مسجد و مدرسہ کا چندہ مکس کردینا
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس بارے میں کہ اگر مسجد اور مدرسہ کا چندہ باہم مکس ہوجائے کہ یہ معلوم نہ ہو کہ مسجد کا کتنا چندہ تھا اور مدرسہ کا کتنا تو اب اس کا شرعی حکم کیا ہوگا؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب الھم ھدایۃ الحق والصواب
صورت مستفسرہ کے مطابق چندے کو آپس میں ملانے سے گناہ گار ہوا جس سے توبہ لازم ہے کیونکہ یہ چندہ بمنزلہ امانت ہے ۔ اگر چندہ دینے والوں کا پتہ نہیں یا یہ مسجد و مدرسہ کامتولی ہےتو چندہ دینے والوں کو تاوان دینا ضروری نہیں بلکہ خود ہی مسجد و مدرسہ میں رقم دے دے۔اب اگر یہ معلوم نہیں کہ کتنا چندہ مدرسہ کا اور کتنا مسجدکا چندہ ہے، تویہ مال مشترکہ کے حکم میں ہے اس صورت میں تمام رقم مسجد اور مدرسہ میں نصف نصف تقسیم کردی جائے گی۔
محیط برھانی میں ہے
” وفی “الفتاوی” اذا دفع رجلان الی رجل کل واحد منھما دراھم لیتصدق بھا عن زکاۃ مالہ فخلط الدراھم قبل الدفع ثم دفع فھو ضامن وکذلک المتولی اذا کان فی یدہ أوقاف مختلفۃ وخلط غلّاتھا صار ضامناً لھا “
ترجمہ جب دو بندوں نے اپنی زکاۃ کے دراہم ایک بندے کو دیئے تاکہ ان کی طرف سے زکاۃ اداء کی جائے اس نے زکاۃ اداء کرنے سے پہلے ان کے دراھم کو خلط ملط کر دیا پھر زکاۃ اداء کی تو وہ ضامن ہو گا اسی طرح متولی نے جب اس کے قبضے میں مختلف اوقاف ہوں اس نے ان کے غلے کو خلط ملط کر دیا تو وہ ان کا ضمان دے گا ۔ ( محیط برھانی ،جلد 2 ,صفحہ 293 ،دار الکتب العلمیہ ،بیروت )
قدروی میں ہے
”وان خلطھا المودع بمالہ حتی لا تتمیز ضمنھا“
اور اگر امین نے مال ودیعت اپنے مال میں اس طرح خلط ملط کردیا کہ دونوں مال میں فرق کرنا مشکل ہے تو امین ضامن ہوگا۔(قدوری ،جلد 1 ،صفحہ 450، مطبوعہ، کراچی)
فتویٰ رضویہ میں سوال ہوا:
”ایک شخص کے سپرد مسجد کی روشنی کا اہتمام ہے اور اس کو دوسرا شخص تیل کے لئے صرف دیتا ہے اب پہلے شخص نے جس کو روپیہ صرفہ کےلئے دیا جاتا ہے اس نے روشنی میں کمی کرکے یا زیادہ صرفہ لے کر اور کم صرف کیا اور کچھ دام بچا کر وہ اپنے ذاتی صرفہ میں لایا، اور اب وہ شخص جو اپنے صرفہ میں لایا ہے اس مقام سے چلا آیا اور دوسرے مقام پر موجود ہے اب اس کا خیال ہے کہ میں نے جو کچھ بچایاتھا اور صرف کیا وہ اداکردوں اور میرا یہ گناہ معاف ہوجائے تو اب اس کو کیاکرنا چاہئے؟ آیا وہ اسی مسجد میں اسی تیل کو روشنی کے کام دے یا وہ دوسری مسجد میں جہاں وہ اب موجود ہے وہاں پر کسی مسجد شکستہ یا قلعی وغیرہ کیلئے دے دے جس سے اس کا گناہ معاف ہو؟“
جوابا اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
” اس پر توبہ فرض ہے اور تاوان ادا کرنا فرض ہے جتنے دام اپنے صرف میں لایا تھا اگر یہ اس مسجد کا متولی تھا تو اسی مسجد کے تیل بتی میں صرف کرے دوسری مسجد میں صرف کر دینے سے بری الذمہ نہ ہوگا، اور اگر متولی نہ تھا تو جس نے اسے دام دئے تھےاسے واپس کرے کہ تمہارے دئے ہوئے داموں سے اتنا خرچ ہوا اور اتنا باقی رہا تھا کہ تمہیں دیتا ہوں”لانہ ان کان متولیا فقد تم التسلیم والا بقی علی ملک المعطی۔واﷲ تعالیٰ اعلم“اس لئے کہ اگر وہ متولی ہے تو تسلیم تام ہوگئی ورنہ معطی کی ملک پر باقی ہے۔“(فتاویٰ رضویہ،جلد16،صفحہ460،رضافاؤنڈیشن،لاہور)
فتویٰ امجدیہ میں ہے
جب عطیہ و چندہ پر آمدنی کا دارومدار ہے ، تو دینے والے جس مقصد کے لیے چندہ دیں یا کوئی اہلِ خیر جس مقصد کے متعلق اپنی جائیداد وقف کرے ، اُسی مقصد میں وہ رقم یا آمدنی صَرف کی جاسکتی ہے ، دوسرے میں صرف کرنا ،جائز نہیں ، مثلاً اگر مدرسہ کے لیے ہو، تو مدرسہ پر صَرف کی جائے اور مسجد کے لیے ہو، تو مسجد پر (خرچ کرنا ضروری ہے)۔ (فتاوی امجدیہ ، جلد3، صفحہ 42، مکتبہ رضویہ ، کراچی )
ردالمحتارمیں ہے
”اجتمعا في دار واحدة واكتسبا ولا يعلم التفاوت فهو بينهما بالسوية [تنبيه] يؤخذ من هذا ما أفتى به في الخيرية في زوج امرأة وابنها اجتمعا في دار واحدة وأخذ كل منهما يكتسب على حدة ويجمعان كسبهما ولا يعلم التفاوت ولا التساوي ولا التمييز.فأجاب بأنه بينهما سوية“
ترجمہ:دوافرادایک گھرمیں جمع ہوئے اورانہوں نے مال کمایااورکمی بیشی معلوم نہیں تووہ ان دونوں کے درمیان برابربرابرہوگا۔تنبیہ: اسی سے وہ مسئلہ لیاگیاہے جس پرخیریہ میں فتوی دیاگیاہےکہ:ایک عورت کاشوہراوربیٹاایک گھرمیں اکٹھے رہتے تھے اورعلیحدہ علیحدہ کمائی کرتے اورمال مکس کرلیتے،اب نہ تویہ معلوم ہے کہ ان کے اموال کم وبیش تھے اورنہ یہ معلوم ہے کہ برابربرابرتھے اورامتیازبھی نہیں ہوسکتا۔توانہوں نے جواب دیا:وہ رقم ان دونوں کے درمیان برابربرابرہوگی ۔ (ردالمحتارمع الدرالمختار،کتاب الشرکۃ،ج04،ص325،کوئٹہ)
فتاوی رضویہ میں ہے:
”اور چنائی کہ مشترکہ اینٹوں سے ہوئی ظہورن اور عبدالوہاب خان کی حصہ رسد مشترکہ ہے ، اگرکمی بیشی معلوم ہوسکے مثلا دو تہائی اینٹیں ظہورن کی ہیں اور ایک تہائی عبدالوہاب خان کی، یا بالعکس، جب تو اسی حساب سے، ورنہ نصفا نصف مشترک رہے گی ۔ ” کما ھو الطریق حیث لا علم بالتفاضل کما نصوا علیہ فی غیر ما مسئلۃ من الشرکۃ وغیرھا۔”( جیسا کہ یہ طریقہ ہے جہاں زائد کا علم نہ ہو فقہاء کرام نے شرکت وغیرہ کے کئی مسائل میں یہ تصریح فرمائی ہے۔ )“ (فتاوی رضویہ،ج19،ص287،رضافاونڈیشن،لاہور)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
بنت عثمان
20جمادی الاول 1445ھ05دسمبر 2023ء