دادا کی جائیدا د میں پوتے کا حصہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس بارے میں کہ والد کی زندگی میں بیٹے کا انتقال ہوگیا تھا تو کیا اب ان کی وراثت میں ان کی بیوہ اور اولاد کا حصہ ہوگا اور انہوں نے اپنی زندگی میں ایک پلاٹ اپنے اسی بیٹے کو دیا تھا جس میں وہ رہتے تھے والدین کے ساتھ، تو کیا وہ پلاٹ بھی والد کی میراث میں شامل ہوگا یا ان فوت شدہ بیٹے کے لواحقین میں تقسیم ہوگا؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب
صورت مستفسرہ کے مطابق جو بیٹا والد کی زندگی میں فوت ہو جائے تو اس کا والد کہ ترکہ میں کوئی حصہ نہیں ہوتا بلکہ باپ مرحوم بیٹے کی جائیداد میں حصے دار ہوتا ہے۔تو جب مرنے والے کا حصہ نہیں ہوگا تو پھر اس کی بیوہ اور بیٹے کو بھی دادا کی جائیداد سے کچھ نہیں ملے گا البتہ اگر دادا کے کوئی اور بیٹے نہیں ہے تو اب اس بیٹے کا بیٹا یعنی کہ پوتا ،پوتی وغیرہ وارث بن جائیں گے۔البتہ بیوہ کو اس صورت میں بھی کچھ نہیں ملے گا اور مستحب یہ ہے کہ جو وارث میراث سے کسی وجہ سے محروم ہوگئے ہیں تو دیگر ورثہ اپنے حصہ میں سے انہیں کچھ دے دیں یا دادا اپنی زندگی میں کچھ دے یا وصیت کرجائے ۔
جو پلاٹ والد نے اپنی زندگی میں بیٹے کو دیا تھا تو یہ ہبہ(تحفہ ،گفٹ) کے حکم میں ہے ہبہ تام کے لیے مکان خالی کرکے قبضہ ضروری ہے اور اگر ہبہ تام ہوگیا تو یہ پلاٹ فوت شدہ بیٹے کے وارثوں کے مابین تقسیم ہوگا لیکن اگر والد صاحب نے صرف زبانی طور پر ہبہ کرنے کو کہا اور قبضہ نہیں دیا اور مالکانہ حقوق والد کے پاس ہی تھے اور نہ ہی مکان خالی کرکے قبضہ دیا جیسا کہ سوال سے لگ رہا ہے تو صرف زبانی کہنے سے ہبہ نہیں ہوا اور یہ پلاٹ والد صاحب کے ورثہ کے مابین تقسیم ہوگا۔
ردالمختار میں ہے
”ووجود وارثہ عند موتہ حیا حقیقۃ“
یعنی مورث کی وفات کے وقت وارث کا حقیقۃً زندہ موجود ہونا(بھی وراثت کے ثبوت کی ایک شرط ہے۔) (رد المحتار ، جلد 10 ،صفحہ 525 ، کوئٹہ)
فتویٰ رضویہ میں ہے
”لا حق لابن مات قبل ابیہ فی ترکۃ ابیہ“یعنی جو بیٹا اپنے والد سے پہلے انتقال کر گیا،اس کا اپنے والد کے ترکہ میں کوئی حق نہیں۔(فتاوی رضویہ ، جلد 25 ، صفحہ 383، رضا فاؤندیشن، لاھور)
فتاوی عالمگیری میں ہے
”فاقرب العصبات الابن ثم ابن الابن“
ترجمہ:عصبات میں سے سب سے زیادہ قریبی عصبہ بیٹا ہے پھر بیٹے کا بیٹا(یعنی پوتا۔)(فتاوی عالمگیری، کتاب الفرائض، باب الثالث فی العصبات، ج 6،ص451 مطبوعہ دار الفکر البیروت)
بہار شریعت میں ہے:
” قریبی رشتہ دار دور والے رشتہ دار کو محروم کر دیتاہے۔(لہذا بیٹے کے ہوتے ہوئے) پوتا خواہ اس بیٹے سے ہو یا دوسرے بیٹے سے ہو محروم رہے گا کیونکہ بیٹا بہ نسبت پوتے کے زیادہ قریب ہے۔“(بہار شریعت، ، کتاب الفرائض، حجب کا بیان، جلد 3،حصہ 20،ص 1141، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
فتاوی امجدیہ میں ہے :
”دادا کی زندگی میں باپ مرگیا پھر دادا کا انتقال ہوا اور (دادا نے)بیٹا چھوڑا ہے تو پوتے کو کچھ نہیں ملے گا کہ جو کچھ ذی الفرائض سے بچے گا وہ بیٹا لے گا اور اگر دادا نے بیٹا نہیں چھوڑا تو پوتا وارث ہے اور عصبات میں مقدم ہے۔“(فتاوی امجدیہ، کتاب الفرائض ،ج4 ص 371، مطبوعہ ،دارالعلوم امجدیہ مکتبہ رضویہ آرام باغ روڈ کراچی)
فتاوی فیض الرسول میں ہے
”صورت مسئولہ میں خالد کی اولاد کو زید کی میراث سے حصہ نہیں ملے گا اس لئے کہ جس طرح باپ کی موجودگی میں دادا کو حصہ نہیں ملتا اسی طرح بیٹے کی موجودگی میں میں پوتے کو حصہ نہیں ملے گا اگرچہ یتیم پوتوں کو مال کی زیادہ ضرورت ہے کہ وراثت کا دار و مدار قرابت پر ہے نہ کہ ضرورت پر. اسی لئے لنجے بھائی کو بیٹا کی موجودگی میں حصہ نہیں ملے گا اگرچہ اسے مال کی زیادہ ضرورت ہے فتاوی عالمگیری ج ششم مصری ص 430 میں ہے الاقرب یحجب الابعد کالابن یحجب اولاد الابن. لیکن محمود کو چاہیے کہ وہ اپنے بھتیجوں کے ساتھ احسان کرے خدائے تعالیٰ اس پر احسان فرمائے گا۔“(فتاوی فیض الرسول، کتاب الفرائض ،جلد 2 ،ص 735، مطبوعہ شبیر برادر لاہور)
وقار الفتاویٰ میں ہے :
”وہ پوتے جن کا باپ انتقال کر چکا ہے وہ اپنے دادا کی کے مال میں حصہ دار نہیں ہوتے جبکہ دادا کے دوسرے بیٹے زندہ ہوں. جب پوتے یتیم ہوں تو دادا کو چاہیے کہ ان پوتوں کو کچھ دے دے یا ان کیلئے وصیت کر جائے۔“(وقار الفتاویٰ ،کتاب الفرائض، ورثاء کے حقوق کا بیان، جلد 3،ص 406، ناشر بزم وقار الدین)
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
” وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا“
ترجمہ: پھر بانٹتے وقت اگر رشتہ دار اور یتیم اور مسکین آجائیں تو اس میں سے انہیں بھی کچھ دو اور ان سے اچھی بات کہو
(پ4 سورۃ النساء آیۃ 8)
تفسیر نعیمی میں مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت ارشاد فرماتے ہیں:
”جو رشتہ دار میراث سے محروم ہوگئے ہوں ، انہیں بھی میراث سے کچھ دے دینا علی الحساب بہتر ہے۔“(تفسیر نعیمی ، جلد4،صفحہ 493، مکتبہ اسلامیہ، لاھور)
تفسیر صراط الجنان میں ہے:
”اس آیت کی تفسیر میں ہے: ”اس آیت میں غیر وارثوں کو وراثت کے مال میں سے کچھ دینے کا جوحکم دیا گیا ہے، یہ دینا مستحب ہے۔ اس مستحب حکم پر یوں بھی عمل ہوسکتا ہے کہ بعض اوقات کوئی بیٹا یتیم بچے چھوڑ کر فوت ہوجاتا ہے اور اس کے بعد باپ کا انتقال ہوتا ہے تو وہ یتیم بچے چونکہ پوتے بنتے ہیں اور چچا یعنی فوت ہونے والے کا دوسرا بیٹا موجود ہونے کی وجہ سے یہ پوتے دادا کی میراث سے محروم ہوتے ہیں تو دادا کو چاہیے کہ ایسے پوتوں کو وصیت کر کے مال کا مستحق بنا دے اور اگر دادا نے ایسا نہ کیا ہو تو وارثوں کو چاہیے کہ اوپر والے حکم پر عمل کرتے ہوئے اپنے حصہ میں سے اسے کچھ دے دیں۔ اس حکم پر عمل کرنے میں مسلمانوں میں بہت سستی پائی جاتی ہے بلکہ اس حکم کا علم ہی نہیں ہوتا۔ البتہ یہ یاد رہے کہ نابالغ اور غیر موجود وارث کے حصہ میں سے دینے کی اجازت نہیں۔ “ (تفسیر صراط الجنان، جلد2، صفحہ 150، مکتبۃ المدینہ)
در مختار میں ہے :
’’ و تتم الھبۃ بالقبض الکامل ‘‘
ترجمہ : ہبہ کامل قبضے کے ساتھ پورا ہوتا ہے ۔
اس کے تحت رد المحتار میں ہے :
’’ يشترط القبض قبل الموت ‘‘
ترجمہ : موت سے پہلے قبضہ کرنا شرط ہے ۔(رد المحتار علی الدر المختار ، کتاب الھبۃ ، جلد 8 ، صفحہ 573 ، مطبوعہ :کوئٹہ )
در مختار میں ہے
”شرائط صحتھا فی الموھوب ان یکون مقبوضا غیر مشاع ممیزا غیر مشغول“
ترجمہ : ہبہ کے صحیح ہونے کے لیے موہوب میں یہ شرط ہے کہ موہوب پر قبضہ کرلیاگیاہو، موہوب مشاع (مخلوط ملکیت)نہ ہو، ممیز وجداہو ،(موہوب لہ کے علاوہ کسی کی ملک میں)مشغول نہ ہو۔(درمختار ،کتاب الھبۃ ،ج8،ص569،مطبوعہ کوئٹہ)
فتویٰ رضویہ میں ہے :
”تمامی ہبہ کے لیے واہب کا موہوب لہ کوشے موہوب پرقبضہ کاملہ دلانا شرط ہے ۔ قبضہ کاملہ کے یہ معنی کہ وہ جائداد یا تو وقت ہبہ ہی مشاع نہ ہو (یعنی کسی اور شخص کی ملک سے مخلوط نہ ہو۔۔) اور واہب اس تمام کو موہوب لہ کے قبضہ میں دے دے یا مشاع ہو ، تو اس قابل نہ ہو کہ اسے دوسرے کی ملک سے جدا ممتاز کرلیں ، تو قابلِ انتفاع رہے ۔ جیسے ایک چھوٹی سی دکان دو شخصوں میں مشترک کہ آدھی الگ کرتے ہیں ، تو بیکار ہوئی جاتی ہے ، ایسی چیز کا بلا تقسیم قبضہ دلادینا بھی کافی وکامل سمجھا جاتاہے یا مشاع قابل تقسیم بھی ہو ، تو واہب اپنی زندگی میں جدا ومنقسم کرکے قبضہ دے دے کہ اب مشاع نہ رہی۔ یہ تینوں صورتیں قبضہ کاملہ کی ہیں۔“(فتاوی رضویہ ج 19 ، ص219 ، رضا فاؤنڈیشن ، لاہور)
بہار شریعت میں ہے:
”ہبہ کے لیے قبضۂ کامل کی ضرورت ہے اگر موہو ب شے (یعنی جو چیز ہبہ کی گئی ہے) واہب کی ملک کو شاغل ہوتو قبضۂ کامل ہوگیا اور ہبہ تمام ہوگیا اور اُس کی ملک میں مشغول ہے تو قبضۂ کامل نہیں ہوامثلاًبوری میں واہب کا غلّہ ہے بوری ہبہ کردی اور مع غلہ کے قبضہ دیدیا یا مکان میں واہب کے سامان ہیں مکان ہبہ کردیا اور سامان کے ساتھ قبضہ دیا ہبہ تمام نہیں ہوا اور اگر غلّہ ہبہ کیا یا مکان میں جو چیز یں تھیں اُن کو ہبہ کیا اور بوری سمیت قبضہ دیدیا یا مکان اور سامان سب پر قبضہ دیدیا ہبہ تمام ہوگیا۔ یوہیں گھوڑے پر کاٹھی کَسی ہوئی اور لگام لگی ہوئی تھی کاٹھی اور لگام کوہبہ کیا اور گھوڑے پرمع کاٹھی اور لگام کے قبضہ کیا ہبہ تمام نہیں ہوا اور گھوڑے کو ہبہ کیا اور قبضہ دے دیا اگرچہ کاٹھی اور لگام کے ساتھ ہے قبضہ تما م ہوگیا۔ یوہیں کنیز زیور پہنے ہوئے ہے کنیز کوہبہ کیا اور قبضہ دیدیا ہبہ تمام ہوگیا۔ اور زیور کو ہبہ کیا توجب تک زیو ر اوتار کر قبضہ نہ دے گا ہبہ تمام نہیں ہوگا۔ “(بہار شریعت ، ج 2 ، ح 14 ، ص 73، مکتبہ المدینہ کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
بنت عثمان
17شعبان المعظم 1445ھ28فروری 2024ء