میت کا بوسہ لینا کیسا؟

میت کا بوسہ لینا کیسا؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ کیا میت کو بوسہ دینا جائز ہے ؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب

صورت مسئولہ کے مطابق مسلمان میت کو بوسہ دینا جائز ہے، چاہے غسل میت سے پہلے ہو یا بعد میں، میت کو غسل سے پہلے بوسہ دینا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عمل سے بھی ثابت ہے۔ میت پر غسل سے پہلے بھی جو نجاست ہوتی ہے وہ حکمی نجاست ہے اور میت کے بوسہ میں یہ ضروری ہے کہ ممنوعات شرعیہ سے بچا جائے اور بوسہ دینے والا محرم ہو ۔ شوہر میت کا بوسہ نہیں لے سکتا کہ مرنے کے بعد نکاح ختم ہوجاتا ہے اور شوہر کا بلاحائل اپنی زوجہ کا بدن چھونا جائز نہیں ہے چہ جائیکہ کہ بوسہ لے۔ہاں زوجہ اپنے مردہ شوہر کا بوسہ لے سکتی ہے۔

ابوداؤد شریف میں ہے

’’عن عائشۃ رضی اللہ عنھا قالت رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقبل عثمان بن مظعون وھو میت حتی رایت الدموع تسیل“

یعنی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عثمان بن مظعون کابوسہ لیتے ہوئے دیکھا،جبکہ ان کاانتقال ہوچکاتھااور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو بہہ رہے تھے ۔ (سنن ابی داؤد، جلد2،صفحہ 98،مطبوعہ لاھور)

مرقاۃ المفاتیح میں اس روایت کو نقل کرنےکے بعد فرمایا:

’’یعلم من ھذا ان تقبیل المسلم بعدالموت والبکاء علیہ جائز“

یعنی اس روایت سے معلوم ہواکہ موت کے بعدمسلمان میت کا بوسہ لینااور اس پر (بغیر آوازکے ) روناجائزہے ۔(مرقاۃ المفاتیح ، جلد4،صفحہ16،مطبوعہ ملتان)

بخاری شریف میں ہے

’’دخل علی عائشۃ رضی اللہ عنھا فتیمم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وھومغشی بثوب حبرۃ فکشف عن وجھہ ثم اکب علیہ فقبلہ وبکی ، ثم قال: بابی انت وامی“

یعنی سیدناصدیق اکبررضی اللہ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکے حجرے میں داخل ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قصدکیا ،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو حبرہ چادراوڑھائی گئی تھی ، آپ رضی اللہ عنہ نے چہرہ مبارک سے چادرہٹائی ، پھرجھکے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بوسہ لیااور روئے پھر کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ۔ (صحیح البخاری ، جلد1،صفحہ166،مطبوعہ کراچی )

مسند احمد بن حنبل میں ہے

” عن عائشة و ابن عباس انّ ابا بکر قبَّل النبي صلی الله علیه وسلم بعد موته “

ترجمہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد آپ کو بوسہ دیا ۔(مسند احمد بن حنبل ،ج 1 ،ص 229، رقم 2026 ،موسسۃ قرطبة مصر )

اس کے تحت عمدۃ القاری میں ہے :

’’وھومسجی ببردحبرۃ ولم یکن حینئذغسل ، فضلا عن ان یکون مدرجا فی الکفن“

یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حبرہ چادر سے ڈھک دیاگیاتھا اور اس وقت غسل بھی نہیں ہواتھا،چہ جائیکہ کفن میں داخل کردیاگیاہو۔(عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری ، جلد6،صفحہ18،مطبوعہ ملتان)

نورالایضاح میں ہے :

’’ولاباس بتقبیل المیت للمحبۃ والتبرک تودیعاخالصۃ عن محظور“

یعنی میت کا محبت ، برکت اور رخصت وغیرہ کرنے کے مقصد سے بوسہ لینے میں کوئی حرج نہیں،جبکہ ممنوع شرعی کام سے بچ کر ایساکیاجائے۔(نورالایضاح مع حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح ، صفحہ573،مطبوعہ کراچی)

حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے

’’اختلفوا فی نجاسۃ المیت فقیل نجاسۃ خبث وقیل حدث ویشھدللثانی مارویناہ من تقبیلہ صلی اللہ علیہ وسلم عثمان بن مظعون وھومیت قبل الغسل، اذلو کان نجسا لما وضع فاہ الشریف علی جسدہ“

یعنی میت کی نجاست میں اختلاف ہے ، ایک قول یہ کیاگیاکہ گندگی کی وجہ سے ناپاک ہے اور ایک قول یہ کیاگیاکہ حدث کی وجہ سے ناپاک ہے ،دوسرے قول کی تائیدوہ حدیث ہے،جسے ہم نے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا ان کے انتقال کے بعد غسل سے پہلے بوسہ لیا، کیونکہ اگر مرنے سے ناپاک ہوجاتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا دَہَن اقدس ان کے جسم پرنہ لگاتے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح ، جلد2،صفحہ198،مکتبہ غوثیہ ، کراچی)

جدالممتار میں ہے

’’فثبت وللہ الحمد ان الحدیث ینفی تنجس المسلم بالموت فوجب کما قال المحققان ترجیح ان غسلہ للحدث وقدقال فی البحر انہ الاصح“

یعنی بحمداللہ یہ ثابت ہوگیاکہ حدیث پاک سے موت کی وجہ سے مسلمان کے نجس ہونے کی نفی ہوتی ہے ،تو دونوں محققوں کے فرمان کے مطابق اس کی ترجیح ضروری ہے کہ غسل میت حدث کی وجہ سے ہے اوربحرمیں فرمایایہی اصح ہے ۔ (جدالممتار،جلد3،صفحہ645،مکتبۃ المدینہ ، کراچی)

حاشیہ شرنبلالی علی دررالحکام شرح غررالاحکام میں ہے:

’’رجل ذو رحم محرم یمسھا بلاخرقۃ“

یعنی ذی رحم محرم خرقہ(کپڑا وغیرہ حائل) کے بغیربھی چھوسکتاہے۔ (حاشیہ شرنبلالی علی دررالحکام شرح غررالاحکام ،جزو1،صفحہ160، مطبوعہ کراچی)

در مختار میں ہے

” ويمنع زوجها من غسلها ومسها لا من النظر إليها على الأصح“

ترجمہ:مردہ بیوی کو غسل دینا اور اسے چھونا،شوہر کے لئے ممنوع ہے ،اور اس کی طرف نظر کرنا اصح قول کے مطابق شوہر کے لئے ممنوع نہیں۔(در مختار،باب صلاۃ الجنازۃ،ج 2،ص 198،دار الفکر،بیروت)

امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ سے ایک سوال ہوا کہ زوجہ کا جنازہ شوہر کو چھونا کیسا ہے؟ چھونا چاہئے یا نہیں؟ شوہر کا اپنی زوجہ کا منہ قبر میں رکھنے کے بعددیکھنا کیسا ہے،چاہئے یا نہیں؟

اس کے جواب میں آپ علیہ الرحمۃ تحریرفرماتے ہیں:

” شوہر کو بعدِ انتقالِ زوجہ قبر میں خواہ بیرونِ قبر اس کا منہ یا بدن دیکھنا جائز ہے، قبر میں اتارنا ، جائز ہے اور جنازہ تو محض اجنبی تک اٹھاتے ہیں، ہاں بغیر حائل کے اس کے بدن کو ہاتھ لگانا شوہر کو ناجائز ہوتا ہے۔ زوجہ کو جب تک عدت میں رہے شوہر مردہ کا بدن چھونا بلکہ اسے غسل دینا بھی جائز رہتا ہے۔یہ مسئلہ درمختار وغیرہ میں ہے۔“(فتاویٰ رضویہ جلد9،صفحہ138 ،رضافاؤنڈیشن، لاهور)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ممبر فقہ کورس

14شوال المکرم 1445ھ22 اپریل 2024ء

نظر ثانی :

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں