سجد ہ تعظیمی اور سلام کرتے وقت جھکنا
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ سجدہ تعظیمی شرعاًجائزہے یانہیں؟نیز والدین و پیرومرشد کے لیے گھٹنوں کو ہاتھ لگانا یا ہاتھ پاؤں چومنے کے لیے جھکنا کیسا ہے؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
سجدہ کی دو قسمیں ہیں ایک سجدۂ عبادت، جو کہ صرف اللہ پاک کاحق ہے، اللہ پاک کے علاؤہ کے لیے کسی بھی شریعت میں ایک لمحہ کے لیے بھی جائز نہیں ہوا۔ اگر کوئی اللہ پاک کی ذات کے علاؤہ کسی کو سجدہ عبادت کرے یا جائز سمجھے تو وہ مسلمان نہ رہے گا ۔ دوسرا ہے سجدۂ تعظیمی یعنی اللہ پاک کی طرف سےکسی کوملنے والی عزت وعظمت کے اظہار کے لیے کرنا سابقہ شریعتوں میں جائز تھا جیسے حضرت آدم علیہ السلام کوفرشتوں نے اورحضرت یوسف علیہ السلام کو آپ کےوالدین اور بھائیوں نے سجدہ کیا۔ لیکن ہماری اس شریعت محمدیہ میں سجدۂ تعظیمی بھی تاقیامت حرام ہے ۔ تعظیماً سجدہ کرنے والا سخت گنہگار اور عذاب نار کا حقدار ہے البتہ سجدہ تعظیمی کرنے والا دائرہ اسلام سے باہر نہ ہوگا۔
دوسرا تعظیما حدِ رکوع تک کسی کے لیے جھکنا ناجائز و گناہ ہے پاؤں اور گھٹنوں کو تعظیما حدِ رکوع تک جھک کر ہاتھ لگانا بھی گناہ ہے۔ کیونکہ جھکنا دو طرح کا ہوتا ہے وہ جو بطورِ تعظیم مقصود ہو اور وہ جو بطورِ وسیلہ ہو، اگر تعظیم مقصود ہو اور رکوع کی حد تک ہوتو ناجائز، اس سے کم ہوتو حرج نہیں، اگر بطور وسیلہ ہو یعنی ہاتھ پاؤں چومنے کی غرض سے جھکا تو جائز بلکہ سنت و مستحب۔
نوٹ کسی جاہل کے ناجائز فعل کی بناء پر مسلک اہلسنت کو ٹارچ کرنا زیادتی ہے لھذا اس کا گناہ اسی پر ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ ﱪ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ}
ترجمہ: کنزالعرفان اوریاد کروجب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے علاوہ سب نے سجدہ کیا ۔اس نے انکار کیا اور تکبرکیا اور کافر ہوگیا۔ (پارہ1،سورۃ البقرہ، آیت34)
اسی کے تحت تفسیرِ صراط الجنان میں ہے:
”{اُسْجُدُوْا لِاٰدَمَ: آدم کو سجدہ کرو۔} اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تمام موجودات کا نمونہ اور عالَم روحانی و جسمانی کا مجموعہ بنایا اور فرشتوں کے لیے حصولِ کمالات کا وسیلہ بنایاتو انہیں حکم فرمایا کہ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام کو سجدہ کریں کیونکہ اس میں حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی فضیلت کا اعتراف اور اپنے مقولہ’’اَتَجْعَلُ فِیْهَا‘‘ کی معذرت بھی ہے۔ بہرحال تمام فرشتوں کو سجدہ کا حکم دیا گیااور ملائکہ مقربین سمیت تمام فرشتوں نے سجدہ کیا۔“
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{ وَخَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا}
ترجمہ: اور وہ سب اس کے لیے سجدے میں گرے۔(پارہ12، سورہ یوسف، آیت100)
تفسیر صراط الجنان میں اسی کے تحت ہے:
”جب حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے والدین اور بھائیوں کے ساتھ مصر میں داخل ہوئے اور دربارِ شاہی میں اپنے تخت پر جلوہ افروز ہوئے تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے والدین کو بھی اپنے ساتھ تخت پر بٹھا لیا، اس کے بعد والدین اور سب بھائیوں نے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو سجدہ کیا ۔ یہ سجدۂ تعظیم اور عاجزی کے اظہار کے طور تھا اور اُن کی شریعت میں جائز تھا جیسے ہماری شریعت میں کسی عظمت والے کی تعظیم کے لئے کھڑا ہونا، مصافحہ کرنا اور دست بوسی کرنا جائز ہے۔
یاد رہے کہ سجدۂ عبادت اللّٰہ تعالیٰ کے سوا اورکسی کے لئے کبھی جائز نہیں ہوا اورنہ ہوسکتا ہے کیونکہ یہ شرک ہے اور سجدۂ تعظیمی بھی ہماری شریعت میں جائز نہیں۔“
تفسیردرمنثورمیں ہے:
”أن رجلا قال:يا رسول الله نسلم عليك كما يسلم بعضنا على بعض أفلا نسجد لك قال: لا ولكن أكرموا نبيكم واعرفوا الحق لأهله فانه لا ينبغي أن يسجد لأحد من دون الله“
ترجمہ: ایک صحابی نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم! ہم حضور کو بھی ایسا ہی سلام کرتے ہیں ، جیسا کہ آپس میں کیا ہم حضور کو سجدہ نہ کریں؟ فرمایا: نہیں ، بلکہ اپنے نبی کی تعظیم کرو اور سجدہ خاص حق خدا کا ہے۔اسے اسی کے لئے رکھو اس لئے کہ اللہ کے سوا کسی کو سجدہ جائز نہیں۔(الدرالمنثور،ج02،ص250، دارالفکر،بیروت)
مشکوٰۃالمصابیح میں ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،آپ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:
”لو كنت آمر أحدا أن يسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها“
ترجمہ: اگر میں کسی کوکسی کے لئے سجدہ کرنے کاحکم دیتاتوعورت کوضرورحکم دیتاکہ وہ اپنے شوہرکوسجدہ کرے۔(مشکاۃالمصابیح،کتاب النکاح،ج02،ص972،المکتب الاسلامی،بیروت)
مرقاۃ المفاتیح میں اسی حدیث کے تحت لکھا ہے:
”إن السجدة لا تحل لغير الله“
ترجمہ: غیراللہ کے لئے سجدہ حلال نہیں ہے۔ (مرقاۃالمفاتیح،کتاب النکاح،ج06،ص369،مطبوعہ کوئٹہ)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
”من سجد للسلطان على وجه التحية أو قبل الأرض بين يديه لا يكفر ولكن يأثم لارتكابه الكبيرة هو المختارقال الفقيه أبو جعفر رحمه الله تعالى وإن سجد للسلطان بنية العبادة فقد كفر“
یعنی جس نے کسی حاکم کو بطور تعظیم سجدہ کیایااس کےسامنے زمین چومی تو اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی ہاں گناہ گارضرور ہے کیونکہ ا س نے کبیرہ گناہ کا ارتکاب کیا ہے۔یہی مختارہے۔امام ابوجعفرعلیہ الرحمۃنے فرمایاکہ اگرحاکم کو سجدہ بطور عبادت کیا تو کافر ہوگیا۔(ملتقطااز الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراھیۃ،ج05،ص369،مطبوعہ کوئٹہ)
بہار شریعت میں صدرالشریعہ مفتی امجدعلی اعظمی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں:
”سجدہ تحیت یعنی ملاقات کے وقت بطورِ اکرام کسی کو سجدہ کرنا حرام ہے اور اگر بقصد عبادت ہو تو سجدہ کرنے والا کافر ہے کہ غیر خدا کی عبادت کفر ہے۔“(بہارِشریعت،ج03،ص473، مکتبۃالمدینہ،کراچی)
فتاوی رضویہ میں اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
”انحناء یعنی جھکنا دو قسم ہے، مقصود و وسیلہ، اگر خود نفسِ انحناء سے تعظیم مقصود نہیں بلکہ دوسرے فعل سے جس کا یہ ذریعہ ہے تو اس صورت میں اس کا حکم اس فعل کا حکم ہوگا, قدم بوسی جائز بلکہ مسنون ہے تو اس کے لیے جھکنا بھی مباح بلکہ سنت ہے اور غیر خدا کو سجدہ تحیت حرام ہے تو اس کے لئے جھکنا بھی حرام ہے، دوسری قسم کہ نفسِ انحناء سے تعظیم مقصود ہو، یہ اگر رکوع تک ہے، ناجائز و گناہ ہے اور اس سے کم ہے تو حرج نہیں ۔“(فتاوی رضویہ جلد 22 صفحہ 550 رضا فاؤنڈیشن لاہور)
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
(وَ لَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ اِلَّا عَلَیْهَا وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى)
ترجمہ: اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔(پارہ8،سورہ انعام، آیت 164)
تفسیرِ صراط الجنان میں اسی کے تحت ہے:
”{ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى:اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔}یعنی مجرم گناہ سے بالکل بری ہو جائے اور کسی دوسرے پر اس کے گناہ ڈال دئیے جائیں یہ نہیں ہوسکتا اور یونہی ایک آدمی کے گناہ دوسرے پر بغیر کسی سبب کے ڈال دئیے جائیں یہ بھی نہیں ہوسکتا۔“
واللہ و رسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
بابر عطاری مدنی اسلام آباد
8جمادی الاخری1445ھ/ 21دسمبر2023