شرعی فقیر کے بینک اکاؤنٹ میں رقم بھیجنے سے زکوٰۃ ادا ہونا
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ مستحقِ زکوۃ(فقیر شرعی)کے بینک اکاؤنٹ میں رقم بھیجنے سے زکوۃ ادا ہو جائے گی؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون المک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
صورتِ مسئولہ کا جواب یہ ہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کی شرائط میں سے ایک شرط “تملیک” یعنی فقیر شرعی کو زکوٰۃ کی رقم (یا کسی چیز) کا مکمل طور پہ مالک بنادینا ہے اور چونکہ اکاؤنٹ میں رقم منتقل ہونے کی صورت میں اکاؤنٹ ہولڈر کا اس رقم پر مکمل قبضہ پایا جاتا ہے، اسے اس رقم پر مالکانہ تصرف حاصل ہوجاتا ہے اور بھیجنے والے کا قبضہ ختم ہوجاتا ہے لھذا صورتِ مذکور میں بھی شرطِ تملیک پائی جارہی ہے جس سے زکوۃ ادا ہو جائے گی۔
تنویر الابصار مع درمختار میں ہے:
’’یشترط ان یکون الصرف (تملیکا) لا اباحۃ‘‘
یعنی زکوۃ کی ادائیگی بطورِ تملیک ہونا شرط ہے،بطورِ اباحت کافی نہیں۔(تنویر الابصار مع الدر المختار، جلد3،صفحہ341،مطبوعہ پشاور)
بدائع الصنائع میں ہے:
”أِمَّا رُكْنُهُ فَهُوَ التَّمْلِيكُ وَالْإِيتَاءُ هو التَّمْلِيكُ“
ترجمہ: یہ کہ زکوۃ کا رکن وہ تملیک ہے اور دے دینے میں ملکیت ہے۔(بدائع الصنائع،فصل وامابيان ركن هذا لنوع وشرائط الركن، جلد2، صفحہ64)
فتاوی رضویہ میں سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
’’عوض زرِ زکوٰۃ کے، محتاجوں کو کپڑے بنا دینا ،انہیں کھانا دے دینا ،جائز ہے اور اس سے زکوٰۃ ادا ہو جائے گی ،خاص روپیہ ہی دینا واجب نہیں ،مگر ادائے زکوٰۃ کے معنی یہ ہیں کہ اس قدر مال کا محتاجوں کو مالک کر دیا جائے،اسی واسطے اگر فقراء و مساکین کو مثلاً :اپنے گھر بلا کر کھانا پکا کر بطریقِ دعوت کھلا دیا،تو ہرگز زکوٰۃ ادا نہ ہو گی، کہ یہ صورت اباحت ہے،نہ کہ تملیک،یعنی مدعو اس طعام کو ملکِ داعی پر کھاتا ہے اور اس کا مالک نہیں ہو جاتا۔ ہاں اگر صاحبِ زکوٰۃ نے کھانا خام، خواہ پختہ مستحقین کے گھر بھجوا دیا یا اپنے ہی گھر کھلایا، مگر بتصریح پہلے مالک کر دیا،تو زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد10، صفحہ70تا71،رضا فاؤنڈیشن،لاھور)
بہار شریعت میں صدرِشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
”مباح کر دینے سے زکاۃ ادا نہ ہوگی، مثلاً فقیر کو بہ نیت زکاۃ کھانا کھلا دیا زکاۃ ادا نہ ہوئی کہ مالک کر دینا نہیں پایا گیا، ہاں اگر کھانا دے دیا کہ چاہے کھائے یا لےجائے تو ادا ہوگئی۔ یوہیں بہ نیت زکاۃ فقیر کو کپڑا دے دیا یا پہنا دیا ادا ہوگئی۔“(بہار شریعت، حصہ5، زکوۃ کا بیان، صفحہ874، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ،کراچی)
واللہ ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
بابر عطاری مدنی اسلام آباد
16شعبان المعظم1445ھ/26فروری2024ء