غیر مسلموں کو صدقہ و خیرات دینا
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ غیر مسلموں کو صدقہ و خیرات دینا کیسا ہے؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
موجودہ دور میں تمام غیر مسلم حربی ہیں اور ان کو نہ زکوٰۃ دینا جائز اور نہ ہی صدقات واجبہ و نافلہ دینا جائز ہے۔ ذمی غیر مسلم(جس کے جان ومال کی حفاظت کابادشاہ اسلام نے جزیہ کے بدلے ذمہ لیاہو۔) کو زکوۃ دینا بالاتفاق جائز نہیں بقیہ صدقات واجبہ کے متعلق اختلاف ہے۔مستامن (جسے بادشاہ اسلام نے امان دی ہو۔)کو صدقات واجبہ دینا بھی جائز نہیں۔
حربی غیر مسلم کوکھاناپانی اور رقم وغیرہ مال دینے کی تین صورتیں ہیں :
(1)دینے سے مقصود محض اسے نفع دینا اورخیر پہنچانا ہو ،یہ حرام ہے۔
(2)اپنی ذاتی مصلحت کی وجہ سے دیتا ہومثلااس کے کسی احسان کے بدلے میں یا رشتہ داری کے لحاظ کی وجہ سے ،یہ ممنوع ہے ۔
(3)مصلحت شرعی کی بنا پر جیسے مصلحت اسلام ومسلمین کے لیے محاربانہ چال ہو یا امید ہو کہ اس طرح اسے اسلام کی طرف رغبت ہوگی توجائز ہے۔جبکہ اس میں کسی رسم کفر کا اعزاز نہ ہو ۔
البدائع الصنائع میں ہے:
’’لایجوز صرف الکفارۃ والنذر وصدقۃ الفطر والاضحیۃ الی الحرب‘‘
ترجمہ: کفارہ ،نذر، صدقۂ فطر اورقربانی کاگوشت حربی کافر کو دیناجائز نہیں ہے۔(بدائع الصنائع، جلد7، صفحہ341،دارالکتب العلمیۃ،بیروت)
در مختار میں ہے:
“( لا) تدفع( الی ذمی) لحدیث معاذ (وجاز) دفع (غيرها و غیر العشر) ۔۔۔(إليه) أي الذمي ولو واجبا كنذر وكفارة وفطرۃ ۔۔وأما الحربي ولو مستأمنا فجميع الصدقات لا تجوز له اتفاقا“
ترجمہ:ذمی کافر کو (زکاۃ) نہیں دی جائے گی حضرت معاذ رضی اللہ عنہ والی حدیث کی وجہ سے ۔اور اسکے اور عشر کے علاوہ (صدقات) اسے دینا جائز ہے ۔یعنی ذمی کو اگرچہ واجب ہوں جیسے نذر ، کفارہ اور فطرہ ۔اور بہر حال حربی کافر کیلئے تمام صدقات بالاتفاق ناجائز ہیں اگرچہ وہ (بادشاہِ اسلام سے)امان لے کر آیا ہو ۔(درِمختارمع حاشیہ شامی،باب مصرف الزکاۃ والعشر ، ج2، ص351،352، دار الکتب العلمیہ بیروت)
البحر الرائق میں ہے:
”صح دفع غیر الزکوٰۃ الی الذمی لقولہ تعالٰی لاینھٰکم اﷲ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین الاٰیۃ وقید بالذمی لان جمیع الصدقات فرضا کانت اوواجبۃ اوتطوعا لاتجوز للحربی اتفاقا کما فی غایۃ البیان لقولہ تعالٰی ینھٰکم اﷲ عن الذین قاتلوکم فی الدین واطلقہ فشمل المستامن وقد صرح بہ فی النہایۃ“
ترجمہ :زکوٰۃ کے سوا اور صدقات ذمی کو دے سکتے ہیں، اللہ عزوجل فرماتاہے: تمھیں اللہ ان سے منع نہیں فرماتا جو دین میں تم سے نہ لڑیں، ذمی کی قید اس لئے لگائی کہ حربی کےلئے جملہ صدقات حرام ہیں، فرض ہوں یا واجب یا نفل جیسا کہ غایۃ البیان میں ہے۔ اس لئے کہ اللہ عزوجل فرماتاہے: اللہ تمھیں ان سے منع فرماتاہے جو دین میں تم سے لڑیں، حربی کو مطلق رکھا تومستامن کو بھی شامل ہوا جو سلطان اسلام سے پناہ لے کر دارالاسلام میں آیا اسے بھی کسی قسم کا صدقہ دینا جائز نہیں۔ اور نہایہ میں اس کی صاف تصریح ہے۔ (البحرالرائق، باب المصرف،ج2، ص242، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)
فتاوی قاضی خان میں ہے:
”ولا یجوز صرف الزکاۃ الی الکافر حربیاً او ذمیاً“
رجمہ: یعنی کافر چاہے ذمی ہو یا حربی اسے زکاۃ دینا جائز نہیں ہے۔ (فتاوی قاضی خان، جلد1، صفحہ267، دار الفکر بیروت)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
”وأما اھل الذمۃ فلایجوزصرف الزکاۃ الیھم بالاتفاق واختلفوا في صدقة الفطروالنذور والكفارات قال أبو حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى يجوز إلا أن فقراء المسلمين أحب إلينا كذا في شرح الطحاوي. و اماالحربی المستامن فلا یجوز دفع الزکاۃ و الصدقۃ الواجبۃ الیہ بالاجماع“
ترجمہ : یعنی ذمی کافر تو انہیں بالاتفاق زکاۃ دینا جائز نہیں اور صدقہ فطر، منتیں اور کفارات میں علماء کرام نے اختلاف کیا ہے امام اعظم ابو حنیفہ اور امام محمد رحمہما اللہ فرماتے ہیں جائز ہے مگر مسلمان فقراء کو دینا ہمیں زیادہ محبوب ہے ایسے ہی شرح طحاوی میں ہے اور بہر حال حربی مستامن(یعنی امان لے کر آنے والا) تو اسے زکاۃ اور صدقات واجبہ بالاتفاق دینا جائز نہیں ہے۔(فتاوی عالمگیری، الباب السابع فی المصرف، جلد1، صفحہ188، دارالکتب العلمیہ بیروت)
بہار شریعت میں ہے:
”ہندوستان اگرچہ دارالاسلام ہے مگریہاں کے کفّار ذمّی نہیں ، انھیں صدقات نفل مثلاً ہدیہ وغیرہ دینا بھی ناجائز ہے۔“(بہار شریعت ،جلد1، حصہ5، ص937، مکتبۃ المدینہ کراچی)
فتاوی اہلسنت میں ہے:
”غیر مسلم کو زکاۃ دینا جائز نہیں ہے اگر ان کو زکاۃ دی جائے تو ادا ہی نہیں ہوتی کہ زکاۃ مصرف مسلمان ہیں۔“ (فتاوی اہلسنت، کتاب الزکاۃ،صفحہ 440،مکتبۃ المدینہ کراچی)
فتاوی رضویہ میں سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
”یہاں کے کافروں کو (قربانی کا ) گوشت دینا جائز نہیں وہ خاص مسلمانوں کا حق ہے ۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ457،رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
فتاوی فیض الرسول میں فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
”قربانی کاگوشت کافر کو دینا شرعاًجائز نہیں اورکسی نے دے دیا،تو گنہگار ہے، توبہ کرے اور قربانی ہوجائے گی یعنی کافرکو گوشت دینے کے سبب قربانی کا اعادہ کرنا واجب نہیں۔“ (فتاوی فیض الرسول، جلد2،صفحہ457،شبیر برادرز،لاھور)
فتاوی رضویہ میں ہے:
’’دنیوی معاملت جس سے دین پر ضرر نہ ہو سوا مرتدین ۔۔کے کسی سے ممنوع نہیں ،ذمی تو معاملت میں مثل مسلم ہے ۔۔اور غیر ذمی سے بھی خریدوفروخت ،اجارہ واستیجارہ،ہبہ واستیہاب بشروطہا جائز۔۔اسے نوکر رکھنا جس میں کوئی کام خلاف شرع نہ ہو ،اس کی جائز نوکری کرنا جس میں مسلم پر اس کا استعلا نہ ہو ،ایسے ہی امو رمیں اجرت پر اس سے کام لینا یا اس کا کام کرنا، بمصلحت شرعی اسے ہدیہ دینا جس میں کسی رسمِ کفر کا اعزاز نہ ہو ، اس کا ہدیہ قبول کرنا جس سے دین پر اعتراض نہ ہو ۔‘‘
(فتاوی رضویہ ،جلد14،صفحہ421،رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)
مزید فرماتے ہیں:
’’فاقول سلوک مالی تین طرح ہیں:مرحمت، مکرمت، مکیدت۔اول یہ کہ محض اسے نفع دینا ،خیر پہنچانا مقصود ہو یہ مستامن معاہد کے لئے بھی حرام ہے، امان و معاہد وکفِ ضرر کے لئے ہے نہ کہ اعداء اللہ کو بالقصد ایصال خیر کے واسطے۔دوم یہ کہ اپنی ذاتی مصلحت مثل مکافات احسان ولحاظ رحم کے لئے کچھ مالی سلوک، یہ معاہد سے جائز نامعاہد سے ممنوع۔سوم یہ کہ مصلحت اسلام ومسلمین کےلئے محاربانہ چال ہو، یہ حربی محارب کے واسطے بھی جائز کہ حقیقت بروصلہ سے اسے علاقہ نہیں۔‘‘ (فتاوی رضویہ ،جلد14،صفحہ465،رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)
واللہ و رسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
بابر عطاری مدنی اسلام آباد
26جمادی الاولی1445ھ/ 11دسمبر2023ء
نظر ثانی و ترمیم:
مفتی محمد انس رضا قادری