روزہ کا فدیہ کو ن دے سکتا ہے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ کیا ہر کوئی جو روزہ نہیں رکھتا فدیہ دے سکتا ہے اور وہ شخص جو اگرچہ بڑی عمر کا ہو مگر روزہ رکھ سکتا ہو تو کیا اس کو بھی فدیہ دینا ہوگا یا روزہ رکھنا ہوگا؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب
صورت مسئولہ کے مطابق تفصیل یہ ہے کہ فدیہ دینے کی اجازت صرف اور صرف شیخ فانی(جس کی عمر اسی سال ہو) کے لیے ہے ہر کوئی اپنے روزے کا فدیہ نہیں دے سکتا اور شیخ فانی بھی وہ کہ جو اتنا کمزور اور ضعیف ہو کہ اب دوبارہ صحت کی امید نہ ہو اور نہ ہی وہ متفرق طور پر روزے اور نہ ہی جاڑے میں اور اگر کوئی ایک ساتھ روزے نہیں رکھ سکتا یا گرمی میں نہیں رکھ سکتا تو ایسے الگ الگ کرکے یا سردیوں میں روزے کی قضاء کا حکم دیا جائے گا اور اگر فدیہ دینے کے بعد اس شخص میں روزے رکھنے کی طاقت آ گئی تو دیا ہوا فدیہ نفل شمار ہوگا اور اس کو قضاء کا حکم دیا جائے گا۔
اور بڑی عمر والے شخص اگر روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں تو اب انہیں بھی روزہ رکھنے کا ہی حکم دیا جائے گا ان کی طرف سے ادا کردہ فدیہ کافی نہیں ہوگا اور جب ان کے لیے یہی حکم ہے تو پھر عام نوجوانوں کے لیے روزے کا فدیہ کیونکر کفایت کرے گا لہذا انہیں بھی روزے رکھنے ہونگے اور ترک پر گناہ گار ہونگے۔
نقایہ میں ہے:
”وشیخ فان عجز عن الصوم افطر“
یعنی بوڑھا شخص جو کہ روزہ رکھنے سے عاجز ہو ، وہ روزہ نہیں رکھے گا ۔
شرح نقایہ میں ہے:
”(شیخ فانٍ) سُمّی بہ لقربہ الی الفناء او لانّہ فنیتْ قوّتہ“
یعنی شیخِ فانی کو فانی اس لئے کہتے ہیں کہ وہ فناء کے بہت قریب ہو تا ہے یا اس لئے کہ اس کی قوت ختم ہو چکی ہوتی ہے۔( فتح باب العنایہ بشرح النقایہ ، کتاب الصوم ، فصل فیما یفسد الصوم و فیما لا یفسدہ ، ج 1 ، ص 582 )
الدر المختار میں ہے
”(وللشيخ الفاني العاجز عن الصوم الفطر ويفدي) وجوباً، ولو في أول الشهر وبلا تعدد فقير، كالفطرة لو موسراً“
اور ایسا شیخ فانی جو روزہ سے عاجز ہو اس کے لیے روزہ نہ رکھنا جائز ہے اور وہ وجوبی طور پر فدیہ دے گا اگرچہ مہینہ کے شروع میں دے دے اور متعدد فقیر نہ ہوں تو بھی ٹھیک ہے جس طرح صدقہ فطر دیا جاتا ہے اگر وہ شیخ خوشحال ہو۔(ردالمختار ،کتاب الصوم ،جلد 2، صفحہ 427،دار الکتب العلمیہ بیروت)
فتاویٰ الھندیہ میں ہے
”ولو قدر علی الصیام بعد ما فدی بطل حکم الفداء الذی فداء حتی یجب علیہ الصوم ھکذا فی النھایہ “
اور اگر روزہ رکھنے پر قادر ہوگیا تو جو فدیہ کا حکم تھا باطل ہوگیا اور فدیہ صدقہ نفل ہو کر رہ گیا اور روزوں کی قضاء واجب ہوگئی جیسا کہ النھایہ میں مذکور ہے ۔(فتاویٰ ھندیہ ،کتاب الصوم ، جلد 1 صفحہ 228، دار الکتب العلمیہ بیروت)
ردالمختار میں ہے
”عجزا مستمرا کما یاتی اما لو لم یقدر علیہ لشدہ الحر کان ان یفطر ویقضیہ فی الشتاء“
یعنی جس کا عجز لگاتار ہو جس طرح آگے آئے گا مگر جب وہ اس پر قادر نہ ہو کیونکہ گرمی شدید ہو روزہ نہ رکھے اور موسم سرما میں قضاء کرے۔(ردالمختار ،کتاب الصوم ،جلد 2، صفحہ 427،دار الکتب العلمیہ بیروت)
سیدی اعلیٰ حضرت مجدّدِ دین وملت فتاوی رضویہ شریف میں فرماتے ہیں:
’’بعض جاہلوں نے یہ خیال کر لیا ہے کہ روزہ کا فدیہ ہر شخص کیلئے جائز ہے جبکہ روزے میں اسے کچھ تکلیف ہو ،ایسا ہر گز نہیں ،فدیہ صرف شیخِ فانی کیلئے رکھا ہے جو بہ سبب پیرانہ سالی حقیقۃً روزہ کی قدرت نہ رکھتا ہو ،نہ آئندہ طاقت کی امید کہ عمرجتنی بڑھے گی ضعف بڑھے گا اُس کیلئے فدیہ کا حکم ہے اور جو شخص روزہ خود رکھ سکتا ہو اور ایسا مریض نہیں جس کے مرض کو روزہ مضر ہو ،اس پر خود روزہ رکھنا فرض ہے اگرچہ تکلیف ہو ،بھوک پیاس گرمی خشکی کی تکلیف تو گویا لازمِ روزہ ہے اور اسی حکمت کیلئے روزہ کا حکم فرمایا گیا ہے ،اس کے ڈر سے اگر روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہو تو مَعَاذَ اللہ عَزَّ وَجَل روزے کا حکم ہی بیکار و معطل ہو جائے ۔“( فتاویٰ رضویہ ، جلد 10 ، صفحہ 521 ، رضا فاؤنڈیشن ، لاھور )
ایک اور جگہ فرماتے ہیں:
”جس جوان یا بوڑھے کو کسی بیماری کے سبب ایسا ضعف ہو کہ روزہ نہیں رکھ سکتے انہیں بھی کفارہ دینے کی اجازت نہیں بلکہ بیماری جانے کا انتظار کریں،اگر قبلِ شفا موت آجائے تو اس وقت کفارہ کی وصیت کر دیں،غرض یہ ہے کہ کفارہ اس وقت ہے کہ روزہ نہ گرمی میں رکھ سکیں نہ جاڑے میں،نہ لگاتار نہ متفرق اور جس عذر کے سبب طاقت نہ ہو اس عذر کے جانے کی امید نہ ہو،جیسے وہ بوڑھا کہ بڑھاپے نے اُسے ایسا ضعیف کردیا کہ روزے متفرق کر کے جاڑے میں بھی نہیں رکھ سکتا تو بڑھاپا تو جانے کی چیز نہیں ایسے شخص کو کفارہ کا حکم ہے ۔‘‘( فتاویٰ رضویہ ، جلد 10 ، صفحہ 547 ، رضا فاؤنڈیشن ، لاھور )
بہار شریعت میں ہے :
”شیخ فانی یعنی وہ بوڑھا جس کی عمر ایسی ہوگئی کہ اب روزبروز کمزور ہی ہوتا جائے گا، جب وہ روزہ رکھنے سے عاجز ہو یعنی نہ اب رکھ سکتا ہے نہ آئندہ اُس میں اتنی طاقت آنے کی اُمید ہے کہ روزہ رکھ سکے گا، اُسے روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے اورہر روزہ کے بدلے میں فدیہ یعنی دونوں وقت ایک مسکین کو بھر پیٹ کھاناکھلانا اس پرواجب ہے یا ہر روزہ کے بدلے میں صدقۂ فطر کی مقدار مسکین کو دیدے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر ایسا بوڑھا گرمیوں میں بوجہ گرمی کے روزہ نہیں رکھ سکتا، مگر جاڑوں میں رکھ سکے گا تو اب افطار کرلے اور اُن کے بدلے کے جاڑوں میں رکھنا فرض ہے۔
۔۔ ۔۔۔اگر فدیہ دینے کے بعد اتنی طاقت آگئی کہ روزہ رکھ سکے ،تو فدیہ صدقۂ نفل ہوکر رہ گیا ان روزوں کی قضا رکھے۔“(بہار شریعت، جلد 1 ،حصہ 5، صفحہ 1012 ،مکتبہ المدینہ کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
ممبر فقہ کورس
10رمضان المبارک1445ھ20مارچ 2024ء