حنیف قریشی کا دعوی کے میرا بیان آگے پیچھے سے کاٹا ہے
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ آج کل ایک بات رائج ہوگئی ہے کہ کوئی بھی غیر شرعی بات کہتا ہے اور جب اس کا وہ ویڈیو کلپ مشہور ہوجاتا ہے اور اہل علم حضرات تنقید کرتے ہیں تو وہ بجائے معذرت کرنے کے یہ ویڈیو کلپ وضاحتی بیان میں جاری کرتا ہے کہ میرا بیان آگے پیچھے سے کاٹ کر غلط رنگ میں پیش کیا گیا ہے۔ اس مسئلہ میں سرفہرست مفتی حنیف قریشی صاحب ہیں کہ آئے دن جوش بیانی میں کئی باتیں کہہ دیتے ہیں اور بعد میں مخالف گروہ پر الزام لگادیتے ہیں کہ انہوں نے میرے بیان میں تحریف کی ہے جیسے حال ہی میں انہوں نے واضح طور پر باغ فدک کے مسئلہ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے اکیلے راوی ہونے کے ساتھ یہ بیان دیا کہ ہوسکتا ہے ان سے سننے میں خطا ہوئی ہو۔جب علمائے کرام نے اس پر گرفت کی تو وضاحتی بیان دیا کہ میں نے یہ کہا ہے کہ ان سے بھی خطا ہوسکتی ہے یہ نہیں کہا کہ انہوں نے خطا کی ہے ۔میرے بیان کو آگے پیچھے سے کاٹ کر غلط رنگ میں پیش کیا گیا۔ اس حوالے سے شرع ہماری کیا رہنمائی کرتی ہے؟
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الوہاب اللہم ہدایۃالحق والصواب
علمائے کرام کو کوئی بھی بیان جوش میں نہیں بلکہ ہوش میں دینا چاہیے بالخصوص ایسے عالم کو کہ جس کی لوگ پیروی کرتے ہوں ۔سنی عالم دین سے لغزش ہوجائے تو اس کو چھپانے اور اس کے رجوع کے انتظا ر کرنےکا حکم ہے لیکن جو نام نہاد سنی ہو اس کے لغزش چھپانے کا نہیں، بلکہ عام کرنے کا حکم ہے، تاکہ لوگ اس کے فتنے سے محفوظ رہ سکیں۔
اگرکسی سنی عالم سے غلطی ہوجائے تو اسے برملا رجوع کرنا چاہیے یہی اسلاف کا طریقہ کار رہا ہے۔ رجوع کی بجائے اپنے باطل موقف پر اڑ جانا اور اسے ہی حق ثابت کرنا اور دوسروں پرتحریف کا الزام لگانا اہل علم کا شیوہ نہیں بلکہ ہٹ دھرم اورگمراہ لوگوں کا وتیرہ ہے۔اگر کسی کا کوئی ویڈیو کلپ مشہور ہوجائے جس میں کوئی غیر شرعی بات ہو اور واقعی کسی نے اس میں تحریف کی ہو تو اس کا شرعی طریقہ یہ ہےکہ وہ شخص اپنا پورا ویڈیو بیان پیش کردے کہ میرا مکمل بیان یہ تھا لیکن محرف نے اس میں یہ کانٹ چھانٹ کی ہے ۔یہ طریقہ نہیں کہ دوسرا وضاحتی ویڈیو کلپ بنایا جائے اور اس میں یہ دعوی ہو کہ آگے پیچھے سے کاٹا ہے اورثبوت میں ویڈیو کا نہ اگلا بیان پیش کیا جائے اور نہ پچھلا ، فقط دعوی ہو کہ تحریف ہوئی ہے۔
حنیف قریشی کے اس مختصر بیان میں کوئی کانٹ چھانٹ نہیں ہوئی تھی واضح اس میں اس نے اپنا بیان اپنی نظر میں بہت بڑی دلیل بنا کر پیش کیا تھا کہ ” باغ فدک کے راوی تنہا حضرت ابوبکر صدیق ہیں اور ان سے بھی سننے میں خطا ہوسکتی ہے ان کوسمجھنے میں اجتہادی خطا ہوسکتی ہے۔“ اب اس بیان میں کیا کانٹ چھانٹ ہوئی ہے؟حنیف قریشی صاحب نے تو بعد کے بیان میں بھی یہ نہیں کہا کہ میرا یہ بیان ہی نہیں۔ بس اتنا ہی کہا ہے کہ میں نےیہ نہیں کہا تھا کہ انہوں نے خطا کی ہے ۔
یہاں پر حنیف قریشی صاحب نے جو وضاحت دی ہے اس سے لگتا ہے کہ انہوں نے علماء کے اعتراض کو سمجھا ہی نہیں۔ کیونکہ اہل علم کا اعتراض یہ نہیں کہ انہوں نے صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کیلئے خطاء کا وقوع ثابت کیا ہے۔ بلکہ اعتراض یہ ہے کہ یہ کہنا: ” حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ تنہا راوی ہیں” یہ بات ہی غلط اور احادیث سے دوری کی دلیل ہے۔دوسرا یہ کہ یہ جملہ ” ان سے سننے میں خطا ہوسکتی ہے” یہ تو تمام خبر واحد کو مشکوک قرار دینا ہے کہ ہر وہ حدیث جس میں تنہا ایک صحابی ہوں لوگ یہ کہنا شروع ہو جائیں گے کہ ہو سکتا ہے ان سے سننے میں غلطی ہوئی ہو۔ “باغ فدک میں تنہا راوی حضرت ابوبکر صدیق ہیں” یہ اہل تشیع کا دعوی تھا جو حنیف قریشی نے کاپی کیا اور اہل تشیع بھی یہ نہیں کہتے کہ ان سے سننے میں غلطی ہوسکتی ہے۔ یہ حنیف قریشی تو رافضیوں سے بھی آگے بڑھ گیا ۔
نیز حنیف قریشی کا وضاحتی بیان بھی قابل قبول نہیں کہ ایک تو اس میں جو دعوی کیا ہے کہ “مخالفین نے آگے پیچھے سے کاٹا ہے” وہ ہی ثابت نہیں ،مزید جو وضاحت دی ہے کہ میں نے صرف امکان کا کہا تھا وقوع کا نہیں کہا تھا یہ بھی بے فائدہ بات ہے کہ وقوع کا تو کسی نے بھی ویڈیو کلپ میں ہونا ثابت نہیں کیا پھر کانٹ چھانٹ کہا ں سے ہوگئی۔ جو شرعی گرفت ہے وہ امکان ہی پر ہورہی ہے۔
شرعی طور پر وضاحتی بیان وہی قابل قبول ہوتا ہے جو ظاہر کے خلاف نہ ہو بلکہ مجمل کلام کی وضاحت کرتا ہو۔کتب فقہ میں کثیر مسائل کے بارےمیں فقہائے کرام نے صراحت کی ہے کہ اس میں قائل کی وضاحت ناقابل قبول ہے جو ظاہر اور شرع کے خلاف تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و سلم فرماتے ہیں:
” اتقوا ز لۃ العالم وانتظر وا فيئته “
ترجمہ: عالم کی لغزش سے بچو او راس کے رجوع کا انتظار رکھو۔
( السنن الکبرٰی للبیہقی، کتاب الشہادات ،جلد10،صفحہ211، دارصادر ،بیروت )
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
” وقال معاذ رحمه الله احذروا زلة العالم لأن قدره عند الخلق عظيم فيتبعونه على زلته وقال عمر رضي الله عنه إذا زل العالم زل بزلته عالم من الخلق“
ترجمہ: حضرت معاذ رحمہ اللہ نے فرمایا: عالم کی لغزش سے ڈرو کیونکہ لوگوں میں اس کی بڑی قدر ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ لغزش میں بھی اس کی پیروی کرتے ہیں ۔
امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: جب عالم پھسلتا ہے تو اس کے پھسلنے سے ایک جہان پھسل جاتا ہے۔
( إحياء علوم الدين، الباب السادس في آفات العلم وبيان علامات علما الآخرة والعلماء السوء ،جلد1،صفحہ64،دار المعرفة،بيروت)
احیاء العلوم میں ہے:
” ومنها أن يكون المذنب عالما يقتدى به فإذا فعله بحيث يرى ذلك منه كبر ذنبه كلبس العالم الإبريسم وركوبه مراكب الذهب وأخذه مال الشبهة من أموال السلاطين ودخوله على السلاطين وتردده عليهم ومساعدته إياهم بترك الإنكار عليهم وإطلاق اللسان في الأعراض وتعديه باللسان في المناظرة وقصده الاستخفاف واشتغاله من العلوم بما لا يقصد منه إلا الجاه كعلم الجدل والمناظرة فهذه ذنوب يتبع العالم عليها فيموت العالم ويبقى شره مستطيرا في العالم آماد متطاولة فطوبى لمن إذا مات ماتت ذنوبه معه ۔۔۔ وقال بعضهم مثل زلة العالم مثل انكسار السفينة تغرق ويغرق أهلها وفي الإسرائيليات أن عالما كان يضل الناس بالبدعة ثم أدركته توبة فعمل في الإصلاح دهرا فأوحى الله تعالى إلى نبيهم قل له إن ذنبك لو كان فيما بيني وبينك لغفرته لك ولكن كيف بمن أضللت من عبادي فأدخلتهم النار “
ترجمہ:(صغیرہ گناہ کو کبیرہ بنانے والا ایک سببب یہ بھی ہے کہ)گناہ کرنے والا شخص عالِم ہو جس کی پیروی کی جاتی ہو۔ پس جب وہ گناہ کرے گا اور لوگ اس کو دیکھیں گے تو اس کا گناہ کبیرہ ہوجائے گا۔ مثلاً عالِم کا ریشم پہننا، سونے کی سواری پر سوار ہونا، بادشاہوں کا شبہ والا مال لینا، بادشاہوں کے پاس مسلسل آمد ورفت رکھنا، ان کے ذریعے اپنی اور لوگوں کی حاجات پوری کرنا، (خلاف شرع کام سے)انہیں منع نہ کرکے ان کی مدد کرنا، زبان سے دوسروں کی عزت اچھالنا، مناظرے میں حد سے تجاوز کرنا اور سامنے والے کی تذلیل کرنا اور ان علوم میں مشغول رہنا جن کا مقصد فقط حصولِ جاہ ہے جیساکہ عِلْمِ جَدَل ومُناظَرَہ۔یہ گناہ ایسے ہیں کہ ان میں عالِم کی اتباع کی جاتی ہے بالآخر عالِم مر جاتا ہے اور اس کا شر دنیا میں ہمیشہ کے لئے پھیلا رہ جاتا ہے۔ خوشخبری ہے اس کے لئے جس کی موت کے ساتھ اس کے گناہ بھی مر جائیں۔ کئی علماء کا قول ہے:عالم کی لغزش کی مثال کشتی ٹوٹنے کی سی ہے کہ وہ خود بھی ڈوبتی ہے اور اس میں موجود سوار بھی ڈوبتے ہیں۔
اسرائیلیات میں ہے کہ ایک عالِم نئی نئی باتیں گھڑ کر لوگوں کو گمراہ کرتا تھا۔ پھر اسے توبہ نصیب ہوگئی اور عرصۂ دراز تک لوگوں کی اصلاح میں مشغول رہا۔ اللہ عزوجل نے اس دور کے نبی علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی: اس سے فرمادیں اگر تیرا گناہ صرف میرے اور تیرے درمیان ہوتا تو میں تیری مغفرت کر دیتا لیکن میرے وہ بندے جن کو تو نے گمراہ کیا اور میں انہیں جہنم میں داخل کروں گا ان کا کیا ہوگا۔ ( إحياء علوم الدين، بيان ما تعظم به الصغائر من الذنوب ،جلد4،صفحہ33،دار المعرفة،بيروت)
اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
” مگر عوام کو سنّی عالم متقی پر اُس کی لغزش کے سبب ملامت کی اجازت نہیں ہوسکتی کما نص علیہ الائمۃ واشارت الیہ الاحادیث(جیساکہ ائمہ نے اس کی تصریح کی ہے اور احادیث میں بھی اس پر رہنمائی ہے۔) یہ اس کے حق میں ہے جو سُنّی عالم ہو ورنہ آجکل بہت گمرہ بددین بلکہ مرتدین مثلاً وہابیہ دیوبندیہ اپنے آپ کو سُنی عالم کہتے ہیں وہ ملامت کیا اُس سے ہزاروں درجہ سخت تر کہ مستحق ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔“
(فتاوی رضویہ،جلد8،صفحہ511،رضافاونڈیشن،لاہور)
مزیداعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
” قول دوم وسوم میں شائد وہ یااس کے اذناب آج کل کے بعض شیاطین سے سیکھ کر تاویل کی آڑلیں کہ یہاں نبی ورسول سے معنی لغوی مراد ہیں یعنی خبردار یا خبر دہندہ اور فرستادہ مگر یہ محض ہوس ہے۔
اوّلاً: صریح لفظ میں تاویل نہیں سنی جاتی، فتاوٰی خلاصہ و فصول عمادیہ و جامع الفصولین وفتاوٰی ہندیہ وغیرہا میں ہے:” واللفظ للعمادی لو قال انا رسول اﷲ او قال بالفارسیۃ من پیغمبرم یرید بہ من پیغام می برم یکفر “ یعنی اگر کوئی اپنے آپ کو اﷲ کا رسول کہے یا بزبان فارسی کہے میں پیغمبر ہوں اور مراد یہ لے کہ میں کسی کا پیغام پہنچانے والا ایلچی ہوں کافر ہوجائے گا۔
امام قاضی عیاض کتاب الشفاء فی تعریف حقوق المصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم میں فرماتے ہیں: ” قال احمد بن ابی سلیمٰن صاحب سحنون رحمھما اﷲ تعالی فی رجل قیل لہ لا وحق رسول اﷲ فقال فعل اﷲ برسول اﷲ کذاوذکر کلا ما قبیحا، فقیل لہ ما تقول یا عدو اﷲ فی حق رسول اﷲ فقال لہ اشد من کلامہ الاول ثم قال انما اردت برسول اﷲ العقرب فقال ابن ابی سلیمٰن للذی سألہ اشھد علیہ وانا شریکک یرید فی قتلہ و ثواب ذٰلک، قال حبیب بن الربیع لان ادعاء التاویل فی لفظ صراح لا یقبل“
ترجمہ: امام احمد بن ابی سلیمان تلمیذ و رفیق امام سحنون رحمہما اﷲ تعالی سے ایک مرد کی نسبت کسی نے پوچھا کہ اس سے کہا گیا تھا رسول کے حق کی قسم اس نے کہا اﷲ رسول اﷲ کے ساتھ ایسا ایسا کرے اور ایک بدکلام ذکر کیا۔ کہا گیا اے دشمن خدا! تو رسول اﷲ کے بارے میں کیا بکتا ہے تو اس سے بھی سخت تر لفظ بکا پھر بولا میں نے تورسول اﷲ سے بِچّھو مراد لیا تھا۔ امام احمد بن ابی سلیمان نے مستفتی سے فرمایا تم اس پر گواہ ہو جاؤ اور اسے سزائے موت دلانے اور اس پر جو ثواب ملے گا اس میں میں تمہارا شریک ہوں، (یعنی تم حاکم شرع کے حضور اس پر شہادت دو اور میں بھی سعی کروں گا کہ ہم تم دونوں بحکم حاکم اسے سزائے موت دلانے کا ثوابِ عظیم پائیں) امام حبیب بن ربیع نے فرمایا یہ اس لئے کہ کھلے لفظ میں تاویل کا دعوٰی مسموع نہیں ہوتا۔
مولانا علی قاری شرح شفاء میں فرماتے ہیں: ” ثم قال انما اردت برسول اﷲ العقرب فانہ ارسل من عندا لحق وسلط علی الخلق تاویلا للرسالۃ العرفیۃ بالارادۃ اللغویۃ وھو مردود عندالقواعد الشرعیۃ“ ترجمہ: وہ جو اس مرد نے کہا کہ میں نے بچّھو مراد لیا، اس طر ح اس نے رسالت عرفی کو معنی لغوی کی طرف ڈھالا کہ بچّھو کو بھی خدا ہی نے بھیجا اور خلق پر مسلّط کیا ہے، اور ایسی تاویل قواعدِ شرع کے نزدیک مردود ہے۔
علامہ شہاب خفاجی نسیم الریاض میں فرماتے ہیں: ” ھذا حقیقۃ معنی الارسال وھذا مما لا شک فی معنا ہ وانکارہ مکابرۃ لکنہ لا یقبل من قائلہ وادعاؤہ انہ مرادہ لبعدہ غایۃ البعد، وصرف اللفظ عن ظاھرہ لا یقبل کما لو قال انت طالق قال اردت محلولۃ غیر مربوطۃ لا یلتفت لمثلہ و یعد ھذیانا ۱ ھ ملتقطا “
ترجمہ: یہ لغوی معنی جن کی طرف اس نے ڈھالا ضرور بلا شک حقیقی معنی ہیں اس کا انکار ہٹ دھرمی ہے بایں ہمہ قائل کا ادعا مقبول نہیں کہ اس نے یہ معنی لغوی مراد لئے تھے، اس لئے کہ یہ تاویل نہایت دور از کار ہے اور لفظ کا اس کے معنی ظاہر سے پھیرنا مسموع نہیں ہوتا جیسے کوئی اپنی عورت کو کہے تو طالق ہے اور کہے میں نے تو یہ مراد لیا تھا کہ تو کھلی ہوئی ہے بندھی نہیں ہے (کہ لغت میں طالق کشادہ کو کہتے ہیں) تو ایسی تاویل کی طرف التفات نہ ہوگا اور اسے ہذیان سمجھا جائے گا۔”
(فتاوی رضویہ،جلد15،صفحہ579۔۔،رضافاونڈیشن،لاہور)
امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
” جو معنی کسی طرح کلام سے مفہوم نہ ہو سکیں کیا ان کی طرف پھیرنا کفر کانافی ہوسکتا ہے، شفائے امام قاضی عیاض وغیرہ کتب معتمدہ ائمہ میں تصریح ہے کہ ”التاویل فی لفظ صراح لایقبل “ (صریح الفاظ میں تاویل مقبول نہیں ہوتی ۔ت) ایسی تاویل مسموع ہوتو کوئی کلام کفر نہ ٹھہرسکے ”اردت برسول اﷲ العقرب“ (میں نے رسول اللہ سے مراد بچھو لیا ہے۔)کی تاویل اس تاویل سے قریب تر ہے یانہیں کہ بلاشبہہ عقرب بھی خدا ہی کا بھیجا ہوا ہے۔ “
(فتاوی رضویہ،جلد14،صفحہ316،رضا فاونڈیشن،لاہور)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
ابو احمد مفتی محمد انس رضا قادری
20جمادی الآخر 1445ھ03جنوری 2024ء