جو رقم گھر یا حج کے لیے رکھی ہو اس پر زکوۃ

جو رقم گھر یا حج کے لیے رکھی ہو اس پر زکوۃ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ

1)کیا پلاٹ خریدنے کے لیے یا گھر بنانے کے لیے رکھی گئی رقم پر زکوٰۃ واجب ہوگی؟

2)کمیٹی سے ملنے والی رقم پر زکوٰۃ کا کیا حکم ہوگا؟

3)بیٹی کی شادی کے لیے جمع کی ہوئی رقم پر زکوٰۃ نکالنی ہوگی؟

4) اور اگر کسی نے حج کے لیے رقم جمع کی ہیں تو کیا اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب

صورت مستفسرہ کے مطابق رقم چاہے گھر بنانے کے لیے ہو یا پلاٹ لینے کے لیے ہو ،کمیٹی سے ملنے والی رقم ہو یا بیٹی کی شادی کے لیے جمع کی گئی ہو یا فریضہ حج کے لیے جمع کی گئی ہو، ان سب صورتوں میں اگر بقدرنصاب اس کے پاس تمام حاجات اصلیہ سے فارغ موجود ہو تو زکوۃ کے احکام لاگو ہوں گے۔ کیونکہ یہ سب وہ صورتیں ہیں جن کے دَین کا مطالبہ بندوں کی طرف سے نہیں۔

فتاوی شامی میں ہے

”اذا امسكه لينفق منه كل ما يحتاجه فحال الحول وقد بقی معه منه نصاب فانه يزكی ذلك الباقی وان كان قصده الانفاق منه ايضا فی المستقبل لعدم استحقاق صرفه الى حوائجه الاصلية وقت حولان الحول “

یعنی حاجت اصلیہ میں خرچ کرنے کے لیےرقم رکھی،پھر سال پورا ہوگیا، مگر اب بھی رقم بقدرِ نصاب باقی تھی تو باقی کی زکوٰۃ نکالنی ہوگی، اگرچہ اسی نیت سے رکھے ہیں کہ آئندہ حاجت اصلیہ ہی میں صرف ہوں گے،کیونکہ فی الحال سال پورا ہونے پران کا حاجتِ اصلیہ میں خرچ کرنے کا استحقاق ثابت نہیں ہوا۔(ردّ المحتارمع الدرالمختار،جلد3،صفحہ218، مطبوعہ کوئٹہ)

فتاوی عالمگیری میں ہے

”تجب الزکاۃ عند تمام الحول الاول کذا فی فتح القدیر وھکذا فی الکافی وکل دین لا مطالب لہ من جھۃ العباد کدیون اللہ تعالی من النذور والکفارات وصدقۃ الفطر ووجوب الحج لا یمنع“

یعنی زکوۃ سال پورا گزرنے پر واجب ہوجاتی ہے،فتح القدیراورکافی میں یونہی لکھا ہےاورہر وہ دین جس کا مطالبہ لوگوں کی طرف سے نہ ہو ،جیسے اللہ عزوجل کے دین مثلاً نذور،کفّارے،صدقہ فطر،حج کالازم ہونا یہ تمام چیزیں زکوٰۃ کے لیےمانع نہیں۔ (الفتاوی الھندیۃ،جلد1،صفحہ173،مطبوعہ پشاور)

تنویرالابصارمع الدرمیں ہے

’’(فلازکاۃ علی۔۔مدیون للعبدبقدردینہ)فیزکی الزائد ان بلغ نصابا‘‘

ترجمہ:جس پر کسی بندےکاقرض ہو،اُس قرض کی مقدارزکوٰۃ نہیں ہوگی۔ہاں!اگرقرض نکال کربچنے والابقیہ مال، نصاب کو پہنچ جائے،تواُس کی زکوٰۃ دینی گی۔(تنویرالابصارمع الدر،ج3،ص214 تا215،مطبوعہ پشاور)

فتاوی رضویہ میں ہے:

’’جس دن وُہ مالکِ نصاب ہُوا تھا جب اُس پر سال پُورا گزرے گا اُس وقت جتنا سونا چاندی یا تجارت کا مال میز کرسی وغیرہ جو کچھ بھی ہو ،بقدرنصاب اس کے پاس تمام حاجات اصلیہ سے فارغ موجود ہوگا اس پر زکوٰۃ فرض ہوگی، روزمرہ کے خرچ میں جو خرچ ہوگیا ہوگیا۔‘‘ (فتاوی رضویہ،جلد10،صفحہ186،رضافاؤنڈیشن،لاھور)

جو صورت سوال میں پوچھی گئی بعینہ اسی متعلق شیخ الاسلام والمسلمین امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ سے سوال ہوا:

”زید بشوقِ زیارتِ حرمین طیبین کچھ پس انداز کرتا جاتاہے، اس طرح پر اب وہ صاحبِ نصاب عرصہ ڈیڑھ سال سے ہوگیا تو اس کو صدقہ فطر وزکوٰۃ وقربانیِ عید الاضحٰی کرنا چاہئے یا نہیں ؟“

آپ علیہ الرحمۃ نےجواب میں ارشاد فرمایا:

”اس پر زکوۃ فرض ہے اور صدقہ و قربانی واجب۔“(فتاوی رضویہ،جلد 10، صفحہ140، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن ،لاھور)

بہار شریعت میں صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:

”حاجت اصلیہ میں خرچ کرنے کے روپے رکھے ہیں تو سال میں جو کچھ خرچ کیا،کیااور جو باقی رہے اگر بقدرِ نصاب ہیں ،تو ان کی زکوٰۃ واجب ہے اگرچہ اسی نیت سے رکھے ہیں کہ آئندہ حاجت اصلیہ ہی میں صرف ہوں گے اور اگر سال تمام کے وقت حاجت اصلیہ میں خرچ کرنے کی ضرورت ہے ،تو زکوٰۃ واجب نہیں۔“(بہار شریعت،جلد1،حصہ5،صفحہ881،مکتبۃ المدینہ،کراچی)

بہار شریعت میں ہے :

جس دَین کا مطالبہ بندوں کی طرف سے نہ ہو اس کا اس جگہ اعتبار نہیں یعنی وہ مانع زکاۃ نہیں، مثلاً نذر وکفارہ و صدقہ فطر و حج و قربانی کہ اگر ان کے مصارف نصاب سے نکالیں تو اگرچہ نصاب باقی نہ رہے زکاۃ واجب ہے، عشر و خراج واجب ہونے کے لیے دین مانع نہیں یعنی اگرچہ مدیُون ہو، یہ چیزیں اس پر واجب ہو جائیں گی۔“(بہار شریعت،جلد1،حصہ5،صفحہ879، مکتبۃ المدینہ،کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ممبر فقہ کورس

09رمضان المبارک1445ھ20مارچ 2024ء

نظر ثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں