نابالغ کا حصہ دوسری جگہ منتقل کردینا
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک وراثتی جگہ تھی جس میں کئی لوگ وارث تھے، ابھی تقسیم نہیں ہوئی تھی کہ ایک بہن کا انتقال ہوگیا جس کے ورثہ میں شوہر اور اس کا نابالغ بیٹا ہے۔ اب دیگر ورثاء جو کہ عاقل و بالغ ہیں وہ اس جگہ کو وقف کرنا چاہتے ہیں لیکن نابالغ کا حصہ ہونے کی وجہ سے وقف نہیں کرسکتے، کیا شرعاً یہ درست ہے کہ اس نابالغ کو دوسری جگہ اس سے اچھی اور اس سے زیادہ مقدار میں زمین دے کر یہ والی زمین وقف کردی جائے؟
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ہدایۃ الحق و الصواب
پوچھی گئی صورت میں والد کا نابالغ کی جگہ تبدیل کرنا درست ہے کہ اس میں نابالغ کا نفع ہے، نقصان نہیں ہے۔ کیونکہ جو زمین کا حصہ دیا جا رہا ہے وہ پہلی جگہ سے اچھا اور مقدار کے اعتبار سے پہلے پلاٹ سے زیادہ ہے۔
اس تقسیم کاری کے بعد تمام عاقل و بالغ ورثا اپنی رضامندی سے اپنے پلاٹ کو وقف کر دیں گے تو وقت درست ہو جائے گا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
”قسمة الأب على الصبي والمعتوه جائزة في كل شيء إذا لم يكن فيها غبن فاحش“
ترجمہ باپ کا نابالغ بچے اور معتوہ پر تقسیم کاری کرنا ہر چیز میں درست ہے جبکہ اس تقسیم کاری میں غبن فاحش نہ ہو۔(فتاوی ہندیہ کتاب القسمہ جلد5 صفحہ 219 دارالفکر بیروت)
بدائع الصنائع میں ہے:
”وقسمة الرضا أشبه بالبيع، ثم لا يملكون البيع إلا بالتراضي، فكذا القسمة، إلا إذا لم يكونوا من أهل الرضا كالصبيان والمجانين فيقسم الولي أو الوصي إذا كان في القسمة منفعة لهم؛ لأنهما يملكان البيع فيملكان القسمة، وكذا إذا كان فيهم صغير وله ولي، أو وصي، يقتسمون برضا الولي أو الوصي“
ترجمہ رضامندی سے جو تقسیم کاری ہو وہ بیع کے زیادہ مشابہ ہے پھر شرکا بیع کے مالک نہیں ہوتے مگر باہمی رضامندی کے ساتھ یہی معاملہ تقسیم کاری کا ہے مگر جب کہ ایسے شرکا ہوں جن کی رضامندی کا اعتبار نہیں جیسے بچے اور پاگل اگر شرکا ایسے ہوں تو ولی یا وصی تقسیم کاری کرے گا جبکہ اس تقسیم میں ان کا فائدہ ہو کیونکہ ولی اور وصی بیع کا اختیار رکھتے ہیں تو تقسیم کاری کا بھی اختیار رکھتے ہیں اور اسی طرح جب شرکاء میں کوئی نابالغ بچہ ہو جس کا ولی یا وصی ہے تو شرکا ولی یا وصی کی رضامندی کے ساتھ تقسیم کاری کر سکتے ہیں۔( بدائع الصنائع کتاب القسمہ فصل فی الشرائط التی ترجع الی المقسوم لہ جلد7 صفحہ 22 دارالکتب العلمیہ بیروت)
بنایہ میں ہے:
”وفي “المبسوط”:وليه أبوه، ثم وصيه، ثم جده أبو الأب، ثم وصيه، ثم القاضي، أو وصي القاضي“
ترجمہ: اور مبسوط میں ہے نابالغ کا ولی اس کا باپ ہے پھر اس کا وصی پھر اس کا دادا پھر اس کا وصی پھر قاضی یا قاضی کا وصی۔(بنایہ شرح ہدایہ کتاب الماذون فصل فی احکام اذن الصغیر جلد 11 صفحہ 177 دارالکتب العلمیہ بیروت)
فتاوی رضویہ میں ہے:
”مشترک مال تقسیم کر کے نابالغوں کا حصہ جدا کرنے کا ان کے باپ کو مطلقا اختیار ہوتا ہے۔“(فتاوی رضویہ جلد 25 صفحہ 469 رضا فاؤنڈیشن لاہور)
فتاوی رضویہ میں ہے:
”ظاہر ہے کہ اس صلح سے ہر نابالغہ کو اپنے حق سے کئی حصے زائد پہنچا تو صلح ان کے حق میں بہت نافع تھی اس کا حکم وہی تھا کہ نافذ ہے ۔“(فتاوی رضویہ ج19 صفحہ125 رضا فاؤنڈیشن لاہور)
واللّٰہ تعالیٰ اعلم و رسولہ اعلم باالصواب
صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ و علی آلہ و اصحابہ و بارک و سلم
محمد شاہد حمید قادری
18شعبان المعظم1445ھ
29فروری2024، جمعرات