طلاق کا علم نہ ہوتو عورت کی عدت کا حکم

طلاق کا علم نہ ہوتو عورت کی عدت کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس بارے میں کہ عورت کی عدت کب سے شروع ہوتی ہے جبکہ اسے طلاق دے دی جائے یا تب سے کہ جب اسے علم ہو اور جب اسے پتہ چلے تو کیا وہ عدت میں بیٹھ جائے؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب

صورت مستفسرہ کے مطابق عدت ایک مقررہ مدت کا نام ہے جس میں عورت شوہر کی وفات یا طلاق کی صورت میں وضع حمل(بچہ پیدا ہونے ) یا تین حیض یا جسے حیض نہیں آتا وہ تین مہینوں تک شادی کرنے سے رکی رہتی ہے۔ عورت کی عدت شوہر کی وفات یا طلاق دینے کے فوراً بعد شروع ہو جاتی ہے اس میں عورت کو اس کا علم ہونا ضروری نہیں ۔اگر اسے عدت کے گزرنے کے بعد علم ہوا تو اب اس کی عدت مکمل ہو چکی ہے اور اسے دوبارہ سے عدت گزارنے کی ضرورت نہیں۔

فتح الباری میں ہے

”العدة اسم لمدة تتربص فيها المرأة عن التزويج بعد وفاة زوجها أو فراقه لها، إما بالولادة أو بالأقراء أوالأشهر“

ترجمہ:عدت اس مقررہ مدت کو کہتے ہیں جس میں ایک عورت شوہر کی وفات یا اس سے جدائی کی وجہ سے وضعِ حمل یا مقررہ حیض یا مقررہ مہینوں تک شادی کرنے کے لیے انتظار کرتی ہے۔(فتح الباری ، ج 9, ص 480، مطبوعہ بیروت)

الجوہرۃ النیرہ میں ہے:

”لان العدۃ ھی مضی الزمان فاذا مضت المدۃ انقضت العدۃ“

ترجمہ: اس لئے کہ عدت زمانہ کے گزرنے کا نام ہے تو جب مدت گزر گئی تو عدت بھی ختم ہوگئی۔(الجوہرۃ النیرۃ،جلد 2،کتاب العدۃ،صفحہ 158،ملتان)

قدوری میں ہے:

”و ابتداء العدۃ فی الطلاق عقیب الطلاق و فی الوفاۃ عقیب الوفاۃ فان لم تعلم بالطلاق او الوفاۃ حتی مضت العدۃ فقد انقضت عدتھا“

ترجمہ:عدتِ طلاق کی ابتدا طلاق واقع ہونے کے فورا بعد سے ہوجاتی ہے اور عدتِ وفات کی شروعات انتقال کے فورا بعد، تو اگر عورت کو طلاق یا وفات کا علم نہ ہوا یہاں تک کہ عدت کا وقت گزر گیا تو تحقیق اس کی عدت ختم ہوگئی۔(مختصر القدوری،کتاب العدۃ،صفحہ 402،موسسۃ الریان)

فتاویٰ ھندیہ میں ہے

”ابتداء العدة في الطلاق عقيب الطلاق، وفي الوفاة عقيب الوفاة، فإن لم تعلم بالطلاق أو الوفاة حتى مضت مدة العدة فقد انقضت عدتها، كذا في الهداية“

ترجمہ:اور عدت طلاق کی ابتداء طلاق واقع ہونے کے فوراً بعد ہوجاتی ہے عدت وفات کی ابتداء انتقال ہونے کے فوراً بعد ہو جاتی ہے اور اگر عورت کو طلاق یا وفات کا علم نہ ہو تو یہاں تک کہ مدت عدت گزر جائے تو تحقیق اس کی عدت ختم ہو چکی جیسا کہ ہدایہ میں ہے۔(فتاویٰ ھندیہ ، جلد 1 ، صفحہ 532، دار الفکر بیروت)

بہار شریعت میں ہے:

”طلاق کی عدت وقتِ طلاق سے ہے اگرچہ عورت کو اس کی اطلاع نہ ہو کہ شوہر نے اُسے طلاق دی ہے اور تین حیض آنے کے بعد معلوم ہوا تو عدت ختم ہوچکی ۔“(بہار شریعت،جلد 2،حصہ 8،صفحہ 236،مکتبۃ المدینہ)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

بنت عثمان

09شعبان المعظم 1445ھ20فروری 2024ء

اپنا تبصرہ بھیجیں