حاجی پر کتنی قربانیاں واجب ہیں؟

حاجی پر کتنی قربانیاں واجب ہیں؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ حاجی پر کتنی قربانیاں واجب ہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

حجِ قران یا حجِ تمتع کرنے کی صورت میں دمِ شکر کے طور پر ایک حصہ قربانی کرنا یا ایک دنبہ، یا بھیڑ، یا بکری حرم کی حدود میں ذبح کرنا واجب ہوتا ہے، یہ اس قربانی کے علاوہ ہے جو ہر سال اپنے وطن میں کی جاتی ہے، دونوں الگ الگ ہیں،عید والی قربانی کا حج والی قربانی سے کوئی تعلق نہیں۔ حاجی کے لیے عید والی قربانی واجب ہونے یا نہ ہونے کا ضابطہ یہ ہے کہ اگر حاجی شرعی مسافر ہو تو اس پر قربانی واجب نہیں، البتہ اگر مسافر حاجی بھی اپنی خوشی سے عید والی قربانی کرے گا تو اس پر ثواب ملے گا، لیکن لازم نہیں ہے۔ اور اگر حاجی مقیم ہے اور اس کے پاس حج کے اخراجات کے علاوہ نصاب کے برابر زائد رقم موجود ہے تو اس پر قربانی کرنا واجب ہوگی۔اب اسے اختیار ہے کہ چاہے تو مکہ مکرمہ یا مدینہ میں قربانی کا انتظام کرے یا اپنے وطن میں اپنے علاقے میں قربانی کی رقم بھیج دے یا وطن میں کسی کو قربانی کرنے کا کہہ دے اور ایک قربانی کرنے سے یہ واجب ادا ہوجائے گا۔ تاہم اگر حاجی یہ قربانی اپنے وطن میں کرے تو ضروری ہوگا کہ جس دن اس کے وطن میں قربانی کا جانور ذبح ہو، وہ دن حرمین طیبین میں بھی قربانی کے ایام میں سے ہو۔

اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

” فَمَنۡ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَۃِ اِلَی الْحَجِّ فَمَا اسْتَیۡسَرَ مِنَ الْہَدْیِۚ فَمَنۡ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَسَبْعَۃٍ اِذَا رَجَعْتُمْؕ تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ“

ترجمہ کنزالایمان: تو جو حج سے عمرہ ملانے کا فائدہ اٹھائے اس پر قربانی ہے جیسی مُیَسَّر آئے پھر جسے مقدور نہ ہو تو تین روزے حج کے دنوں میں رکھے اور سات جب اپنے گھر پلٹ کر جاؤ یہ پورے دس ہوئے ۔ (پارہ۲،سورہ البقرہ، آیت نمبر۱۹۶)

صحیح مسلم شریف میں جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے دسویں ذی الحجہ کو عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی طرف سے ایک گائے ذبح فرمائی اور دوسری روایت میں ہے کہ ازواجِ مُطہرات کی طرف سے حج میں گائے ذبح کی۔(بہار شریعت ،حصہ۶،صفحہ۱۲۱۲)

امام کاسانی فرماتے ہیں:

”وَذَكَرَ في الْأَصْلِ وقال وَلَا تَجِبُ الْأُضْحِيَّةُ على الْحَاجِّ وَأَرَادَ بِالْحَاجِّ الْمُسَافِرَ فَأَمَّا أَهْلُ مَكَّةَ فَتَجِبُ عليهم الْأُضْحِيَّةُ“

ترجمہ:الاصل میں ہے کہ حاجی پر (دمِ شکر کے علاوہ) قربانی واجب نہیں ہے۔ یہاں مراد مسافر حاجی ہےجبکہ اہل مکہ پر قربانی واجب ہو گی۔( بدائع الصنائع،جلد 5،صفحہ 63، دار الكتاب العربي،بیروت)

امام محمد بن علی بن محمد حصکفی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:

”(عَلَى حُرٍّ مُسْلِمٍ مُقِيمٍ) بِمِصْرٍ أَوْ قَرْيَةٍ أَوْ بَادِيَةٍ، فَلَا تَجِبُ عَلَى حَاجٍّ مُسَافِرٍ؛ فَأَمَّا أَهْلُ مَكَّةَ فَتَلْزَمُهُمْ وَإِنْ حَجُّوا“

ترجمہ:(عمومی قربانی واجب ہے) آزاد مسلمان مقیم پر جو شہر، دیہات یا جنگل میں مقیم ہو۔ یہ مسافر حاجی پر واجب نہیں ہے، جہاں تک اہل مکہ کا تعلق ہے تو ان پر (مقیم ہونے کے سبب صاحبِ استطاعت ہونے کی صورت میں) قربانی واجب ہو گی اگرچہ وہ حج کریں۔( الدرالمختار، 6: 315، دارالفكر،بیروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

کتبہ

ممبر فقہ کورس

15-05-2024

نظرثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں