ناپاکی کی حالت میں ختم قرآن کی دعا پڑھنا

ناپاکی کی حالت میں ختم قرآن کی دعا پڑھنا

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ کیا حیض کی حالت میں دعائے ختم القرآن پڑھ سکتے ہیں ؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب

حالت حیض میں قرآنی آیات بطور دعا پڑھنا جائز ہے جبکہ وہ دعا کے معانی پر مشتمل ہو ۔ دعائے ختم القرآن چونکہ دعائیہ کلمات پر مشتمل ہے لہذا اس کو پڑھنا بھی جائز و درست ہے ۔ ان دعاؤں کو کلی کرکے پڑھنا بہتر ہے اور ویسے بھی پڑھ لیا تو کوئی حرج نہیں۔

ردالمختار میں ہے

’’لو قرأت الفاتحة على وجه الدعاء أو شيئا من الآيات التي فيها معنى الدعاء ولم ترد القراءة لا بأس به كما قدمناه عن العيون لأبي الليث ‘‘

ترجمہ:اگر سورت فاتحہ کو بطور دعا کے پڑھے یا قرآن کریم کی ان آیات کو بطور دعا کے پڑھے کہ جن میں دعا کا معنی ہو،اور ان میں قراءت قرآن کا ارادہ نہ کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ،جیسا کہ ہم نے پہلے اس بات کو ابو اللیث کی عیون کے حوالےسے بیان کردیا ہے۔(رد المحتارعلی الدرالمختار، جلد1، کتاب الطھارۃ، صفحہ535، مطبوعہ کوئٹہ)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

”ویجوز للجنب و الحائض الدعوات و جواب الاذان و نحو ذلک“

یعنی جنبی اورحائضہ کیلئے دعائیں پڑھنا اور اذان کا جواب دینا اور اس جیسے اذکار پڑھنا جائز ہے۔(فتاوی عالمگیری کتاب الطھارۃ الفصل الرابع فی احکام الحیض و النفاس و الاستحاضة جلد 1 صفحہ 38 )

شرح وقایہ میں ہے

”وسائرالادعیةوالاذکارلاباس بها“

یعنی تمام قسم کی دعائیں اور اذکار پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔( شرح وقایہ ج1، ص 116، دار الفکر بیروت)

فتویٰ رضویہ میں ہے:

”حالت حیض میں صرف قرآن عظیم کی تلاوت ممنوع ہے کلمے پانچوں پڑھ سکتی ہے کہ اگرچہ ان میں بعض کلمات قرآن ہیں مگر ذکر وثنا ہیں اور کلمہ پڑھنے میں نیت ذکر ہی ہے نہ نیت تلاوت تو جواز یقینی ہے ۔“(فتاویٰ رضویہ ، جلد 1،صفحہ 118 ، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

بہار شریعت میں ہے:

”قرآنِ مجید کے علاوہ اور تمام اذکار کلمہ شریف، درود شریف وغیرہ پڑھنا بلاکراہت جائز بلکہ مستحب ہے اور ان چیزوں کو وضو یا کلی کرکے پڑھنا بہتر اور ویسے ہی پڑھ لیا جب بھی حرج نہیں اور ان کے چھونے میں بھی حرج نہیں۔ “ (بہارِ شریعت، جلد 1، صفحہ 379، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ممبر فقہ کورس

07 شوال المکرم 1445ھ15 اپریل 2024ء

نظر ثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں