عورت مرتدہ ہوجائے تو نکاح کا حکم
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس بارے میں کہ کیا اگر عورت مرتدہ ہوجائے تو کیا اس کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الوہاب اللہم ہدایۃالحق والصواب
صورت مستفسرہ کے مطابق اگر عورت مرتدہ ہوجائے تو اس کا نکاح فسخ نہیں ہوگا ،البتہ شوہر پر حرام ہوجاتی ہے جب تک توبہ نہ کرکے اسلام نہ لائے اس سے جماع حرام ہے اور اگر جماع سے اولاد ہوئی تو ولد الحرام ہوگی ولد الزنا نہیں ہوگی اور اس کا نفقہ بھی اس پر لازم نہیں رہتا ہے ۔ اس کو اسلام لانے پر مجبور کیا جائے گا اور بعد از اسلام شوہر اول کے ساتھ ہی نئے مہر کے ساتھ نکاح کرنے پر مجبور کیا جائے گا اگرچہ مہر کم ہو۔ اس کا سبب یہ ہے کہ شاید وہ اپنے شوہر سے خلاصی پانے کے لیے یہ حیلہ اختیار کر رہی ہوں اس فتویٰ سے اس حیلہ کا اور اس معصیت کا بھی سدباب ہو جائے گا ۔
درمختار میں ہے
”تجبر علی الاسلام وعلی تجدید النکاح زجر الھا بمھر یسیر کدینار علیہ الفتوی“
عورت کو اسلام پر مجبور کیا جائے گا بطور زجر کم ترین مہر مثلا ایک دینار کے بدلے تجدید نکاح پر مجبور کیا جائے گا اور اسی پر فتویٰ ہے ۔(درمختار ، کتاب النکاح الکافر، جلد 2، صفحہ 210، مطبوعہ کوئٹہ)
ردالمحتار میں ہے
”فلکل قاض ان یجدوہ بمھر یسیر ولو دینار رضیت ام لا “
یہ قاضی کو اختیار ہے کہ وہ اس عورت سے کمترین مہر کے عوض تجدید نکاح کرائے اگرچہ ایک دینار ہو چاہے وہ عورت اس پر راضی ہو یا نہ ہو ۔(ردالمحتار ،باب النکاح الکافر، جلد 2 ، صفحہ 393، دار احیاء التراث بیروت)
بحرالرائق میں ہے
” وبعض مشایخ بلخ و سمر قند افتی بعدم الفرقۃ بردتھا حسما لباب المعصیۃ والحیلۃ للخلاص منه“
یعنی بلخ اور سمر قند کے بعض علمائے کرام نے عورت کے مرتد ہوجانے سے نکاح فسخ نہ ہونے کا فتوی دیا ہے تا کہ معصیت اور شوہر سے چھٹکارہ پانے کے حیلہ کا دروازہ بالکل بند ہوجائے۔( بحرالرائق ،جلد 3 ، صفحہ 214، مطبوعہ بیروت)
مجمع الانہر میں ہے
”بعض مشائخ بلخ وسمرقند کانوا یفتون بعدم وقوع الفرقہ حسما لباب المعصیہ وعامتھم یقولون یقع الفسخ ولکن یجبر علی النکاح لزوجھا الاول بعد الاسلام وھو ظاہر الروایہ وھو الصحیح لان المقصود یحصل بذلک مشایخ بخارا کانوا علی ھذا وفی الجواھرہ وتجبر الاسلام وتعزر بضرب خمسہ وسبعین سوطا ولیس لھا ان تتزوج الا بزوجھا الاول ولکل قاض ان یجدد بینھما بمھر یسیر ولو بدینار رضیت اواہت کما فی المنیہ“
اور بعض مشائخ بلخ اور سمرقند نے فتویٰ دیا ہے کہ اس سے فرقت واقع نہیں ہوگی تاکہ تا کہ معصیت اور شوہر سے چھٹکارہ پانے کے حیلہ کا دروازہ بالکل بند ہوجائے اور کہتے ہیں کہ نکاح فسخ ہوجائے گا لیکن اس کو اسلام لانے کے بعد پہلے شوہر سے نکاح پر مجبور کیا جائے گا اور یہی ظاہر الروایہ ہے اور یہی صحیح ہے کیونکہ جو مقصود تھا وہ اسی سے حاصل ہوگا اور مشائخ بخارا نے اسی طرح کہا جس طرح جوھرہ میں مذکور ہے کہ اسے اسلام لانے پر مجبور کیا جائے گا اور تعزیرا اسے پچھتر کوڑے مارے جائیں گے اور وہ نکاح نہیں کرے گی مگر زوج اول کے ساتھ ہی اور ایسا ہی فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان دونوں کے درمیان جدید نکاح کروایا جائے گا آسان مہر کے ساتھ اگرچہ ایک دینار ہو اور وہ راضی ہو یا نہ ہو جس طرح منیہ میں مذکور ہے ۔(مجمع الانہر ، جلد 1 ، صفحہ 372، مطبوعہ ، بیروت)
ردالمحتار میں ہے
”وافتی مشایخ بلخ بعدم الفرقہ زجرا و تیسرا (وقولہ زجرا لھا) عبارہ البحر حسما لباب المعصیۃ والحیلۃ للخلاص منه ولا یلزم من ھذا ان یکون الجبر علی تجدید النکاح مقصورا علی ما اذا ارتفعت لاجل الخلاص منہ بل قالوا ذلک سدا لھذا الباب من اصلہ سواء تعمدت الحیلہ ام لا کی لانجعل ذلک حیلہ“
ترجمہ:بلخ کے مشائخ نے عورت کے مرتد ہونے پر فرقت نہ ہونے کا فتویٰ دیا ہے اس عورت کو جھڑکنے اور معاملہ کو آسان کرنے کے سبب سے۔
(قولہ زجرا )اور بحر کی عبارت ہے کہ تاکہ نافرمانی کا دروازہ بند کیا جائے اور خاوند سے چھٹکارا پانے کے حیلہ کا باب بند کردیا جائے اس لئے یہ لازم نہیں آتا کہ تجدید نکاح پر جبر ااسی بات پر مقصور ہے جب وہ عورت اس مقصد کے لیے مرتد ہو کہ وہ مرد سے خلاصی چاہتی ہے بلکہ علماء نے کہا کہ اس باب کو اصلا بند کرنے کے لیے ہے خواہ اس نے یہ حیلہ جان بوجھ کر کیا یا اس نے ایسا نہ کیا تاکہ وہ اس کو حیلہ نہ بنالے۔(ردالمحتار ،باب النکاح الکافر، جلد 2 ، صفحہ 396، دار احیاء التراث بیروت)
فتویٰ رضویہ میں ہےاعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں کچھ اِس طرح سُوال ہوا :
” حکمِ شریعت سُن کر ہِندہ جو کہ شادی شدہ ہے نے غصّہ میں آ کر یا تو یہ کہا : ’’ چُولھے میں جائے ایسی شریعت ‘‘ یا پھر یوں کہا : ’’ مری پڑے ایسی شریعت ۔ ‘‘
جوابا آپ نے فرمایا:
”ہِندہ نے پہلا فِقرہ کہا ہو خواہ دوسرا، (دونوں جُملے صریح کفریات ہیں لہٰذا) ہر طرح اس کا ایمان جاتا رہا کہ اِس نے شَرعِ مُطَہَّرہ کی توہین کی مگرہِندہ(مُرتدہ ہوجانے کے باوُجُود) نکاح سے نہ نکلی ، نہ اُسے رَوا ہے کہ بعدِ اسلام کسی دوسرے سے نکاح کر لے” لان الفتوی علی روایہ النوادر لاجل فساد الزمان کما بیناہ فی فتاونا “(کیونکہ فساد زمانہ کی وجہ سے فتویٰ نوادر کی روایت پر ہے جیسا کہ ہم نے اس کو اپنے فتاویٰ میں بیان کیا ہے)۔ ہاں (چُونکہ وہ اپنے ارتِداد کے سبب اپنے شوہر پر حرام ہو چکی ہے لہٰذا) بعدِ(قبولِ) اسلام سابِقہ شوہر ہی سے تجدیدِ نکاح پر مجبور کی جائے گی احتیاطا لاصل المذہب ( احتیاط کے طور پر واسطے اصل مذہب کے) زید اگر اس سے ترک تعلق چاہے تو طلاق دے ہندہ کا نفقہ زید پر نہیں جب تک اسلام نہ لائے کہ وہ اپنے فعل سے زید پر حرام ہوگئی ہے ولا نفقہ لمرتدہ ( مرتدہ کے لیے نفقہ نہیں) مگر مرتدہ ہونے سے مہر مدخولہ ساقط نہیں ہوتا وکمال بدستور زید پر واجب ہے تجدید نکاح میں مہر جدید برضائے فریقین معین ہونا یا پہلی تعداد کا لحاظ کچھ ضرور نہیں بلکہ ہندہ سب سے کم مہر پر مجبور کی جاسکتی ہے جس طرح نکاح پر مجبور کی جائے گی ۔“ (فتاوٰی رضویہ، جلد 12 ،صفحہ 263 ، رضا فائونڈیشن لاہور)
فتویٰ رضویہ میں ہے :
”ہندہ مرتدہ کافرہ ہوگئی، شوہر پرحرام ہوگئی، جب تک توبہ کرکے اسلام نہ لائے اس سے جماع حرام ہے، اس جماع سے جو اولاد ہوگی ولدالحرام ہوگی اگرچہ ولدالزنانہ کہیں، ہندہ پر فرض ہے کہ اس ملعون ناپاک لفظ سے توبہ کرے اور از سر نو مسلمان ہو، اس کے بعد زیددوگواہوں کے سامنے اس سے دوبارہ نکاح کرے۔ “(فتویٰ رضویہ، جلد 14 ،صفحہ 653 ،رضا فائونڈیشن لاہور)
فتاویٰ مصطفویہ میں ہے :
”عورت کی ردت سے نزد مشایخ بلخ و سمر قند فرقت واقع ہی نہیں ہوتی” وحسما لباب المعصیۃ وسد الباب الفتنه” یہی فتوی دیتے ہیں نیز امام صفارو و امام دبوسی رحمہما اللہ تعالی نے اسی کو اختیار فرمایا اور اسی پر فتوی دیا” وانا اقول و باللہ التوفیق” قرآن مقدس کا ارشاد ہے” بیدہ عقدۃ النکاح” یعنی نکاح کی گرہ مرد ہی کے ہاتھ میں تو یہ ارشاد الہی بھی بظاہر اسی کو مقتضی کہ ردت عورت سے فرقت نہ واقع ہو” چنانچہ شرع شریف نے عورتوں کو یہ راہ نہ دی ورنہ روز بروز جانے کتنی عورتیں اپنے شوہروں سے ناراض ہو کر انکی قید نکاح سے نکلنے کو کفر کیا کرتیں۔“(فتوی مصطفویہ، صفحہ 344، مطبوعہ اعلیٰ حضرت)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
بنت عثمان
29جمادی الآخر 1445ھ12جنوری 2024ء