عورت کی عدت اگر طویل ہوجائے تو فقہ مالکیہ پرعمل

عورت کی عدت اگر طویل ہوجائے تو فقہ مالکیہ پرعمل

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ اگر طلاق کی عدت کے دوران عورت کو ایک بار حیض آکر بند ہو جائے دوبارہ کسی مسئلہ کی وجہ سے اب حیض نہیں آ سکتا ہو تو اس کی عدت کا حکم کیا ہوگا؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب

شرعی طور پر جو عورت غیر حاملہ ہو اور اسے حیض آتا ہو اس کی عدتِ طلاق بحکم ِقرآنی تین حیض ہے۔ اگر کسی وجہ سے حیض بند ہوگیا تو اس کی عدت حیض کے حساب سے ہی شمار ہوگی اگرچہ وہ تین حیض دو ماہ میں آجائیں یا دو سال میں۔ لہذا اگر کسی طبی مسئلہ کے تحت عورت کو حیض آنا بند ہوگیا ہے تو پہلے اس کا علاج کروائے اور اگر کسی طور پر بھی حیض نہیں آ سکا اور طہر طویل ہوگیا تو فقہ حنفی میں اس کا حکم یہ ہے کہ اس کی عدت سن ایاس یعنی پچپن سال تک ہوگی ۔ البتہ امام مالک کے مذہب میں اس کی عدت ایک قول کے مطابق ایک سال ہوگی یعنی نو ماہ مایوسی کے اور تین ماہ عدت کے ہوں گے اور دوسرا قول نو ماہ کا ہے یعنی چھ ماہ مایوسی کے اور تین ماہ عدت کے ہوں گے البتہ نو ماہ کا قول ضعیف ہے اور معتمد قول ایک سال کا ہی ہے ۔ لہذا سخت ضرورت کے تحت اگر کوئی حنفیہ عورت مالکی قاضی یا مفتی اسلام سے امام مالک کے قول پر فتویٰ لے کر عمل کرے تو درست ہے۔

فتاویٰ ھندیہ میں ہے

”ولو رات ثلاثة دما ثم انقطع فعدتھا بالحیض وان طال الی أن تيأس کذا فی عتابیه“

ترجمہ:اور اگر عورت کو تین دن حیض آیا پھر منقطع ہوگیا تو اس کی عدت حیض سے ہی شمار ہوگی اگر یہ عدت طویل ہو جائے تو اس کی عدت سن ایاس تک ہوگی اسی طرح عتابیہ میں مذکور ہے۔(فتاویٰ ھندیہ ، کتاب الطلاق ، باب العدة، جلد 1، صفحہ 528، دار المعرفۃ بیروت)

بحر الرائق میں ہے

”اذا رات ثلاثة ایام وانقطع ومضی سنة او اکثر ثم طلقت فعدتھا بالحیض الی ان تبلغ الی حد الالیاس وھو خمس وخمسون سنة فی المختار کذا فی البزازیہ“

یعنی جب عورت تین دن خون دیکھے اور پھر خون بند ہو جائے حتی کہ سال یا اس سے زیادہ کا عرصہ گذر جائے پھر اسے طلاق ہو جائے تو اس کی عدت طلاق حیض سے ہی ہوگی حتی کہ سن ایاس کو پہنچ جائے اور مذہب مختار کے مطابق وہ پچپن سال کی عمر ہے اسی طرح بزازیہ میں ہے ۔(بحر الرائق ، کتاب الطلاق ، باب العد جلد 4، صفحہ 220 ، دار الکتب العلمیہ بیروت)

فتویٰ رضویہ میں ہے:

”مطلقہ اگر حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل ہے اور اگر نابالغہ ہو یا کبر سن کے سبب سے اب حیض نہیں آتا تو عدت تین ماہ ہے ورنہ تین حیض خواہ دو مہینے میں ہوں یا مثلا دو برس میں۔“(فتویٰ رضویہ ، جلد 13، صفحہ 299، رضا فائونڈیشن لاہور)

بہار شریعت میں ہے :

”عورت کو حیض آچکا ہے مگر اب نہیں آتا اور ابھی سِن ایاس کو بھی نہیں پہنچی ہے اس کی عدت بھی حیض سے ہے جب تک تین حیض نہ آلیں یا سِن ایاس کو نہ پہنچے اس کی عدت ختم نہیں ہوسکتی اور اگر حیض آیا ہی نہ تھا اور مہینوں سے عدت گزاررہی تھی کہ اثنائے عدت میں حیض آگیا تو اب حیض سے عدت گزارے یعنی جب تک تین حیض نہ آلیں عدت پوری نہ ہوگی۔“(بہار شریعت، جلد 2، حصہ 8، صفحہ 237 ،مکتبہ المدینہ کراچی)

النهر الفائق شرح كنز الدقائق میں ہے

”حاضت ثم امتد طهرها لا تعتد بالأشهر إلا إذا بلغت سن الإياس. وعن مالك انقضاؤها بحول وقيل بتسعة أشهر ستة لاستبراء الرحم وثلاثة أشهر للعدة ولو قضى به قاض نفذ.قال الزاهدي: وقد كان بعض أصحابنا يفتون به للضرورة خصوصًا الإمام ۔۔۔وفي (البزازية) والفتوى في زماننا علی قول مالک۔“

ترجمہ:ایسی عورت جو حائضہ ہو پھر اس کے ایام حیض طویل ہو جائے تو وہ بھی مہینوں کے اعتبار سے عدت نہیں گزارے گی مگر یہ کہ وہ سن ایاس کو پہنچ جائے اور امام مالک سے مروی ہے کہ اس کی عدت سال میں مکمل ہو جائے گی اور کہا گیا ہے کہ نو مہینے ہیں اس میں سے چھ ماہ استبراء رحم کے ہیں اور تین ماہ اس کی عدت کے ہیں ۔پس اگر قاضی اس کے متعلق فیصلہ کردے تو اس کا فیصلہ نافذ ہو جائے گا اور زاہدی نے فرمایا کہ ہمارے بعض اصحاب ضرورت کی بناء امام مالک کے قول پر فتویٰ دیتے ہیں اور بزازیہ میں ہے کہ ہمارے زمانے میں فتویٰ امام مالک کے قول پر ہے ۔(النهر الفائق شرح كنز الدقائق ، جلد 2 صفحہ 476 ، دار الفکر بیروت)

فتاوی شامی میں ہے

”وخرج بقوله (ولم تحض) الشابة الممتدة بالطهر بأن حاضت ثم امتد طهرها، فتعتد بالحيض إلى أن تبلغ سن الإياس جوهرة وغيرها، وما في شرح الوهبانية من انقضائها بتسعة أشهر غريب مخالف لجميع الروايات فلا يفتى به (قوله: ثم امتد طهرها) أي سنة، أو أكثر بحر قوله ومن انقضائھا بتسعة شھر سنة منھا مدة الایاس وثلاثة منھا للعدة ورایت بخط شیخ مشائخنا السائحانی ان المعتمد عند المالکیة انه لابد لوفاہ العدة من سنة کاملة تسعة شھر لعدة الایاس وثلاثة اشھر انقضائھا العدة (قوله: نعم لو قضى مالكي بذلك نفذ) لأنه مجتهد فيه، وهذا كله رد على ما في البزازية. قال العلامة: والفتوى في زماننا على قول مالك “

ترجمہ:یہ قول کہ جس کو حیض نہیں آتا سے وہ جوان عورت اس سے خارج ہو جاتی ہے جس کا طہر لمبا ہوگیا جس طرح کہ اس کو حیض آیا پھر اس کا طہر طویل ہوگیا تو وہ عدت حیض ساتھ گزارے گی یہاں تک کہ وہ سن ایاس تک کو پہنچ جائے جوہرہ وغیرہا۔ شرح الوہنیہ میں جو قول ہے کہ نو ماہ گزرنے کے ساتھ عدت ختم ہو جائے گی وہ غریب اور تمام روایات کے خلاف ہے ۔ان کاقول کے جس کا طہر ممتد ہوگیا تو اس سے مراد یہ ہے کہ اس کا طہر سال یا پھر اس سے لمبا ہوگیا ۔اور یہ قول کہ اس کی عدت نو ماہ میں ختم ہو جائے گی ان میں سے چھ ماہ مایوسی کی مدت ہے اور تین ماہ عدت کے ہوں گے ہم نے مشائخ کے شیخ سائحانی کا مخطوط دیکھا ہے کہ مالکیہ کے نزدیک معتمد یہ ہے کہ پوری عدت کے لیے ایک سال ضروری ہے نو ماہ مایوسی کے اور تین ماہ عدت ختم ہونے کے لیے ہوں گے ۔ان کاقول ہاں اگر کوئی مالکی قاضی اس کے مطابق فیصلہ کردے تو وہ نافذ ہو جائے گا کیونکہ یہ ایسا مسئلہ ہے جس میں اجتھاد کیا گیا ہے یہ سب اس کا رد ہے جو بزازیہ میں ہے کہ علامہ صاحب نے فرمایا: ہمارے زمانے میں امام مالک کے قول پر فتوی ہے۔ (ردالمختار ،کتاب الطلاق، باب العدۃ، ج 3، ص نمبر 509، دار الفکر بیروت)

البحر الرائق میں ہے

” وذكر الزاهدي وقد كان بعض أصحابنا يفتون بقول مالك في هذه المسألة للضرورة خصوصا الإمام والدي اهـ.

قلت: لكنه مخالف لجميع الروايات فلا يفتى به نعم لو قضى مالكي به نفذ“

ترجمہ:زاہد ی نے ذکر کیا کہ بعض حنفی فقہاء نے ضرورت کے تحت امام مالک کے قول پر فتوی دیا خصوصا میرے امام والد نے۔ (ابن نجیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں)میں نے کہا: لیکن یہ تمام روایات کے مخالف ہے اور اس پر فتوی نہیں دیاجائے گا۔ ہاں اگر مالکی قاضی ایسا کرے تو وہ نافذ ہے۔(البحر الرائق شرح كنز الدقائق،عدۃ الحر،جلد4،صفحہ142،دار الكتاب الإسلامي)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ممبر فقہ کورس

28شوال المکرم 1445ھ 6مئی 2024ء

نظر ثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں