جانوروں کے چارے پر عشر
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جانوروں کے چارے پر عشر ہے یا نہیں ۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
فقہاء کرام فرماتے ہیں کہ ایسی چیزیں جن سے عموماً زمین کے منافع حاصل کرنا مقصود نہیں ہوتا،نہ وہ باقاعدہ طور پر کاشت کی جاتی ہیں ان چیزوں پر عشر واجب نہیں ہے لیکن ساتھ ہی یہ وضاحت بھی کر دی کہ زمین کو اگر ان چیزوں میں مشغول کر دیا اور یہ چیزیں باقاعدہ کاشت کردیں،تو ان میں بھی عشر واجب ہوگا،لہذا صورت مسئولہ میں اگر چارہ قدرتی طور پر خود ہی اگ آیا یا گھاس وغیرہ خود ہی اگ آئی تو ایسی صورت میں عشر نہیں ہو گا اور جب باقاعدہ طور پر چارہ کاشت کیا جائے ،تو اس میں اپنی تفصیل کے مطابق عشر یا نصف عشر لازم ہوگا۔ خواہ وہ چارہ کاٹ کر بیچا جائے یا نہ بیچا جائے ۔اگر مفت پانی لگا ہے تو عشر ہوگا یعنی بالفرض اگر سو کلوکاشت ہوئی ہے تو اس میں سے دس کلو عشر ہوگا۔ اگر پانی بجلی سے لگایا یعنی موٹر چلا کر پانی نکالا ہے تو اب نصف عشر ہوگا یعنی سوکلو میں سے پانچ کلو ہوگا۔
درمختار میں ہے:’’
لو اشغل ارضہ بھا یجب العشر‘‘
اگر کوئی اپنی زمین ان (گھاس،لکڑی وغیرہ)میں مشغول کردے،تو عشر واجب ہوگا۔ (در مختار مع رد المحتار،جلد 3،صفحہ316،مطبوعہ کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے:
’’جو چیزیں ایسی ہوں کہ ان کی پیداوار سے زمین کے منافع حاصل کرنا مقصود نہ ہو،ان میں عشر نہیں،جیسے ایندھن،گھاس،نرکل ، سینٹھا،جھاؤ،کجھور کے پتے۔اور اگر نرکل،گھاس،بید،جھاؤ وغیرہ سے زمین کے منافع حاصل کرنا مقصود ہو اور زمین ان کے لیے خالی چھوڑ دی ،تو ان میں بھی عشر واجب ہے۔‘‘
مزید بہار شریعت میں ہے:
’’جو چیزیں ایسی ہوں کہ ان کی پیداوار سے زمین کے منافع حاصل کرنا مقصود نہ ہو،ان میں عشر نہیں،جیسے ایندھن،گھاس،نرکل،سینٹھا،جھاؤ،کجھور کے پتے۔اوراگر نرکل،گھاس،بید،جھاؤ وغیرہ سے زمین کے منافع حاصل کرنا مقصود ہو اور زمین ان کے لیے خالی چھوڑ دی ،تو ان میں بھی عشر واجب ہے۔‘‘ (بہار شریعت،جلد1،صفحہ917،مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
کتبہ
عابد خان مدنی غفر لہ الغنی
15 اپریل2024