قبر میں عہد نامہ رکھنا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ قبر میں عہد نامہ رکھنے کا کیا حکم ہے ؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب
صورت مسئولہ کے مطابق کفن میں یا قبر میں عہد نامہ یا شجرہ رکھنا جائز ہے کہ یہ باعث بابرکت ہے ۔ روایات میں ہے کہ اس کو رکھنے سے اللہ عزوجل سے مغفرت ، عذاب قبر اور سوال نکیرین سے امان کی امید ہے ۔البتہ بہتر یہ اسے قبر میں قبلہ رو طاق بنا کر رکھا جائے تاکہ آلودہ ہونے سے محفوظ رہے۔
ردالمحتار میں ہے
’’وفي البزازية قبيل كتاب الجنايات وذكر الامام الصفار لو كتب على جبهة الميت او على عمامته او كفنه عهد نامه يرجى ان يغفر الله تعالى للميت ويجعله آمنا من عذاب القبر‘‘
یعنی بزازیہ میں کتاب الجنایات سےتھوڑا پہلے ہے کہ امام صفار علیہ الرّحمہ نے فرمایا اگر میت کی پیشانی یا اس کے عمامہ یا اس کے کفن پر عہد نامہ لکھ دیا جائے تو امید ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ میت کی مغفرت فرمادے اور اسے عذاب قبر سے محفوظ فرمائے۔ (در مختار مع رد المحتار ، جلد 3، صفحہ 185، دار الفکر بیروت)
فتاویٰ رضویہ میں سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرّحمہ لکھتے ہیں :
”امام ترمذی حکیم الٰہی سیّدی محمد بن علی معاصر امام بخاری رحمہما اللہ نے نوادرالاصول میں روایت کی کہ خود حضور پُر نور سیّد عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : من کتب ھذاالدعاء وجعلہ بین صدر المیت وکفنہ فی رقعۃ لم ینلہ عذاب القبر ولایری منکرا و نکیراً وھو ھذا لاالٰہ الااﷲ واﷲ اکبرلاالٰہ الااﷲ وحدہ ، لاشریک لہ لاالٰہ الا اﷲ لہ الملک ولہ الحمدلاالٰہ الااﷲ ولاحول ولاقوۃ الاباﷲالعلی العظیم جو یہ دُعاکسی پرچہ پر لکھ کر میّت کے سینہ پر کفن کے نیچے رکھ دے اُسے عذابِ قبر نہ ہو نہ منکر نکیر نظر آئیں ، اور وہ دعا یہ ہے : لا الٰہ الااﷲ واﷲ اکبرلاالٰہ الاﷲ وحدہ ، لاشریک لہ لاالٰہ الااﷲ لہ الملک ولہ الحمد لاالٰہ الااﷲ ولاحول ولاقوۃ الّاباﷲالعلی العظیم۔ “
مزید فرماتے ہیں:
’’ترمذی میں سیّدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : جو ہر نماز میں سلام کے بعد یہ دُعا پڑھے : اللھم فاطرالسموت والارض عالم الغیب و الشھادۃ الرحمٰن الرحیم انی اعھد الیک فی ھذہ الحیاۃ الدنیابانک انت اﷲ الذی لا الہ الا انت وحدک لاشریک لک وان محمّداً عبدک ورسولک فلاتکلنی الی نفسی فانک ان تکلنی الی نفسی تقربنی من الشر وتباعدنی من الخیر وانی لا اثق الا برحمتک فاجعل رحمتک لی عھداً عندک تؤدیہ الی یوم القیمۃ انک لاتخلف المیعادفرشتہ اسے لکھ کر مُہر لگا کر قیامت کے لئے اُٹھارکھے ، جب اللہ تعالی اُس بندے کو قبر سے اُٹھائے ، فرشتہ وہ نوشتہ ساتھ لائے اور ندا کی جائے عہد والے کہاں ہیں ، انہیں وہ عہد نامہ دیا جائے۔‘‘
امام نے اسے روایت کرکے فرمایا : وعن طاؤس انہ امر بھذہ الکلمات فکتبت فی کفنہ امام طاؤس کی وصیّت سے عہد نامہ اُن کے کفن میں لکھا گیا۔ امام فقیہ ابن عجیل نے اسی دعائے عہدنامہ کی نسبت فرمایا : اذاکتب ھذا الدعاء وجعل مع المیت فی قبرہ وقاہ اﷲ فتنۃ القبر وعذابہ جب یہ دعا لکھ کر میّت کے ساتھ قبر میں رکھ دیں تو اللہ تعالٰی اُسے سوالِ نکیرین وعذابِ قبر سے امان دے۔“ (فتاوی رضویہ ،جلد 9 ،صفحہ 108 ، 109، رضا فائونڈیشن لاہور)
بہار شریعت میں ہے:
”شجرہ یا عہد نامہ قبر میں رکھنا جائز ہے اور بہتر یہ ہے کہ میّت کے مونھ کے سامنے قبلہ کی جانب طاق کھود کر اس میں رکھیں ، بلکہ درمختار میں کفن پر عہد نامہ لکھنے کو جائز کہا ہے اور فرمایا کہ اس سے مغفرت کی امید ہے اور میّت کے سینہ اور پیشانی پر بسم اﷲ الرحمن الرحیم لکھنا جائز ہے۔ ایک شخص نے اس کی وصیّت کی تھی، انتقال کے بعد سینہ اور پیشانی پر بسم اﷲ شریف لکھ دی گئی پھر کسی نے انھیں خواب میں دیکھا، حال پوچھا؟ کہا: جب میں قبر میں رکھا گیا،عذاب کے فرشتے آئے، فرشتوں نے جب پیشانی پر بسم اﷲ شریف دیکھی کہا تو عذاب سے بچ گیا۔ یوں بھی ہو سکتا ہے کہ پیشانی پر بسم اﷲ شریف لکھیں اور سینہ پر کلمہ طیبہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مگر نہلانے کے بعد کفن پہنانے سے پیشتر کلمہ کی انگلی سے لکھیں روشنائی سے نہ لکھیں ۔“(بہار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 853 ،مکتبہ المدینہ کراچی)
وقار الفتاوی میں ہے:
”عہد نامہ وغیرہ قبر میں رکھنا جائز ہے مگر اچھا یہ ہے کہ قبر کی دیوار قبلہ میں چہرہ کے مقابل طاق بنا کر اس میں رکھ دیا جائے ۔۔۔۔۔۔۔کفن میں عہد نامہ رکھنا ضروری نہیں ہے لہذا کفن میں عہد نامہ نہ رکھنے کی وجہ سے آپ کے والد مرحوم کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔“(وقار الفتاوی، جلد 2 ،صفحہ 383 382، بزم وقار الدین)
فتاوی بحرالعلوم میں ہے:
”شجرہ رکھنا جائز ہے ۔ لیکن سرہانے طاق کھود کر رکھا جائے تاکہ تلویث سے محفوظ رہے ۔“(فتاوی بحرالعلوم ،جلد 2صفحہ 36، شبیر برادرز لاہور)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
ممبر فقہ کورس
13 شوال المکرم 1445ھ21اپریل 2024ء