حمل میں تین طلاقیں اور جج صاحب کا صلح کروا دینا

حمل میں تین طلاقیں اور جج صاحب کا صلح کروا دینا

کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین بیج اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے گواہوں کی موجودگی میں اپنی بیوی کو حالت حمل میں تین طلاقیں دے دیں ہیں اور اس شخص نے باقاعدہ تین طلاقوں کا اقرار بھی کر لیا ہے ، جس کے بعد لڑکی اپنے میکے چلی گئی۔ بعد ازاں اس طلاق دینے والے شخص نے عدالت میں کیس کر دیا کہ میری بیوی حاملہ تھی میرے سسر زبردستی مجھے سے میری بیوی چھین کر لے گئے ہیں ، اس شخص کے عدالت میں رجوع کرنے کے بعد جج صاحب نے ایک دو تواریخ کے بعد لڑکی کو طلب کیا ، جج صاحب نے لڑکی سے پوچھا کیا آپ اس شخص کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں تو اس مطلقہ نے جوابا کہا: اگر شریعت اجازت دیتی ہے تو میں رہنا چاہتی ہوں ،تو جج صاحب نے فیصلہ لڑکے کے حق میں دے دیا اور یہ فیصلہ سنا دیا کہ یہ مطلقہ لڑکی اس طلاق دینے والے مرد کے ساتھ رہ سکتی ہے۔تو اب عرض یہ کہ اس صورت میں اس مرد و خاتون کا میاں بیوی کی طرح اکٹھا رہنا کیسا ہے؟نیز ایسی حالت میں اس مرد و خاتون کے والدین اور دیگر رشتہ داروں کا ان دونوں( مرد و خاتون ) ساتھ تعلقات( میل جول ) رکھنا کیسا ہے؟نیز اسی طرح ان مرد و خاتون دونوں کے والدین یا دونوں میں سے ایک کے والدین ان کے ساتھ تعلقات رکھتے ہیں تو ایسی صورت میں دیگر خاندان والوں کا ان کے والدین کے ساتھ تعلقات رکھنا کیسا ہے؟

سائل: گل نواز کمبوہ موچھ پل تحصیل و ضلع میانوالی

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب

صورت مسئولہ کے مطابق تین طلاقوں کے بعد میاں بیوی کا بغیر حلالہ شرعی کے اکٹھے رہنا جائز نہیں ہے اور شرعی طور پر حالت حمل میں طلاق دینے سے نافذ ہوجاتی ہے(یہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے) اگرچہ تین طلاقیں اکٹھی دی ہوں۔ کورٹ یہ جاننے کے باوجود صلح کروا دینا کہ تین طلاقیں ہوچکی ہیں ناجائز و حرام عمل ہے۔ اسی طرح جب جب ان کے درمیان کوئی تعلق قائم ہوگا تو یہ حرام اور گناہ ہوگا اور اس کے ساتھ ساتھ یہ فیصلہ کرنے والے بھی اس میں برابر کے شریک ہونگے۔ مرد و عورت کو چاہیے کہ فورا توبہ کرتے ہوئے الگ ہوجائیں ورنہ سخت گناہ گار ہیں اور جن رشتہ داروں،پڑوسیوں اور دوست احباب کو اس کی اطلاع ہے انہیں چاہیے کہ ان سے سلام، کلام ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ،کھانا ،پینا سب ترک کردیں جب تک ان کی علیحدگی اور اس فعل پر توبہ ثابت نہ ہو جائے ۔ جو کوئی بھی اس سب کے باوجود ان سے تعلقات اس وجہ سے استوار رکھے کہ یوں ان دونوں کا رہنا جائز ہے وہ بھی گناہ گار جس سے تعلق ترک کیا جائے۔

قرآن پاک میں ہے

”﴿فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗؕ-فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ﴾

ترجمۂ کنزالایمان :پھر اگر تیسری طلاق اسے دی ، تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی ، جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے، پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دے دے ، تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں۔(پارہ 2 ، سورۃالبقرہ، آیت 230)

سنن کبریٰ بیہقی میں ہے:

” عن ابن عباس رضي الله عنهما في قوله تعالى: {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠] يقول: ” إن طلقها ثلاثا فلا تحل له حتى تنكح زوجا غيره “، ثم قال: {فإن طلقها فلا جناح عليهما أن يتراجعا} [البقرة: ٢٣٠] يقول: ” إذا تزوجت بعد الأول فدخل بها الآخر فلا حرج على الأول أن يتزوجها إذا طلقها الآخر أو مات عنها ” وروينا عن القاسم بن محمد في موت الثاني عنها قبل أن يمسها لا يحل لزوجها الأول أن يتزوجها“

ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد (پھر اگر طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے) کے بارے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں: اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے، پھر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد(پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دیدے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: جب پہلے شوہر کے بعد عورت کسی دوسرے سے شادی کرے اور وہ دخول کرے پھر جب دوسرا شوہر اسے طلاق دے یا مرجائے تو اب پہلے شوہر پر کوئی حرج نہیں کہ وہ اس عورت سے نکاح کرلے۔ اور شوہر ثانی کی موت کے بارے میں حضرت قاسم بن محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جبتک شوہر ثانی اس عورت سے مس(دخول) نہ کرلے عورت پہلے شوہر کیلئے حلال نہ ہوگی۔(سنن کبریٰ بیہقی، جلد7، صفحہ616، مطبوعہ دار الكتب العلميہ، بيروت، لبنان)

فتاوی ہندیہ میں ہے

”وإن کان الطلاق ثلاثاً في الحرة وثنتین في الأمة لم تحل له حتی تنکح زوجًا غیره“

ترجمہ:اور اگر حرہ کو تین طلاقیں دیں اور باندی کو دو طلاق دیں تو وہ اس کے لیے حلال نہ ہوگی جبکہ تک کسی دوسرے سے نکاح نہ کرلے۔ (الهندیة، کتاب الطلاق، الباب السادس، جلد 1 صفحہ 535 ، مطبوعہ کوئٹہ)

قرآن مجید میں حاملہ عورتوں کی عدت کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾ ترجمہ کنزالایمان:اور حمل والیوں کی میعاد یہ ہے کہ وہ اپنا حمل جَن لیں۔(پارہ28،سورۃ الطلاق،آیت4)

سنن کبری للبیہقی میں ہے:

”عن أم كلثوم بنت عقبة أنها كانت تحت الزبير فطلقها وهي حامل فذهب الى المسجد فجاء وقد وضعت ما في بطنها فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر له ما صنع فقال: بلغ الكتاب أجله“

ترجمہ:حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ وہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھیں ،انہوں نے حمل کی حالت میں انہیں طلاق دے دی ۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ مسجد نبوی کی طرف آرہے تھے ،وہ مسجد میں پہنچے ، تو ام کلثوم نے اپنے پیٹ میں موجود بچے کو پیدا کیا۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور اپنامعاملہ عرض کیا ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کتاب اپنی مدت کو پہنچ گئی۔(یعنی قرآن میں حاملہ کی عدت بچہ پیدا ہونا ہے ، وہ عدت پوری ہوگئی۔) (سنن کبری للبیهقی،باب عدۃ الحامل المطلقۃ،جلد3،صفحہ154،مطبوعہ کراچی )

اس آیت و حدیث سے معلوم ہوا کہ حمل میں طلاق ہوجاتی ہے اور اس کی عدت بچہ پیدا ہونے تک ہوتی ہے۔

طلاق ثلاثہ کا تحقیقی جائزہ میں ہے :

”اکثر دیکھا گیا ہے کہ کونسلر حضرات اور خاندان یا پنچائیت کے لوگ تین طلاقیں ہوجانےکے باوجود صلح و صفائی کرواکر عورت کو سابقہ شوہر کے پاس بھیج دیتے ہیں اور اس کام کو بہت اچھا سمجھتے ہیں کہ ہم نے کسی کا گھر بسا دیا حالانکہ یہ انہوں نے ایک حرام کام کیا اللہ عزوجل کے حکم کے خلاف عمل کرنا ہمدردی نہیں بلکہ ظلم ہے۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے

﴿ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ﴾

ترجمہ کنزالایمان اور جو اللہ کے اتارے پر حکم نہ کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔(سورۃ المائدہ سورت 5 آیت 45)

ایسا کرنے والوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ ان کے نامہ اعمال میں ایک گناہ تو یہ لکھا گیا کہ بغیر حلالہ کے میاں بیوی کو اکٹھا کردیا اور دوسرا گناہ جو کہ مسلسل لکھا جاتا رہے گا وہ یہ ہے کہ جب میاں بیوی آپس میں صحبت کریں گے یہ حرام اور گناہ ہوگا جس طرح میاں بیوی کو اس کا گناہ ہوگا اسی طرح ان کو بھی گناہ ہوگا۔مسلم شریف کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

”مَنْ سَنَّ فِی الْاِسْلَامِ سُنَّۃً حَسَنَۃً فَعُمِلَ بِھَا بَعْدَہٗ کُتِبَ لَہٗ مِثْلُ اَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِھَا وَلَایَنْقُصُ مِنْ اُجُوْرِھِمْ شَیْءٌ وَمَنْ سَنَّ فِی الْاِسْلَامِ سُنَّۃً سَیِّئَۃً فَعُمِلَ بِھَا بَعْدَہٗ کُتِبَ عَلَیْہِ مِثْلُ وِزْرِ مَنْ عَمِلَ بِھَا وَلَا یَنْقُصُ مِنْ اَوْزَارِھِمْ شَیْءٌ“

ترجمہ: جس نے اسلام میں کوئی اچھا کام جاری کیا اور اُس کے بعد اُس پر عمل کیا گیا تو اسے اس پر عمل کرنے والوں کی طرح اَجْر ملے گا اورعمل کرنے والوں کے اَجْر و ثواب میں بھی کوئی کمی نہیں ہوگی اور جس نے اسلام میں کوئی بُرا طریقہ نکالااور اُس کے بعد اُس پرعمل کیا گیا تو اسے اس پر عمل کرنے والوں کی مانند گناہ ملے گا اور عمل کرنے والوں کے گناہوں میں بھی کوئی کمی نہ کی جائے گی۔“(طلاق ثلاثہ کا تحقیقی جائزہ، صفحہ 81، مطبوعہ، مکتبہ فیضان شریعت ،لاہور)

فتاویٰ فیض الرسول میں ہے:

”طلاق دینے کے باوجود اگر وہ پہلی بیوی سے کسی قسم کا ناجائز تعلق رکھتا ہے تو مسلمانوں کو چاہیے کہ اس کا بائیکاٹ کریں ورنہ وہ بھی گناہ گار ہوں گے ۔“(فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ547 ،اکبر بک سیلرز لاہور )

وقار الفتاوی میں ہے:

”وہ پہلی طلاق کے ساتھ مل کر تین طلاقیں ہوگئیں اور یہ بیوی اس کے لیے حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ان کو ملنا، جلنا ،ساتھ رہناسب حرام ہوگیا یہ لوگ جو اب بھی ساتھ رہ رہے ہیں حرام کاری کی زندگی گزار رہے ہیں ان کو فوراً جدا ہونا فرض ہے اور اہل محلہ اور رشتہ دار جو ان کے حالات کو جانتے ہیں ان پر لازم ہے کہ وہ اپنے اثرات اور طاقت کا استعمال کرکے انہیں جدا کرے اور اگر یہ جدا نہ ہوں تو ان سے تعلقات منقطع کرلیں ان سے سلام کلام بند کردیں ورنہ یہ بھی ان کے گناہ میں شریک ہوں گے ۔“(وقار الفتاوی، جلد 3، صفحہ 172، بزم وقار الدین)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ممبر فقہ کورس

10شوال المکرم 1445ھ18 اپریل 2024ء

نظرثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں