بغیر محرم کے حج و عمرہ کرنا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ عورت کا بغیر محرم کے کاروان کے ساتھ کسی نا محرم کو اپنا محرم ظاہر کر کے حج یا عمرہ پر جانا کہ اس کے کسی بھی محارم کے پاس حج کی ادائیگی کے لیے زاد راہ موجود نہ ہو تو اس صورت میں اس عورت کے لئے کیا حکم ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
صورتِ مسئولہ میں عورت کا بغیر مَحْرَم کسی کاروان کے ساتھ حج یا عمرہ پر جانا جائز نہیں کہ حکمِ شرعی یہ ہے کہ عورت کا شوہر یا مَحْرَم کے بغیر تین دن یعنی 92 کلو میٹر کی راہ کا سفر ناجائز و حرام و گناہ ہے۔ خواہ سفر حج کے لئے ہو یا کسی اور غرض سے، اگر چلی گئی تو قدم قدم پر اس کے لئے گناہ لکھا جائے گا۔
نیز نا محرم کو محرم ظاہر کر کے جانا یہ جھوٹ و دھوکا ہے کیونکہ کسی نا محرم کو اپنے طور پر محرم بنالینے کا شرعا اعتبار نہیں، اس سے وہ شرعی محرم نہیں بن جاتا لہٰذا ایسا کرنا درست نہیں ہے۔
سفرِ حج کے لئے محرم یا شوہر کا ہونا وجوبِ حج کی شرائط سے نہیں، بلکہ شرائط پائے جانے پر حج فرض ہو جانے کے بعد اس کی ادائیگی واجب ہونے کی شرائط میں سے ہے، لہٰذا صورت ہذا میں فرضیتِ حج کی دیگر شرائط پائے جانے کے ساتھ کہ وہ خود حج کر سکتی ہے، لیکن محرم کے ساتھ نہ جانے کی وجہ ادائیگی واجب ہونے کی صورت نہیں پائی گئی، اس عورت پر اب بھی حج فرض ہے مگر جب تک ساتھ جانے کے لئے کوئی محرم نہیں ملتا ، انتظار کرے کہ ان کے پاس وسائل آ جائیں اور اگر شوہر یا محرم کے میسر نہ ہونے کی وجہ سے اپنی زندگی میں حج کی ادائیگی ہی ممکن نہ ہو سکی اور عمر اتنی زیادہ ہو گئی کہ اب خود ہی حج کرنے سے عاجز ہے اور وقتِ وفات بھی قریب ہے، تو حجِ بدل کروانا یا حجِ بدل کی وصیت کرنا اس عورت پر واجب ہوگا۔
صحیح بخاری میں ہے:
’’قال النبي صلى اللہ عليه وسلم:لا تسافر المرأة إلا مع ذي محرم،ولا يدخل عليها رجل إلا ومعها محرم، فقال رجل:يا رسول اللہ إني أريدأن أخرج في جيش كذا وكذا وامرأتي تريد الحج، فقال: اخرج معها‘‘
ترجمہ:نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورت بغیر محرم کے سفر نہ کرے اور محرم کی غیر موجودگی میں کوئی اس کے پاس نہ آئے۔ اس پر ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم !میں فلاں فلاں لشکر میں جانا چاہتا ہوں اور میری عورت حج کرنا چاہتی ہے۔ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اپنی عورت کے ساتھ جاؤ۔ (صحیح البخاری، باب حج النساء،ج03،ص19،دارطوق النجاۃ)
ہدایہ میں ہے:
”یعتبر المراۃ ان یکون لھا محرم تحج بہ او زوج ولایجوز لھا ان تحج بغیرھما اذا کان بینھا وبین مکۃ مسیرۃ ثلاثۃ ایام “
یعنی عورت کے لئے محرم یا شوہر کا ہونا معتبر ہے جس کے ساتھ حج کر سکے اور عورت کے لئے جائز نہیں کہ ان دونوں کے بغیر حج کو جائے، بشرطیکہ اس کے اور مکۃ المکرمہ کے درمیان تین دن(یعنی 92 کلو میٹر یا اس سے زائد)کی مسافت
ہو۔(ھدایہ مع فتح القدیر، جلد2،صفحہ 326۔326،مطبوعہ:بیروت)
مناسکِ ملا علی قاری اور فتاوی شامی میں ہے: واللفظ للشامیۃ
”والنوع الثانی:شروط الاداء وهی التی ان وجدت بتمامها مع شروط الوجوب وجب اداؤه بنفسه وان فقد بعضها مع تحقق شروط الوجوب فلا يجب الاداء بل عليه الاحجاج او الايصاء عند الموت وهی خمسة: سلامة البدن وامن الطريق وعدم الحبس والمحرم او الزوج للمراة وعدم العدّة لها “
یعنی حج کی شرائط میں سے دوسری قسم شرائطِ وجوبِ ادا کی ہے اور یہ وہ شرائط ہیں کہ جب یہ ساری شرائط، وجوبِ حج کی شرائط کے ساتھ پائی جائیں تو آدمی پر خود حج ادا کرنا فرض ہو جاتا ہے اور اگر شرائطِ وجوب ادا میں سے کوئی شرط نہ پائی جا ئے ، وجوب کی ساری شرائط پائی جاتی ہوں تو اب آدمی پر خود حج کے لئے جانا واجب نہیں بلکہ اس پر لازم ہے کہ اپنی طرف سے کسی اور کو حج پر بھیجے یا مرنے کے وقت حجِ بدل کی وصیت کر جائے۔ وجوبِ ادا کی کل 5شرائط ہیں: تندرست ہونا، راستے میں امن ہونا، قید میں نہ ہونا،(اگر عورت پر حج فرض ہے تو)اس کے لئے محرم یا شوہر کا موجود ہونا نیز عورت کا عدّت میں نہ ہونا۔(ردالمحتار،جلد3،صفحہ521-522،مطبوعہ: کوئٹہ)(المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط،صفحہ70،مطبوعہ مکۃ المکرمۃ)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ حج کی شرائطِ وجوبِ ادا کے تحت فرماتے ہیں:
”عورت کو مکہ تک جانے میں تین دن یا زیادہ کا راستہ ہو تو اس کے ہمراہ شوہر یا محرم ہونا شرط ہے، خواہ وہ عورت جوان ہو یا بوڑھیا۔“(بھار شریعت،جلد1،حصہ6،صفحہ1044، مکتبۃ المدینہ،کراچی)
ردالمحتار میں ہے:
”ومن العجز الذی یرجی زوالہ عدم وجود المراۃ محرما فتقعد الی ان تبلغ وقتا تعجز عن الحج فیہ ای لکبر او عمی او زمانۃ فحینئذ تبعث من یحج عنھا“
یعنی ایسا عجز جس کے ختم ہونے کی امید ہے اس میں عورت کا محرم کو نہ پانا ہے ، تو یہ عورت انتظار کرے گی یہاں تک کہ ایسے کیفیت کو پہنچ جائے جس میں خود حج کرنے سے عاجز ہو یعنی بڑھاپے ، اندھے پن یا لنگڑے پن کی وجہ سے ، تو اب ایسے شخص کو بھیجے جو اس کی طرف سے حج کرسکے ۔(ردالمحتار،جلد4،صفحہ 18،مطبوعہ:کوئٹہ)
فتاوی رضویہ میں ہے:
”عورت اگر چہ عفیفہ یا ضعیفہ ہو اسے بے شوہر یا محرم سفر کو جانا حرام ہے، یہ عفیفہ ہے تو جن سے اس پر اندیشہ ہے وہ تو عفیف نہیں، اور یہ ضعیفہ ہے تو سفر خصوصًا حج میں اور زیادہ محتاج محرم ہے کہ جہاز یا اونٹ پر چڑھانے اتارنے کے لیے ضعیفہ کو دوسرے شخص کی زیادہ حاجت ہے۔ ہاں اگر چلی جائے گی گنہ گار ہوگی، ہر قدم پر گناہ لکھا جائے گا، مگر حج ہوجائے گا ۔ “(فتاوی رضویہ ،جلد۱۰،صفحہ۷۱۶،مکتبۃالمدینہ،کراچی)
بہارِ شریعت میں ہے:
”اگر اس پر حقوق اللہ کی ادائیگی باقی ہے جیسے اس پر کچھ نمازوں کا ادا کرنا باقی ہے یا اس پر حج فرض تھا ادا نہ کیا یا روزہ رکھنا تھا نہ رکھا ، تو ایسی صورت میں ان کے لئے وصیت کرنا واجب ہے۔“(بہارِ شریعت، جلد3،صفحہ 936،مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
کتبہ
ممبر فقہ کورس
13-05-2024
نظر ثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری