سعودیہ کا رہنے والا زکوۃ و فطرہ کو کس اعتبار سے ادا کرے گا

سعودیہ کا رہنے والا زکوۃ و فطرہ کو کس اعتبار سے ادا کرے گا

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ کیا سعودی عرب میں رہنے والا اپنی زکوٰۃ کس اعتبار سے ادا کرے گا جبکہ اس کی کچھ پراپرٹی اور سونا یہاں پاکستان میں بھی ہے اور اسی طرح اس کے صدقہ فطر کی ادائیگی کا کیا حکم ہوگا کہ کس اعتبار سے ادا کرے گا اور یہ رقم پاکستان بھجوائی جاسکتی ہے ؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب

صورت مسئولہ کے مطابق زکوٰۃ میں جہاں مال ہو اس جگہ کا اعتبار ہوگا اگرچہ جس کا مال ہے وہ کئی اور جگہ پر ہو لہذا جو مال یہاں پاکستان میں ہے تو اس مال پر زکوٰۃ یہاں کی کرنسی کے اعتبار سے واجب ہوگی سونے پر تو بہرحال زکوٰۃ بنے گی اور پراپرٹی اگر بیچنے کی نیت سے خریدی ہے تو اس پر بھی زکوٰۃ بنے گی اور جو مال سعودی عرب میں ہے اس پر زکوٰۃ وہاں کی کرنسی کے اعتبار سے واجب ہوگی۔

صدقہ و فدیہ وکفارے جس پر لازم ہوئے ہیں اس کی جگہ کا اعتبار ہوگا لہذا سعودی عرب میں رہنے والا وہاں کے اناج کی قیمت کے اعتبار سے صدقہ فطر ادا کرے گا ہاں البتہ یہ اختیار ہے کہ زکوٰۃ اور صدقہ فطر کی وجوبی قیمت جس کرنسی میں چاہے ادا کرسکتا ہے ۔

اور زکوٰۃ کی رقم سعودی عرب سے پاکستان بھی بھجوا سکتے ہیں اپنے رشتے داروں کے لیے اس میں حرج نہیں ہے۔

فتویٰ ھندیہ میں ہے

”ثم معتبر فی الزکاہ مکان المال حتی لو کان ھو بلد ومالہ فی بلد آخر یفرق فی موضع المال وفی صدقہ فطر یعتبر مکانہ“

زکوٰۃ میں جہاں مال ہو وہ جگہ معتبر ہے یہاں تک کہ مالک اور شہر میں ہو اور مال اور شہر میں ہو تو جہاں مال ہے وہاں زکوٰۃ دے اور صدقہ فطر میں صدقہ دینے والے کے مکان کا اعتبار ہے۔(فتویٰ ھندیہ ،كتاب الزکوہ، باب المصارف ،جلد 1 ،صفحہ 209، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

ردالمختار میں ہے

”والمعتبر في الزكاة فقراء مكان المال، وفي الوصية مكان الموصي، وفي الفطرة مكان المؤدي عند محمد، وهو الأصح“

زکوٰۃ میں معتبر وہ جگہ ہے جہاں مال ہو اور فقراء ہوں اور وصیت میں جہاں وصیت کرنے والا ہو اور صدقہ فطر میں جہاں ادا کرنے والا ہو اور یہ امام محمد کے نزدیک ہے اور یہی اصح ہے۔ (ردالمختار ،کتاب الزکاۃ، باب مصرف الزکاۃ ،جلد 2 ،صفحہ 355، دار الکتب العلمیہ ،بیروت)

فتاوی ہندیہ میں ہے

”ويقومها المالك في البلد الذي فيه المال حتى لو بعث عبدا للتجارة إلى بلد آخر فحال الحول تعتبر قيمته في ذلك البلد“

ترجمہ:مالِ تجارت کا مالک،مال تجارت کی قیمت اس شہرکے اعتبارسے لگائے گا، جس شہر میں مال موجود ہو،یہاں تک کہ اس نے غلام کو تجارت کے لئے دوسرے شہر بھیجا اور مال نصاب پر سال پورا ہوا تو اسی شہر کے اعتبار سے اس کی قیمت کا اعتبار کیا جائے گا۔(فتاوی ہندیہ،کتاب الزکوٰۃ،مسائل شتی فی الزکوٰۃ،ج 1،ص 295،دار الکتب العلمیہ، بیروت )

ہدایہ میں ہے

”وحيلة المصري إذا أراد التعجيل أن يبعث بها إلى خارج المصر فيضحي بها كما طلع الفجر، لأنها تشبه الزكاة من حيث أنها تسقط بهلاك المال قبل مضي أيام النحر كالزكاة بهلاك النصاب فيعتبر في الصرف مكان المحل لا مكان الفاعل اعتبارا بها، بخلاف صدقة الفطر لأنها لا تسقط بهلاك المال بعدما طلع الفجر من يوم الفطر“

ترجمہ:اورشہری کاحیلہ کہ جب وہ قربانی جلدی کرناچاہے، یہ ہے کہ وہ قربانی والے جانورکوشہرسے باہربھیج دے ،تواسے فجرطلوع ہوتے ہی ذبح کیاجاسکتاہے، کیونکہ یہ زکوۃ کے مشابہ ہے ،اس اعتبارسے کہ ایام نحرسے پہلے مال کے ہلاک ہونے سے ساقط ہوجاتاہے ،جیسے زکوۃ ساقط ہو جاتی ہے نصاب کے ہلاک ہونے سے، پس ادائیگی میں محل کے مکان کااعتبارہوگا ، نہ کہ فاعل کے مکان کازکوۃ پرقیاس کرتے ہوئے ،برخلاف صدقہ فطرکے ،کیونکہ یوم عیدالفطرکی فجرطلوع ہونے کے بعد مال کے ہلاک ہونے سے یہ ساقط نہیں ہوتا۔(الھدایۃ،کتاب الاضحیۃ،صفحہ 446،مطبوعہ، لاھور)

بنایہ شرح ہدایہ میں ہے

”(بخلاف صدقة الفطر)حيث يعتبر فيها مكان الفاعل وهو المؤدي(لأنها لا تسقط بهلاك المال بعدما طلع الفجر من يوم الفطر)فحينئذ يعتبر مكان صاحب الذمة وهو المؤدي “

ترجمہ:برخلاف صدقہ فطرکے کہ اس میں فاعل کے مکان کااعتبارہے اورفاعل سے مراد اداکرنے والاہے ،کیونکہ یوم عیدالفطرکی فجرطلوع ہونے کے بعد مال کے ہلاک ہونے سے یہ ساقط نہیں ہوتا،پس اب جس کے ذمہ صدقہ فطرلازم ہے ،اس کے مکان کااعتبارہوگااوروہ ہے اداکرنے والا۔(البنایۃ شرح الهدایۃ،کتاب الاضحیۃ، جلد 11،صفحہ 27-28، مطبوعہ کوئٹہ)

فتویٰ رضویہ میں ہے

امام اہل سنت سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن صدقہ فطر کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:

’’ واجب ہے کہ اپنے ضلع میں گیہوں نیم صاع یا جَو ایک صاع کی جو قیمت ہو اُس قدر دام یا اُتنے دام کے چاول یا اورچیز ادا کردیں۔ ‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد10، صفحہ292-3، رضا فاؤنڈیشن، لاہور )

بہارشریعت میں ہے:

” صدقۂ فطر میں وہ شہر مراد ہے جہاں خود رہتا ہے۔“(بہار شریعت،جلد اول، حصہ پنجم، صفحہ 933، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

فتاوی فیض الرسول میں سوال ہوا:

”زیدبمبئی میں ہے اوراس کے بچے وطن میں ہیں،توان کے صدقہ فطرکے گیہوں کی قیمت وطن کے بھاؤسے اداکرے یابمبئی کے بھاؤسے ؟اورزیورات جن کاوہ مالک ہے وہ وطن میں ہیں توزکوۃ کی ادائیگی میں کہاں کااعتبارہے؟ُ

اس کے جواب میں فرمایا:

”بچے اورزیورات جب کہ وطن میں ہیں، توصدقہ فطرکے گیہوں میں بمبئی کی قیمت کا اعتبارکرناہوگااورزیورات میں وطن کی قیمت کا،لانہ یعتبرفی صدقۃ الفطرمکان المودی وفی الزکوۃ مکان المال،ھکذاقال صاحب الھدایۃ فی کتاب الاضحیۃ۔“(فتاوی فیض الرسول،جلد 1،صفحہ 511،شبیربرادرز،لاھور)

درمختار میں ہے

’’کرہ نقلھا إلا إلی قرابۃ أو أحوج أو أصلح أو أورع أو أنفع للمسلمین أو من دار الحرب إلی دار الإسلام أو إلی طالب علم‘‘

ترجمہ:زکوٰۃ کی رقم کا دوسری جگہ منتقل کرنا مکروہ ہے مگر اس صورت میں جب دوسرے مقام پر رشتہ دار یا زیادہ محتاج یا زیادہ صالح ہو یا مسلمانوں کا زیادہ نفع ہے یادار الحرب سے دار الاسلام کی طرف منتقل کی جائے یا دوسری جگہ طالب علم ہو۔ (درمختار، کتاب الزکوۃ، جلد2، صفحہ354، در الفکر، بیروت)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ممبر فقہ کورس

11رمضان المبارک1445ھ21مارچ 2024ء

اپنا تبصرہ بھیجیں