صحابہ کرام کے خلاف زبان درازی کرنے پر شیعوں کی دلیل

صحابہ کرام کے خلاف زبان درازی کرنے پر شیعوں کی دلیل

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس بارے میں کہ اویس ربانی اینکر نے ایک شیعہ ذاکر سے انٹرویو کیا جس میں شیعہ ذاکر نے کہا ہے کہ صحابہ کرام سے گناہ کرنا ثابت ہے ،کسی صحابی نے چوری کی، کسی نے بدکاری وغیرہ اور ان پر شرعی سزا جاری ہوئی ہے۔ ہم شیعہ جب ان روایتوں کو بیان کرتے ہیں تو ہمیں گستاخ کہہ دیا جاتا ہے جب کہ یہ اہل سنت ہی کی کتب میں احادیث موجود ہیں۔ آپ اس حوالے سے شرعی حکم ارشادفرمائیں کہ شیعہ ذاکر کا یہ بیان درست ہے یا نہیں؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

صحابہ کرام علیہم الرضوان کے خلاف شیعہ کا زبان درازی کرنا بلکہ ان ہستیوں کو گالیاں نکالنا ثواب سمجھنا اور اس پر سوال میں بیان کردہ واقعات کو دلیل بنانا انتہائی درجے کی جہالت و بدبختی ہے جو شیعوں کے حصے آئی ہے۔

عقیدۂ اہلسنت یہ ہے کہ معصوم صرف انبیاء کرام علیہم السلام اور فرشتے ہیں،صحابہ کرام معصوم نہیں ہیں۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان کو اللہ تعالیٰ نے عظیم درجہ عطا فرمایا ہے۔ اور یہ اللہ پاک کے فضل کے سبب گناہوں سے محفوظ ہوتے ہیں، خدانخواستہ گناہ ہو جائے تو وہ اس پر قائم نہیں رہتے بلکہ فوراً توبہ و رجوع الی اللہ (اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع)کرتے اور اپنے گناہ کی معافی مانگتے ہیں۔ اگر عام مسلمان سے بھی گناہ سرزد ہو جائے اور وہ توبہ کر لے تو اسے اس گناہ پر ملامت کرنے،طعنہ دینے کا کسی کو حق نہیں، کہ گناہ سے توبہ گناہ کو مٹا دیتی ہے۔ اگر کوئی تائب کو طعنہ دے تو بمطابق حدیث پاک وہ وعید کا مستحق ہے کہ مرنے سے پہلے اسی گناہ میں وہ خود مبتلا ہو جائے گا۔

جن بعض صحابہ و صحابیات سے لغزش و خطا سرزد ہوئی اللہ پاک نے سب سے درگزر فرما کر مژدۂ بہشت(جنت کی بشارت) سے سرفراز فرمایا۔ اور ان کو توبہ اور اپنی طرف رجوع و استغفار کا شرف عطا کیا جیسا کہ ایک صحابی ماعز رضی اللہ عنہ سے غلطی سرزد ہوئی تو اپنے آپ کو حد کیلئے پیش کر دیا تاکہ پاک ہو جاؤں، ان پر حد جاری ہوئی تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان کی توبہ کی تعریف و شان بیان کی۔یونہی ایک صحابیہ کا واقعہ ہے۔

یہ ہے میرے آقا علیہ الصلاۃ والسلام کے صحابہ کی شان! کہ غلطی ہونے پر دنیا میں ہی شرعی حد کے لئے اپنے آپ کو پیش کر کے ایسی توبہ کی کہ رب کے محبوب بھی ان کی سچی توبہ کی گواہی دے رہے ہیں اور ان سے جو معاملات سرزرد ہوئے ان سے ہمیں شرعی احکامات پتہ چل رہے ہیں۔ تو کیسا بدباطن، خبیث المزاج، اور گھٹیا آدمی ہے جو حضور کے صحابہ کی سابقہ خطائیں ذکر کر کے ان پر طعن و ملامت کرے، اللہ کی پناہ، اور رافضی ان چند واقعات کا تو بہانہ بنا رہا ہے کیونکہ جن صحابہ کرام کی زندگی بھر قابل حد کوئی گناہ اللہ پاک کی حفاظت کے سبب سرزد نہیں ہوا ان پر بھی شیعہ لوگ طعنہ و تبرا کرتے ہیں ،ان شیعوں کے نزدیک بس چار پانچ صحابہ کرام صحیح ہیں باقی سب معاذ اللہ مرتد ہیں۔

صحابۂ کِرام رضی اللہ عنھم کی عظَمت قرآن و حدیث اور امتِ مسلمہ کے اجماع سے ثابت ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں یہ بات اظہر من الشمس(سورج کی طرح روشن) ہے کہ تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان اہلِ خیر و صلاح ، عادل ، متقی اور جنّتی ہیں ، ان کا جب بھی ذکر کیا جائے، تو خیر ہی کے ساتھ ہونا فرض ہے ، کیونکہ اللہ پاک نے اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے تمام صحابہ سے جنت کا وعدہ فرمایا ہے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے تمام صحابہ کا ذکر بھلائی و اچھائی ہی کے ساتھ کرنے کا حکم ارشاد فرمایا اور ان کا ذکر برائی سے کرنے اور ان پر طعن و اعتراض کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ لہٰذا کسی بھی صحابی کی بےادبی و توہین اور ان سے بُغض و بُرا گمان رکھنا فسق و گمراہی اور جہنم کی حقداری ہے اور ایسا شخص اہلِ سنت سے خارج ہے ۔

الرسالۃ القشیریۃ میں ہے:

”ومن شرط الولي أن یکون محفوظاً، کما أنّ من شرط النبي أن یکون معصوماً“

ترجمہ:اور ولی کے لیے شرط ہے کہ وہ محفوظ ہوتا ہے جیسا کہ نبی کے لیے معصوم ہونا شرط ہے۔(الرسالۃ القشیریۃ ، باب الولایۃ، صفحہ 292 ، مطبوعہ، بیروت)

امام اہلسنت امام احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں:

’’اجماعِ اہلسنت ہے کہ بشر میں انبیا ء علیہم الصلاۃ والسلام کے سواکوئی معصوم نہیں،جو دوسرےکو معصوم مانے اہلسنت سے خارج ہے۔‘‘(فتاوی رضویہ،جلد14، صفحہ187، رضافاؤنڈیشن، لاہور)

صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی فرماتے ہیں:

”صحابہ کرام انبیاء نہ تھے، فرشتے نہ تھے کہ معصوم ہوں ان میں سے بعض کے لئیے لغزشیں ہوئیں مگر ان کی کسی بات پہ گرفت کرنا اللہ و رسول کے خلاف ہے۔“ (بہار شریعت ،حصہ اول ،جلد1، صفحہ 254،مطبوعہ مکتبہ المدینہ)

بہار شریعت میں ہے:

”بخلاف ائمہ و اکابر اولیا، کہ ﷲ عزوجل اُنھیں محفوظ رکھتا ہے، اُن سے گناہ ہوتا نہیں، مگر ہو تو شرعاً محال بھی نہیں۔“(بہار شریعت، جلد 1 ،حصہ 1، صفحہ 41 ،مکتبہ المدینہ، کراچی)

صدر الافاضل مولانا سید نعیم الدین مرادآبادی لکھتے ہیں:

”انبیاء اور فرشتوں کے سوا معصوم کوئی بھی نہیں ہوتا اولیاء کو اللہ تعالٰی اپنے کرم سے گناہوں سے بچاتا ہے مگر معصوم صرف انبیاء اور فرشتے علیھم السلام ہیں۔“(کتاب العقائد ، ص21)

الترغیب والترہیب کی حدیث پاک ہے:

”التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ“

ترجمہ:گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسا کبھی گناہ کیا ہی نہیں۔(الترغیب والترہیب،جلد4، صفحہ7 ،مطبوعہ، بیروت)

ترمذی شریف میں ہے:

” قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم من عیر اخاہ بذنب لم یمت حتی یعملہ قال احمد:قالوا من ذنب قد تاب عنہ“

ترجمہ:فرمایا جس شخص نے اپنے(مسلمان)بھائی کو کسی گے گناہ پہ شرمندہ کیا وہ شخص اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک خود اس گناہ میں مبتلاء نہ ہو۔ احمد نے کہا کہ محدثین نے فرمایا اس گناہ پہ شرمندہ کرنا جس سے وہ توبہ کر چکا ہے۔(ترمذی شریف ابواب الزھد،باب 2،ص77،مطبوعہ،قدیمی کتب خانہ کراچی)

اسی میں ہے:

”اذا ارداللہ بعبدہ الخیر عجل لہ العقوبۃفی الدنیا واذا ارادہ الشر امسک عنہ بذنبہ حتی یوافی بہ یوم القیامۃ“

ترجمہ:اللہ جب کسی بندے سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے گناہ کی سزا دنیا ہی میں دے دیتا ہے ۔جس کے ساتھ خیر کا ارادہ نہیں فرماتا ہے اس کو اس کے گناہ کے ساتھ روکے رکھتا ہے یہاں تک کہ قیامت دن اسے اس کا پورا بدلہ دیتا ہے۔ (ایضا)

مشکوٰۃ المصابیح میں صحیح مسلم کے حوالے سے ہے:

”وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! طَهِّرْنِي فَقَالَ: “وَيْحَكَ! ارْجِعْ، فَاسْتَغْفِرِ اللَّه، وَتُبْ إِلَيْهِ”، قَالَ: فَرَجَعَ غَيْرَ بَعِيدٍ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! طَهِّرْنِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ، حَتَّى إِذَا كَانَتِ الرَّابِعَةُ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “فِيمَ أُطَهِّرُكَ؟ ” قَالَ: مِنَ الزِّنَا، قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “أَبِهِ جُنُونٌ؟ ” فَأُخْبِرَ أَنَّهُ لَيْسَ بِمَجْنُونٍ، فَقَالَ: “أَشَرِبَ خَمْرًا؟ ” فَقَامَ رَجُلٌ، فَاسْتَنْكَهَهُ، فَلَمْ يَجِدْ مِنْهُ رِيحَ خَمْرٍ، فَقَالَ: “أَزَنَيْتَ؟ ” قَالَ: نَعَمْ فَأَمَرَ بِهِ، فَرُجِمَ، فَلَبِثُوا يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً، ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: “اسْتَغْفِرُوا لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ،لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ قُسِّمَتْ بَيْنَ أُمَّةٍ لَوَسِعَتْهُمْ”، ثُمَّ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ غَامِدٍ مِنَ الأَزْدِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! طَهِّرْنِي، فَقَالَ: “وَيَحَكِ ارْجِعِي، فَاسْتَغْفِرِي اللّٰهَ، وَتُوبِي إِلَيْهِ”، فَقَالَتْ: تُرِيدُ أَنْ تُرَدِّدَنِي كَمَا رَدَدْتَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ إِنَّهَا حُبْلَى مِنَ الزِّنَا، فَقَالَ: “أَنْتِ؟ ” قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ لَهَا: “حَتَّى تَضَعِي مَا فِي بَطْنِكِ” قَالَ: وَكفَلَهَا رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ حَتَّى وَضَعَتْ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: قَدْ وَضَعَتِ الْغَامِدِيَّةُ، فَقَالَ: “إِذًا لَا نَرْجُمُهَا وَنَدَعُ وَلَدَهَا صَغِيرًا، لَيْسَ لَهُ مَنْ يُرْضِعُهُ”، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ: إِلَيَّ رَضَاعُهُ يَا نَبِيَّ اللّٰهِ، قَالَ: فَرَجَمَهَا، وَفِي رِوَايَةٍ أَنَّهُ قَالَ لَهَا: “اذْهَبِي حَتَّى تَلِدِي” فَلَمَّا وَلَدَتْ، قَالَ: “اذْهَبِي فَأَرْضِعِيهِ حَتَّى تَفْطِمِيهِ” فَلَمَّا فَطَمَتْهُ، أَتَتْهُ بِالصَّبِيِّ فِي يَدِهِ كِسْرَةُ خُبْزٍ، فَقَالَتْ: هَذَا يَا نَبِيَّ اللّٰهِ قَدْ فَطَمْتُهُ،وَقَدْ أَكَلَ الطَّعَامَ، فَدَفَعَ الصَّبِيَّ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا، فَحُفِرَ لَهَا إِلَى صَدْرِهَا، وَأَمَرَ النَّاسَ، فَرَجَمُوهَا، فَيُقْبِلُ خَالِدُ بْنُ الْوَليدِ بِحَجْرٍ فَرَمَى رَأْسَهَا، فَتَنَضَّحَ الدَّمُ عَلَى وَجْهِ خَالِدٍ، فَسَبَّهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “مَهْلًا يَا خَالِدُ! فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا صَاحِبُ مَكْسٍ لَغُفِرَ لَهُ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا، فَصَلَّى عَلَيْهَا، وَدُفِنَتْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ“

ترجمہ:روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں کہ ماعز ابن مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے بولے یا رسول اﷲ مجھے پاک فرمادو تو فرمایا افسوس ہے ارے لوٹ جا اﷲ سے معافی مانگ لے اور توبہ کرلے فرماتے ہیں وہ تھوڑی دور لوٹے پھر آگئے عرض کیا یارسول ا ﷲ مجھے پاک فرمادو تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا حتی کہ جب چوتھی بار ہوئی تب اس سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا میں تجھے کس چیز سے پاک کروں عرض کیا زنا سے فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اسے دیوانگی ہے؟ خبر دی گئی کہ اسے دیوانگی نہیں۔ پھر فرمایا کیا اس نے شراب پی ہے ؟تو ایک شخص اٹھا اس نے اس کے منہ کی بو سونگھی تو اس سے شراب کی بو نہ پائی۔ تب فرمایا کیا تو نے زنا کیا ہے؟ عرض کیا ہاں۔ تو رجم کیا گیا ۔لوگ دو تین دن ٹھہرے پھر رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے فرمایا ماعز ابن مالک کے لیے دعائے مغفرت کرو اس نے ایسی شاندار توبہ کی ہے کہ اگر ایک جماعت کے درمیان وہ بانٹ دی جائے تو ان کو شامل ہوجائے۔ پھر حضور کی خدمت میں ازد کے قبیلہ غامد کی عورت آئی بولی یارسول اﷲ مجھے پاک فرما دو فرمایا افسوس تجھ پر لوٹ جا اﷲ سے معافی مانگ اور توبہ کر بولی کیا آپ چاہتے ہیں کہ مجھے ایسے لوٹا دیں جیسے ماعز ابن مالک کو لوٹایا تھا یہ بندی تو زنا سے حاملہ ہے تب فرمایا کہ تُو،بولی ہاں۔ تب اس سے فرمایا حتّٰی کہ تو اپنے پیٹ کے بچہ کو جن دے ۔راوی نے کہا کہ اس کا ایک انصاری مرد کفیل و ضامن ہوگیا حتی کہ اس نے جن دیا۔ تب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا عرض کیا کہ غامدیہ نے بچہ جن دیا ۔فرمایا تب تو ہم اس کو رجم نہ کریں گے اس کے چھوٹے بچے کو یوں ہی نہ چھوڑیں گے کہ اسے کوئی دودھ پلانے والا نہ ہو تو ایک انصاری مرد کھڑا ہوا عرض کیا کہ اس کا دودھ میرے ذمہ ہے یا نبی ا ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ فرماتے ہیں تب اسے رجم کیا گیا اور ایک روایت میں یوں ہے كه فرمایا جا حتی کہ بچہ جن دے پھر جب جن چکی تو فرمایا جا اسے دودھ پلا حتی کہ اس کا دودھ چھوڑا دے پھر جب اس کا دودھ چھڑا دیا تو بچہ کو لے کر آئی اس کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا بولی یا نبی ﷲ میں نے اس کا دودھ چھوڑا دیا ہے اور اب بچہ کھانا کھانے لگا ہے تب حضور نے بچہ ایک مسلمان کے سپرد کیا پھر اس کے متعلق حکم دیا تو اس کے لیے سینہ تک گڑھا کھودا گیا اور لوگوں کو حکم دیا انہوں نے اسے رجم کیا خالد ابن ولید پتھرلا رہے تھے وہ اس کے سر میں مارا تو خالد کے چہرے پر خون کی چھینٹیں پڑ گئیں اسے خالد نے برا کہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھہر جا اے خالد اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر یہ توبہ ٹیکس لینے والا کرتا تو اس کو بھی بخش دیا جاتا پھر حکم دیا تو اس پر نماز پڑھی گئی اور وہ دفن کردی گئی ۔(مشکوٰۃ المصابیح بحوالہ مسلم، کتاب الحدود، مقررہ سزاؤں کا بیان، حدیث3562 )

صحابہ کرام علیہم الرضوان کے متعلق غلیظ عقائد شیعوں کی کتب سے ملاحظہ ہوں:

1۔امام باقر رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:

”كَانَ النَّاسُ أَهْلَ رِدَّةٍ بَعْدَ النَّبِيِّ ( صلى الله عليه وآله ) إِلَّا ثَلَاثَةً فَقُلْتُ وَ مَنِ الثَّلَاثَةُ فَقَالَ الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ وَ أَبُو ذَرٍّ الْغِفَارِيُّ وَ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ“

ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد لوگ مرتد ہوگئے تھے سوائے تین اشخاص کے راوی کہتا ہے میں نے کہا اور وہ تین کون ہیں؟توانہوں نے کہاالمقداد بن اسود ،ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔( کتاب الروضہ من الکافی 8/245)

2۔قاضی نوراللہ شوشتری نے لکھا ہے کہ امام باقر سے روایت ہے کہ:

”ارتد الناس إلا ثلاثة نفر: سلمان، وأبو ذر، والمقداد“

ترجمہ: تین کے سوا تمام لوگ مرتد ہوگئے تھے سلمان فارسی ،ابوذر غفاری اور مقداد بن اسود۔(مجالس المومنین 1/203 مطبوعہ تہران)

اس کے بعد لکھتا ہے کہ:

”حضرت امام فرمود کہ جمیع مشاہیر صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کہ استماع نص نبوی در باب خلافت امیرالمومنین نمودہ بوند مرتد شد ندالاسہ نفرکہ سلمان وابوذر ومقداد است“

ترجمہ:امام باقر رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ تمام مشہور صحابہ امیرالومنین رضوان اللہ عنھم اجمعین کی خلافت کے بارے نص نبوی سننے کے باوجود پھر گئے اور مرتد ہوگئے سوائے تین اشخاص کے یعنی سلمان،ابوذر اور مقداد۔(مجالس المومنین 1/203)

3۔ ابو جعفر الطوسی رافضی لکھتاہے:

”عن حمران بن أعين قال: قلت لابي جعفر عليه السلام: جعلت فداك ما أقلنا لو اجتمعنا على شاة ما أفنيناها؟ فقال: ألا احدثك بأعجب من ذلك، المهاجرون والانصار ذهبوا إلا وأشار بيده ثلاثة“

ترجمہ:حمران نے کہا میں نے امام باقر سے کہا ہماری تعداد کس قدر کم ہے اگر ہم ایک بکری پر جمع ہوں تو اسے بھی ختم نہ کرپائیں امام نے کہا میں تجھے اس سے بھی عجیب بات بتاتا ہوں۔میں نے کہا ضرور فرمایا مہاجرین وانصار تین کے علاوہ سب چلے گئے یعنی مرتد ہوگئے۔(رجال کشی ص:7تحت ترجمہ سلمان الفارسی)

قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے :

﴿وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّناۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ﴾

ترجمۂ کنز الایمان : اور وہ جو اُن کے بعد آئے عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دل میں ایمان والوں کی طرف سے کینہ نہ رکھ اے رب ہمارے بےشک تو ہی نہایت مہربان رحم والا ہے ۔(پارہ28 ، سورۃ الحشر ، آیت10)

اس آیت کے تحت علامہ سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر خزائن العرفان میں فرماتے ہیں :

”جس کے دل میں کسی صحابی کی طرف سے بغض یا کدورت ہو اور وہ ان کے لیے دعائے رحمت و استغفار نہ کرے ، وہ مومنین کی اقسام سے خارج ہے ، کیونکہ یہاں مومنین کی تین قسمیں فرمائی گئیں ۔ مہاجرین ، انصار اور ان کے بعد والے ، جو ان کے تابع ہوں اور ان کی طرف سے دل میں کوئی کدورت نہ رکھیں اور ان کے لیے دعائے مغفرت کریں ، تو جو صحابہ سے کدورت رکھے ، رافضی ہو یا خارجی ، وہ مسلمانوں کی ان تینوں قسموں سے خارج ہے ۔ حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا : کہ لوگوں کو حکم تو یہ دیا گیا کہ صحابہ کے لیے استغفار کریں۔ اور کرتے ہیں یہ کہ(انہیں)گالیاں دیتے ہیں۔“(تفسیر خزائن العرفان ، پارہ28 ، سورۃ الحشر ، آیت10، مکتبۃ المدینہ)

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:

﴿ وَکُلًّا وَّعَدَ اللہُ الْحُسْنٰی ﴾

ترجمہ کنز الایمان: اور ان سب سے اللہ جنّت کا وعدہ فرماچکا ۔ (پارہ 27،سورۃ الحدید، آیت10)

تفسیر قرطبی میں اس آیت کے تحت فرمایا:

”فِيهِ خَمْسُ مَسَائِلَ الخامسة قوله تعالى: (وكلا وعد اللہ الحسنى) أي المتقدمون المتناهون السابقون، والمتأخرون اللاحقون، وعدهم اللہ جميعا الجنة مع تفاوت الدرجات“

ترجمہ:اس میں پانچ مسائل کا ذکر ہے ۔پانچواں مسئلہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان :اللہ تعالیٰ نے سب سے حسنیٰ کا وعدہ فرمالیا ہے یعنی سبقت کرنے والے پہلے اور بعد میں شامل ہونے والے متاخرین اللہ تعالیٰ نے ان سب سے درجات کے فرق کے ساتھ جنت کا وعدہ فرمالیا ہے۔(الجامع لاحكام القرآن للقرطبی، جزء17،صفحہ205،207، مطبوعہ کوئٹہ)

تفسیر مظہری میں ہے:

”وَكُلًّا ۔۔۔اى كل واحد من الفريقين من الصحابة الذين أنفقوا قبل الفتح والذين أنفقوا بعده وَعَدَ اللہ الْحُسْنى ، لا يحل الطعن فى أحد منهم ولا بد حمل مشاجراتهم على محامل حسنة واغراض صحيحۃ او خطأ فى الاجتهاد ۔۔۔وَاللہ بِما تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ عالم بالبواطن كعلمه بالظواهر فيجازى كلا على حسبه“

ترجمہ:اور تمام یعنی وہ صحابہ کرام جنہوں نے قبل فتح مکہ خرچ کیا اور جنہوں نے بعد فتح مکہ خرچ کیا ان دونوں گروہوں میں سے ہر ایک سے اللہ تعالیٰ نے حسنیٰ کا وعد فرمالیا۔ان میں سے کسی ایک کے بارے میں طعن کرنا حلال نہیں ہے اور ان کے مشاجرات کو اچھے محامل اور درست اغراض یا اجتہادی خطا پر محمول کرنا ضروری ہےاور جو تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے خبردار ہے ۔وہ باطن کو بھی ایسے ہی جانتا ہے جیسے ظاہر کو جانتا ہے،تووہ ہر ایک کو اس کے مطابق بدلہ دے گا۔ (تفسير مظھری، جلد9، صفحہ192، مطبوعہ کوئٹہ)

صحیح بخاری وصحیح مسلم وغیرہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

’’لا تسبوا أصحابي، فلو أن أحدكم أنفق مثل أحد ذهبا ما بلغ مد أحدهم، ولا نصيفه‘‘

ترجمہ:میرے صحابہ کو بُرا نہ کہو،پس اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ جتنا سونا خیرات کرے ،تو وہ ان کے ایک مُد یا آدھا مُد خیرات کرنے کو نہیں پہنچ سکتا ہے۔(صحیح بخاری ،کتاب المناقب، جلد1، صفحہ518، مطبوعہ کراچی)

حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

”اللہَ اللہَ في أصحابي، لا تتخذوهم غرضا بعدي، فمن أحبهم فبحبي أحبهم ، ومن أبغضهم فببغضي أبغضهم، ومن آذاهم فقد آذاني ومن آذاني فقد آذى اللہ ، ومن آذى اللہ يوشك أن يأخذہ “

ترجمہ: میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو ، اللہ کا خوف کرو ، میرے بعد انہیں (اعتراضات کا) نشانہ نہ بنانا ۔ جس نے انہیں محبوب رکھا ، تو میری محبت کی وجہ سے محبوب رکھا اور جس نے ان سے بغض رکھا ، تو مجھ سے میرے بغض رکھنے کی وجہ سے بغض رکھا اور جس نے انہیں تکلیف دی ، اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف دی ، تو بے شک اس نے اللہ پاک کو تکلیف دی اور جس نے اللہ پاک کو تکلیف دی ، قریب ہے کہ اللہ پاک اُسے (اپنے عذاب میں) گرفتار فرمائے۔(جامع الترمذی ، باب فی من سَبّ اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ج2 ، ص706 ، مطبوعہ لاھور)

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’لا تذکروا مساوی اصحابی فتختلف قلوبکم علیھم و اذکروا محاسن اصحابی حتی تاتلف قلوبکم علیھم‘‘

ترجمہ:میرے صحابہ کا تذکرہ برائی کے ساتھ مت کرو کہ تمہارے دل ان کے خلاف ہوجائیں ،میرے صحابہ کی اچھائیاں بیان کرو ،یہاں تک کہ تمہارے دل ان کے لیے نرم ہوجائیں ۔ (کنز العمال ،کتاب الفضائل، الباب الثالث ،الفصل الاول، جزء11، صفحہ247، مطبوعہ لاھور)

حضرت سیدُنا ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:

”لا تذکروا مساوی اصحابی فتختلف قلوبکم علیھم واذکروا محاسن اصحابی حتی تاتلف قلوبکم علیھم “

ترجمہ:میرے صحابہ کا تذکرہ برائی کے ساتھ مت کرو کہ تمہارے دل ان کے خلاف ہوجائیں ،میرے صحابہ کی اچھائیاں بیان کرو ،یہاں تک کہ تمہارے دل ان کے لیے نرم ہوجائیں۔(کنز العمال ،کتاب الفضائل ،الباب الثالث ،الفصل الاول ،جزء11، صفحہ247، لاھور)

المسامرہ میں ہے:

”(واعتقاد أھل السنۃ) والجماعۃ (تزکیۃ جمیع الصحابۃ) رضي اللہ عنھم وجوباً بإثبات العدالۃ لکل منھم والکف عن الطعن فیھم، (والثناء علیھم کما أثنی اللہ سبحانہ وتعالی علیھم) “

ترجمہ:اہل سنت کا عقیدہ(یہ ہے کہ) تمام صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی عدالت کو ثابت کرنے کے ساتھ ان کی پاکیزگی بیان کرناواجب ہے اور ان سب کے معاملہ میں طعن سے رکے رہنا واجب ہے اور ان کی تعریف کرنا ہے،جیساکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ان کی تعریف کی ہے ۔ (المسامرۃ شرح المسایرہ ،الرکن الرابع ،الاصل الثامن ، صفحہ259، دارالکتب العلمیہ )

الصواعق المحرقۃ علی أہل الرفض والضلال والزندقۃ میں علّامہ ابن حجر مکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’قال ابن الصلاح والنووي الصحابۃ کلہم عدول وکان للنبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم مائۃ ألف وأربعۃ عشر ألف صحابي عند موتہٖ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، والقرآن والأخبار مصرّحان بعدالتہم وجلالتہم ولما جری بینہم محامل ‘‘

’’ابن صلاح اور امام نووی فرماتے ہیں کہ: تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عادل و متقی تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت ایک لاکھ چودہ ہزار صحابہ تھے،قرآن کریم اور احادیث طیبہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عدالت و تقوی اور جلالت شان کی صراحت و وضاحت کررہے ہیں، اور ان کے باہمی مشاجرات و معاملات کے محامل اور تاویلات موجود ہیں۔(الصواعق المحرقۃ علی أہل الرفض والضلال والزندقۃ، جلد2 صفحہ 640، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)

علامہ عبد الغنی الغنیمی لکھتے ہیں:

”و بغیر الحق لانذکرھم، ونری حبھم دینا وایمانا واحسانا، وبغضھم کفرا و نفاقا و طغیانا“

ترجمہ:ھم صحابہ کا ذکر حق کے ساتھ کرتے ہیں ان کی محبت کو دین، ایمان، احسان سمجھتے ہیں۔ ان کے بغض کو کفر، نفاق، سرکشی سمجھتے ہیں۔ (شرح العقیدہ الطحاویہ، ص33، مطبوعہ دارالفکر بیروت)

علامہ تفتازانی لکھتے ہیں:

”ویکف عن ذکر الصحابۃ الا بخیرلما ورد من الاحادیث الصحیحۃ فی مناقبھم و وجوب الکف عن الطعن فیھم“

صحابہ کے ذکر سے زبان بند رکھی جائے سوائے ذکر خیر کے، کیونکہ ان کی شان میں احادیث صحیحہ وارد ہوئی ہیں اور ان کی شان میں طعن کرنے سے زبان کو روکنا واجب ہے۔(شرح العقائد النسفیہ ،ص337، مکتبہ المدینہ)

علامہ عبد الغنی الغنیمی لکھتے ہیں

”قال ابو القاسم الحکیم: الرافضۃ اقبح فعلا من الیہود والنصاری از لو قیل لیھودی من افضل الناس بعد موسیٰ قال نقباءہ ولو قیل للنصرانی من افضل الناس بعد عیسیٰ قال حواریین ولو قیل للرافضی من اشر الناس قال اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقبحھم اللہ ویکفی فی الرد علیھم قولہ تعالی:{ان الذین یؤذون اللہ و رسولہ لعنھم اللہ فی الدنیا والآخرۃ}“

ترجمہ:فرمایا ابو القاسم حکیم نے کہ روافض یہود و نصاری سے بھی برے ہیں کیونکہ اگر یہودی سے پوچھا جائے کہ موسٰی علیہ السلام کے بعد کون افضل ہے تو کہے گا موسٰی علیہ السلام کے نقیب،نصاری سے پوچھا جائے کہ عیسٰی علیہ السلام کے بعد کون افضل تو کہے گا ان کے حواری، جب کسی رافضی سے پوچھا جائے کہ لوگوں میں سے بدترین کون ہیں تو کہے نبی کے اصحاب (العیاذ باللہ تعالی)، اللہ پاک انہیں رسوا کرے، اور ان کے رد کیلئے اللّٰہ پاک کا یہ فرمان کافی ہے:بے شک وہ لوگ جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول کو ایذاء پہنچائی ان پر دنیا و آ خرت میں اللہ کی لعنت ہے۔(شرح العقیدہ الطحاویہ، ص135، دارالفکر ،بیروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

”تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اہلِ خیر و صلاح ہیں اور عادل، ان کا جب ذکر کیا جائے ،تو خیر ہی کے ساتھ ہونا فرض ہے۔ کسی صحابی کے ساتھ سوءِ عقیدت بدمذہبی و گمراہی و استحقاقِ جہنم ہے کہ وہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ بُغض ہے۔ ایسا شخص رافضی ہے، اگرچہ چاروں خلفا ءکو مانے اور اپنے آپ کو سُنّی کہے ۔۔۔ کوئی ولی کتنے ہی بڑے مرتبہ کا ہو ، کسی صحابی کے رتبہ کو نہیں پہنچتا۔صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے باہم جو واقعات ہوئے،ان میں پڑنا حرام، حرام، سخت حرام ہے، مسلمانوں کو تو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ سب حضرات آقائے دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے جاں نثار اور سچے غلام ہیں ۔۔۔ صحابہ کرام رضی ﷲ تعالیٰ عنہم انبیاء نہ تھے، فرشتہ نہ تھے کہ معصوم ہوں ، ان میں بعض کے لیے لغزشیں ہوئیں، مگر ان کی کسی بات پر گرفت ﷲ و رسول (عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کے خلاف ہے۔اﷲعزوجل نے سورۂ حدید میں جہاں صحابہ کی دو قِسمیں فرمائیں، مومنین قبلِ فتحِ مکہ اور بعدِ فتحِ مکہ اور اُن کو اِن پر تفضیل دی اور فرما دیا:﴿ وَکُلًّا وَّعَدَ اللہُ الْحُسْنٰی﴾ سب سے اللہ نے بھلائی کا وعدہ فرما لیا۔ ساتھ ہی ارشاد فرما دیا:﴿ وَ اللہُ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴾ ﷲ خوب جانتا ہے، جو کچھ تم کرو گے۔ تو جب اُس نے اُن کے تمام اعمال جان کر حکم فرما دیا کہ ان سب سے ہم جنتِ بے عذاب و کرامت و ثواب کا وعدہ فرما چکے، تو دوسرے کو کیا حق رہا کہ اُن کی کسی بات پر طعن کرے؟ کیا طعن کرنے والا ﷲ (عزوجل) سے جدا اپنی مستقل حکومت قائم کرنا چاہتا ہے۔ملخصا “(بہار شریعت ، حصہ1، ج1 ، ص252 -255، مکتبۃ المدینہ ،کراچی)

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب

مولانامحمد شاہد حمید

1جمادی الثانی1445ھ

نظر ثانی و ترمیم:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں