طلاق کی عدت اور اس کے متعلقہ احکام

طلاق کی عدت اور اس کے متعلقہ احکام

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس بارے میں کہ ایک عورت کو جس حیض میں طلاق دی گئی تھی اس نے اس حیض کو بھی اپنی عدت میں شمار کرلیا اور اس کو ملا کر تین حیض گزار کر عدت گزار کر دوسرا نکاح کرلیا تو آیا اس کا اب دوسری جگہ نکاح کرنے کا کیا حکم ہوگا؟نیز اب علیحدگی کا کیا طریقہ ہوگا؟

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الوہاب اللہم ہدایۃالحق والصواب

شرعا بحکمِ قرآن طلاق کی عدت غیر حاملہ کی تین حیض ہے اور حیض میں طلاق دینا اگرچہ گناہ ہے لیکن طلاق واقع ہو جاتی ہے ،مگر جس حیض میں طلاق دی گئی تھی وہ عدت میں شمار نہیں ہوگا، اس حیض کے علاوہ تین حیض گزار کر عدت مکمل ہوگی،عدت کے دوران کسی دوسرے سے نکاح کرنا ناجائز و حرام ہے۔

عدت میں نکاح کیا تو اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر شوہر کو عدت میں ہونا معلوم تھا تو نکاح باطل ہے اور زنا ہے جس میں متارکہ کی بھی حاجت نہیں فورا ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں اور اگر تعلق خاص قائم بھی کرلیا تو یہ زنا ہے اور کی عدت بھی نہیں پہلے شوہر کی عدت مکمل کرکے جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے چاہے اس دوسرے سے کرلے یا کسی اور سے نکاح کرلے۔

اور اگر عورت کا عدت میں ہونا معلوم نہیں تھا تو نکاح فاسد ہے اس صورت میں اگر تعلق خاص قائم نہیں ہوا تو عدت نہیں اور متارکہ ضروری ہے چاہے ایک دوسرے کی موجودگی میں کیا جائے یا غیر موجودگی میں اور دوسرے نکاح کی عدت نہیں ہے پہلی عدت مکمل کرکے جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے اور اگر تعلق خاص قائم ہوگیا تو اب اس صورت میں عدت بھی لازم ہوگی اور عدت گزار کر اس سے یا کسی اور سے بھی نکاح کرسکتی ہے۔(لیکن اگر پہلے شوہر نے تین طلاقیں دی تھیں تو اس سے بغیر حلالہ نکاح نہیں کرسکتی)

متارکہ یہ ہے شوہر کا عورت کے متعلق کہنا کہ میں نے اسے چھوڑ دیا یا طلاق دے دے یا بیوی کہے کہ میں تجھ سے یا اس سے جدا ہوگئی۔

طلاق کی عدت کے متعلق قرآن پاک میں ہے

﴿وَ الْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوْٓءٍ﴾

ترجمہ کنزالایمان: اور طلاق والیاں اپنی جانوں کو روکے رہیں تین حیض تک۔ (سورۃ البقرہ،سورۃ2،صفحہ228)

ردالمحتار میں ہے

”لأن الحيضة التي وقع فيها الطلاق لا تحسب من العدة“

ترجمہ:جس حیض میں طلاق دی وہ عدت میں شمار نہیں ہوگا۔ (رد المحتار، جلد 3،صفحہ 234، مطبوعہ بیروت)

فتاوی ہندیہ میں ہے

” إذا طلق امرأته في حالة الحيض كان عليها الاعتداد بثلاث حيض كوامل ولا تحتسب هذه الحيضة من العدة كذا في الظهيرية“

ترجمہ:اگر آدمی نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی تو عورت پر مکمل تین حیض عدت گزارنا لازم ہے اور یہ حیض(جس میں طلاق دی)عدت میں شمار نہیں ہوگا جیسا کہ ظہیریہ میں ہے۔(فتاوی ہندیہ،کتاب الطلاق،باب فی العدۃ،ج 1،ص 527،دار الفکر،بیروت)

مجمع الانہر میں ہے

”(ولا يحتسب) من العدة (حيض طلقت فيه) ؛ لأن ما وجد منها قبل الطلاق لا يحتسب من العدة فلا يحتسب ما بقي؛ لأن الحيضة لا تتجزأ“

ترجمہ:اور جس حیض میں طلاق دی وہ عدت میں شمار نہیں ہوگا کیونکہ جتنا حیض اسے طلاق سے قبل آیا وہ عدت میں شمار نہیں ہوگا اور اس کے علاوہ سے عدت شمار ہوگی کیونکہ حیض تقسیم نہیں ہوسکتا۔ (مجمع الأنھر، کتاب الطلاق ،جلد 1، صفحہ 465، دار الکتب العلمیہ بیروت)

بہار شریعت میں ہے:

” حیض کی حالت میں طلاق دی تو یہ حیض عدت میں شمار نہ کیا جائے بلکہ اس کے بعد پورے تین حیض ختم ہونے پر عدت پوری ہوگی۔“(بہار شریعت،ج 2،حصہ 8،ص 235،مکتبۃ المدینہ)

ھدایہ میں ہے

”واتفقوا علی ان النکاح لا یجوز فی العدۃ أکانت عدۃ الحیض او عدۃ حمل او عدۃ اشھر“

یعنی تمام اہل علم متفق ہیں کہ عدت میں نکاح جائز نہیں عدت خواہ حیض کی ہو یا حمل کی ہو یا مہینوں کی ہو ۔(ھدایۃ ، کتاب النکاح، فصل فی مانع العدۃ ، جلد 4صفحہ 472 ، مطبوعہ بیروت)

درمختار مع ردالمختار میں ہے

”وھوالذی فقدشرطامن شرائط الصحۃ کشھودومثلہ ۔۔۔نکاح المعتدۃ۔۔۔۔۔ أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا.۔ ۔۔ وعلى هذا فيقيد قول البحر هنا ونكاح المعتدة بما إذا لم يعلم بأنها معتدة“

ترجمہ:اور نکاح فاسدوہ نکاح ہے ،جس میں صحت نکاح کی شرائط میں سے کوئی شرط مفقودہو مثلاگواہوں کاہونا۔اورایسے ہی عدت والی کانکاح بھی نکاح فاسدہے ۔بہرحال دوسرے کی منکوحہ اوراس کی معتدہ سے نکاح کرکے دخول کیا تواس سے عدت لازم نہیں ہوگی اگراسے معلوم ہوکہ یہ دوسرےکی ہے کیونکہ کسی نے بھی اس کے جوازکاقول نہیں کیاتویہ سرے سے منعقدہی نہیں ہوا۔ اوراس بناپربحرکاجومسئلہ ہے کہ معتدہ کانکاح فاسدہے اسے اس صورت کے ساتھ مقیدکیاجائے گاجبکہ اسے معتدہ ہونامعلوم نہ ہو۔(الدرالمختارمع ردالمحتار،کتاب النکاح،ج04،ص 266،دارالمعرفۃ، بیروت )

فتویٰ ھندیہ میں ہے

”لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة كذا في السراج الوهاج سواء كانت العدة عن طلاق أو وفاة أو دخول في نكاح فاسد أو شبهة نكاح كذا في البدائع“

ترجمہ:اور آدمی کے لئے غیر کی زوجہ سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے اور اسی طرح معتدہ سے بھی جیسا کہ سراج الوھاج میں مذکور ہے ،برابر ہے کہ وہ عدت طلاق کی ہو یا وفات کی ہو یا نکاح فاسد میں دخول کی ہو یا شبہ نکاح کی ہو جیسا کہ بدائع میں ہے ۔(الفتاوی الھندیۃ،کتاب النکاح،القسم السادس المحرمات التی یتعلق بھا حق الغیر ،ج:1،ص:280 دار المعرفۃ بیروت)

البحر الرائق میں ہے

”أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا فعلى هذا يفرق بين فاسده وباطله في العدة ولهذا يجب الحد مع العلم بالحرمة لكونه زنا كما في القنية“

ترجمہ: باقی کسی اور کی بیوی سے یا عدت والی سے نکاح تو ا سے دخول عدت کو واجب نہیں کرتا اگراسے معلوم ہوکہ یہ دوسرےکی ہے کیونکہ کسی نے بھی اس کے جوازکاقول نہیں کیاتویہ سرے سے منعقدہی نہیں ہوا۔ تو یہاں عدت میں نکاح فاسد اور باطل میں فرق کیا جائے گا ۔ اس میں حد واجب ہوتی جبکہ علم ہو کیونکہ اس میں حرمت متحقق ہے اور یہ زنا ہے جیسا کہ قنیہ میں ہے۔(البحر الرائق،باب العدة لما ترتبت في الوجود علي الفرقه بجميع،ج:4،ص:156، دار الکتب العلمیہ بیروت)

درمختارمیں ہے :

”(و) يثبت (لكل واحد منهما فسخه ولو بغير محضر عن صاحبه دخل بهاأولا) في الأصح“

ترجمہ:اورمردوعورت میں سے ہرایک کوفاسدنکاح ختم کرنے کااختیارہوتاہے اگرچہ دوسرے کی غیرموجودگی میں کرے،عورت کے ساتھ دخول ہواہویانہ ہوا،اصح قول کے مطابق۔(الدرالمختارمع ردالمحتار،کتاب النکاح،ج04،ص 267،دارالمعرفۃ، بیروت )

فتاوی رضویہ میں ہے:

” اگربکر نے یہ جان بوجھ کر کہ ابھی عورت عدت میں ہے اس سے نکاح کرلیا تھا جب تو وہ نکاح نکاح ہی نہ ہوا زنا ہوا، تواس کے لئے اصلاً عدت نہیں اگرچہ بکر نے صدہا بار عورت سے جماع کیا ہوکہ زنا کاپانی شرع میں کچھ عزت ووقعت نہیں رکھتا عورت کو اختیار ہے جب چاہے نکاح کرلے ۔ اور اگر بکر نے انجانی میں نکاح کیا تو یہ دیکھیں گے کہ اس چار برس میں ا س نے عورت سے کبھی جماع کیا ہے یانہیں، اگر کبھی نہ کیا تو بھی عدت نہیں، بکر کے چھوڑتے ہی فوراً جس سے چاہے نکاح کرلے،اور جو ایک بار بھی جماع کرچکا ہے تو جس دن بکر نے چھوڑ ا اس دن سے عورت پر عدت واجب ہوئی جب تک اس کی عدت سے نہ نکلے دوسرے سے نکاح نہیں کرسکتی، اور عدت طلاق کی چار مہینے دس دن نہیں یہ عدت موت کی ہے، طلاق کی عدت تین حیض کا مل ہیں یعنی بعد طلاق کے ایک نیا حیض آئے، پھر دوسرا، پھر تیسرا، جب یہ تیسرا ختم ہوگا اس وقت عدت سے نکلے گی اور اسے جس سے چاہے نکاح کرنا روا ہوگا۔“ (فتاوی رضویہ،ج 13،ص 302،303،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)

فتاوی رضویہ میں ہے:

” اگر اس دوسرے شخص کو وقت نکاح معلوم تھا کہ عورت ہنوزعدت میں ہے یہ جان کر اس سے نکاح کرلیا جب تو وہ زنائے محض تھا عدت کی کچھ حاجت نہیں نہ طلاق کی ضرورت بلکہ ابھی جس سے چاہے نکاح کرے جبکہ شوہر اول کی عدت گزر چکی ہو اور اگر اسے عورت کا عدت میں ہونا معلوم نہ تھا توطلاق کی اب حاجت نہیں مگر متارکہ ضرو ر ہے یعنی شوہرکا عورت سے کہنا کہ میں نے تجھے چھوڑدیا یا عورت کا اس سے کہہ دینا کہ میں تجھ سے جدا ہوگئی، اس کے بعد عدت بیٹھے عدت کے بعد جس سے چاہے نکاح کرے۔“(فتاوی رضویہ،ج 11،ص 423،رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

بہار شریعت میں ہے :

”نکاح فاسد میں تفریق یامتارکہ کے وقت سے عدّت ہے، اگرچہ عورت کو اس کی خبر نہ ہو۔ متارکہ یہ ہے کہ اسے چھوڑ دے، مثلاً یہ کہے میں نے اسے چھوڑا، یا چلی جا، یا نکاح کر لے یا کوئی اور لفظ اسی کے مثل کہے اور فقط جانا، آنا ،چھوڑنے سے متارکہ نہ ہوگا، جب تک زبان سے نہ کہے اور لفظ طلاق سے بھی متارکہ ہو جائے گا مگر اس طلاق سے یہ نہ ہوگا کہ اگر پھر اس سے نکاح صحیح کرے، تو تین طلاق کا مالک نہ رہے بلکہ نکاح صحیح کرنے کے بعد تین طلاق کا اسے اختیار رہے گا۔“(بہار شریعت، جلد 2 ،حصہ 7، صفحہ 74، مکتبہ المدینہ کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

بنت عثمان

25رجب المرجب 1445ھ06فروری 2024ء

اپنا تبصرہ بھیجیں