عورت عدت کس گھر میں پوری کرے گی؟

عورت عدت کس گھر میں پوری کرے گی؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کہ بارے میں کے ایک آدمی کے دو گھر ہوں ایک گاؤں میں ایک شہر میں اور اس کا انتقال ہوجائے اور بوقت انتقال وہ آدمی اپنے بچوں اور بیوی کے ساتھ شہر والے گھر میں مقیم تھا۔لیکن کسی کام کے سلسلے میں گاؤں گیا اور وہیں انتقال و تدفین ہوئی زوجہ کو اطلاع شہر والے گھر میں ہوئی تو آیا وہ عورت کس گھر میں عدت پوری کرے گی؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

صورتِ مسئولہ کا جواب یہ ہےوفات سے پہلے شوہر نے جس گھر میں زوجہ کو رہائش دی ہوئی تھی اس عورت پر اُسی گھر میں عدت گزارنا لازم ہے، بغیر ضرورت کے مکان بدلنے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ عدت کی حالت میں عورت اپنے خاوند کی اہلیہ ہی رہتی ہے لہذا بوقت انتقال جس جگہ شوہر کے ساتھ رہ رہی تھی اسی گھر میں مدتِ عدت کو پورا کرے گی۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

” وَ الَّذِيْنَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ يَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا يَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًا“

ترجمہ: اور تم میں سے جو مر جائیں اور بیویاں چھوڑیں تو وہ بیویاں چار مہینے اور دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں۔(پارہ2، سورۃ البقرہ، آیت 234)

اس آیت میں بیوہ کی عدت کا ذکر ہو رہا ہے، عِدَّت کا لغوی معنی ٰ شمار اور گنتی ہے، جبکہ شرعاً اس سے مراد ہے کہ شوہر کے طلاق دینے یا وفات پا جانے کے بعد عورت آگے کسی سے نکاح کرنے سے پہلے ایک مخصوص مدت تک انتظار کرے۔ امام رازی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں کہ یہاں اس آیت مبارکہ میں بیوہ عورتوں کو شوہر کی موت کے بعد خود کو ایک مخصوص مدت تک روکے رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، مگر یہاں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ کس چیز سے روکے رکھیں؟ چنانچہ یاد رکھئے کہ بیوہ عورت کو 3 چیزوں سے رکے رہنے کا پابند کیا ہے: (1)نکاح سے(2)خاوند کے گھر سے نکلنے سے اور(3)زینت سے۔ اب اگر کوئی عورت عدت کی پابندیاں پوری نہ کرے یعنی مذکورہ تینوں چیزوں سے نہ رکے تو جو اسے روکنے پر قادر ہے وہ اسے روکے، اگر نہیں روکے گا تو وہ بھی گناہ گار ہو گا۔(ماہنامہ خواتین، ویب ایڈیشن صفحہ3،اگست2022 سلسلہ تفسیرِ قرآن موضوع بیوہ کی عدت)

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

“لَا تُخْرِجُوہُنَّ مِن بُیُوتِہِنَّ وَ لَا یَخْرُجْنَ‘‘

ترجمہ کنز العرفان:تم عورتوں کو (ان کی عدت میں) ان کے گھروں سے نہ نکالو اورنہ وہ خود نکلیں۔ (القرآن الکریم، پارہ28، سورة الطلاق،آیت:1)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

”علی المعتدۃ ان تعتد فی المنزل الذی یضاف الیھا بالسکنیٰ حال وقوع الفرقۃ والموت ، لو کانت زائرۃ اھلھا او کانت فی غیر بیتھا لامر حین وقوع الطلاق انتقلت الی بیت سکناھا بلا تأخیر، و کذا فی عدۃ الوفاۃ“

یعنی شوہر کی موت یا فرقت کے وقت معتدہ عورت جس مکان میں رہائش پذیر تھی، اسی مکان میں عدت گزارے گی،لہٰذا اگر طلاق واقع ہوتے وقت والدین کے گھر تھی یا کہیں اور تھی، تو بغیر تاخیر کئے اپنے رہائشی گھر لوٹ آئے، اسی طرح عدت وفات میں بھی ہے۔ ( الفتاویٰ الھندیۃ، کتاب الطلاق، باب الحداد، جلد1، صفحہ 559، مطبوعہ بیروت)

فتاوی رضویہ میں سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ سے سوال ہوا:

”ہندہ باہر تھی اور خبر انتقال شوہر سن کر آئی اور ایک مکان میں قیام کیا جس میں بیٹھک ہے اور ایک دروازہ صدر ہے لہذاایّام عدت میں بیٹھک سے مکان میں جاسکتی ہے یانہیں؟“

اس کےجواب میں ارشاد فرمایا:

”سائل نے بیان کیا کہ عورت گوالیار میں تھی اور وہاں سے آئی، شوہر کا مکان گاؤں میں، یہ وہاں نہ گئی بلکہ شہر میں ایک غیر شخص کے یہاں ٹھہری، اس کے بیٹھک اور زنانخانہ کاکیا پوچھنا اس سے سفر کرکے آنا حرام تھا اور غیر شخص کے یہاں ٹھہرنا حرام تھا، بیٹھک ہویازنانخانہ اسے حکم ہے کہ شوہر کے مکان میں عدت پوری کرے، واﷲ تعالی اعلم۔“ (فتاوی رضویہ ، جلد13،صفحہ332،مطبوعہ رضافاؤنڈیشن لاہور)

وقار الفتاویٰ میں ہے:

”شوہر کی موت یا طلاق کے وقت عورت جس مکان میں ہوگی اسی میں عدت گزارے گی، بغیر مجبوری کے مکان تبدیل نہیں کرسکتی۔“ ( وقار الفتاویٰ ، کتاب الطلاق، باب العدۃ، جلد 3، صفحہ 202، مطبوعہ کراچی)

فتاویٰ بحر العلوم میں ہے:

”عورت طلاق سے پہلے جس گھر میں شوہر کیساتھ رہتی تھی طلاق کے بعد اسی گھر میں عدت کے دن پورے کرنا عورت پر واجب ہے۔“( فتاویٰ بحر العلوم،کتاب الطلاق، جلد 3، صفحہ 423، مطبوعہ لاہور)

رد المحتار میں ہے:

“أبانها، أو مات عنها في سفر) ولو في مصر (وليس بينها) وبين مصرها مدة سفر رجعت ولو بين مصرها مدته وبين مقصدها أقل مضت (وإن كانت تلك) أي مدة السفر (من كل جانب) منهما ولا يعتبر ما في ميمنة وميسرة، فإن كانت في مفازة (خيرت) بين رجوع ومضي (معها ولي، أو لا في الصورتين، والعود أحمد) لتعد في منزل الزوج (و) لكن (إن مرت) بما يصلح للإقامة كما في البحر وغيره. زاد في النهر: وبينه وبين مقصدها سفر (أو كانت في مصر) أو قرية تصلح للإقامة (تعتد ثمة) إن لم تجد محرما اتفاقا، وكذا إن وجدت عند الإمام “

ترجمہ: دوران سفر شوہر نے طلاق بائن دے دی یا شوہر کا انتقال ہو گیا اور عورت کے گھر اور شہر کا درمیان شرعی مسافت نہیں ہے تو گھر واپس آئے، اور اگر شہر تک شرعی مسافت ہے اور منزل مقصود تک شرعی مسافت نہیں ہے، تو اب منزل مقصود کو چلی جائے، اور اگر دونوں جانب شرعی مسافت ہو اس میں دائیں، بائیں کی مسافت کا اعتبار نہیں ہے اور وہاں آبادی بھی نہ ہو تو اسے اختیار ہے، چاہے تو منزل مقصود پر چلی جائے اور چاہے تو واپس آجائے ولی ساتھ ہو یا نہ ہو اور بہتر واپس آکر شوہر کے گھر میں عدت گزارنا ہے، اور اگر عورت کے گھر اور منزل مقصود کے مابین شرعی مسافت ہو یا اس وقت عورت شہر میں ہو یا دیہات میں ہو لیکن اقامت کرنا ممکن ہو تو وہیں عدت پوری کرے اگر محرم ساتھ نہ تو بالاتفاق، اور امام اعظم علیہ الرحمہ کے نزدیک محرم کی صورت میں بھی یہی حکم ہے ۔ (درمختارمع ردالمحتار، کتاب الطلاق، جلد5، صفحہ232-233، دار المعرفۃ، بیروت)

واللہ و رسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ

بابر عطاری مدنی اسلام آباد

6رجب المرجب1445ھ/ 18جنوری2024ء

اپنا تبصرہ بھیجیں