منہ بولے بیٹے سے پردہ

منہ بولے بیٹے سے پردہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ اکثر لوگ کسی اجنبی کو اپنے گھر میں آنے کی اجازت دے دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ہمارا منہ بولا بھائی یا بیٹا ہے اور اسی طرح ان سے پردے کا اہتمام بھی نہیں کیا جاتا ہے ایسا کرنا کیسا ہے ؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب

صورت مستفسرہ کے مطابق منہ بولا بھائی ،بیٹا یا باپ بنانے سے وہ حقیقی بھائی ، بیٹا یا باپ نہیں بن جاتا لہٰذا جو محرم رشتے ہیں ان کی تفصیل موجود ہے اور اس طرح کے منہ بولے رشتوں سے پردہ واجب ہے اور ان کا اس طرح کسی کے گھر میں جانا بھی درست نہیں ہے اور ان سے نکاح کرنا بھی درست ہے ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے

”حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآىٕكُمْ وَ رَبَآىٕبُكُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَآىٕكُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ وَ حَلَآىٕلُ اَبْنَآىٕكُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا“

تم پر حرام کردی گئیں تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور تمہاری بھتیجیاں اور تمہاری بھانجیاں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا اور دودھ (کے رشتے) سے تمہاری بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں اور تمہاری بیویوں کی وہ بیٹیاں جو تمہاری گود میں ہیں (جو اُن بیویوں سے ہوں ) جن سے تم ہم بستری کرچکے ہو پھر اگر تم نے ان (بیویوں ) سے ہم بستری نہ کی ہو تو ان کی بیٹیوں سے نکاح کرنے میں تم پر کوئی حرج نہیں اور تمہارے حقیقی بیٹوں کی بیویاں اور دو بہنوں کو اکٹھا کرنا (حرام ہے۔) البتہ جوپہلے گزر گیا۔ بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

(سورۃ النساء ، آیت 23، )

فتاوی الھندیة میں ہے

”ولا بأس للرجل أن ينظر من أمه وابنته البالغة وأخته وكل ذي رحم محرم منه كالجدات والأولاد وأولاد الأولاد والعمات والخالات“

ترجمہ:اور مرد کے لیے اپنی والدہ ،بالغ بیٹی بالغ بہن اور ہر ذی رحم محرم جن میں سے جدات اور اولاد کی اولاد یعنی پوتی اور نواسی اور پھوپھیاں اور خالاوں کی طرف نظر کرنا جائز ہے ۔(فتویٰ ھندیہ ، جلد 5، صفحہ 328، دار الفکر بیروت)

فتاویٰ رضویہ میں ہے:

”جو محرم نہیں وہ اجنبی ہے ، اس سے پردہ کا ویسا ہی حکم ہے جیسے اجنبی سے ، خواہ فی الحال اس سے نکاح ہوسکتا ہو یا نہیں۔“(فتاوٰی رضویہ، ج11، ص415، رضافاؤنڈیشن، لاہور)

مزید ایک دوسرے مقام پر سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں:

”ضابطہ کلیہ ہے کہ نامحرموں سے پردہ مطلقا واجب ۔“(فتاوٰی رضویہ، ج 22، ص 240، رضافاؤنڈیشن، لاہور )

بہار شریعت میں ہے :

” اس قسم میں سات ۷ عورتیں ہیں (۱) ماں ،(۲) بیٹی،(۳) بہن،(۴) پھوپی،(۵) خالہ،(۶) بھتیجی،(۷) بھانجی۔“(بہار شریعت ،جلد 2 ،حصہ 7، صفحہ 22 ،مکتبہ المدینہ کراچی)

پردے کے بارے میں سوال جواب میں ہے:

”کسی کو باپ، بھائی يا منہ بولا بیٹا بنالينے سے وہ حقیقی باپ، بھائی اور بیٹا نہيں بن جاتا۔ ان سے تونِکاح بھی دُرُست ہے۔ ہمارے مُعاشَرے میں منہ بولے رشتوں کا رَواج عام ہے کوئی مرد کسی کو ”ماں“ بنائے ہوئے ہے، کوئی لڑکی کسی کو ”بھائی“ بنا بیٹھی ہے تو کسی خاتون نے کسی کو ”بیٹا“ بنا لیا ہے، کوئی کسی جوان لڑکی کا مُنہ بولا چچا ہے تو کوئی مُنہ بولا باپ اور پھر بے پردگی، بے تکلُّفی اور مخلوط دعوتوں وغیرہ کے گناہوں کا سیلاب اُمَڈ آتا ہے، اَلْاَمان وَالْحَفِیظ۔ کسی کے ساتھ منہ بولے رشتے قائم کرنے والوں اوروالیوں کو اللہ سے ڈرتے رہنا چاہئے۔ یقیناً شیطان پہلے سے بول کر وار نہیں کرتا۔ حدیثِ پاک میں آتا ہے:”دنیا اور عورَتوں سے بچو کیونکہ بنی اسرائیل میں سب سے پہلا فِتنہ عورَتوں کی وجہ سے اُٹھا۔“( پردے کے بارے میں سوال جواب، ص67، 68، مکتبہ المدینہ کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

بنت عثمان

17شعبان المعظم 1445ھ28فروری 2024ء

اپنا تبصرہ بھیجیں