9 اپریل2024ء

نظر ثانی: مفتی ابو احمد محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں