بات نہ کرنے کی منت اور شرعی حکم
کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میں نے دوست سے کہا اگر میں نے اب آپ سے بات کی تو اتنے دن روزے رکھوں گا۔ لیکن اب میں بات کرچکا ہوں تو کیا روزے رکھنا لازم ہوں گے؟
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الوہاب اللہم ہدایۃالحق والصواب
پوچھی گئی صورت کا تعلق نذر شرعی سے ہے، آپ نے دوست سے بات کرنے پر روزے رکھنے کو معلق کیا ہے، آپ بات بھی کرچکے ہیں تو اب آپ کو اختیار ہے کہ چاہیں تو جتنے روزے کہے تھے وہ رکھیں یا پھر قسم کا کفارہ دے دیں۔
اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ منت کی دو صورتیں ہیں:
(1) کسی کام کے کرنے کو کسی چیز کے ہونے پر موقوف کیا ہو جیسے میرا فلاں کام ہو جائے تو میں روزہ رکھوں گا یا خیرات کروں گا۔
(2) کسی کام کے کرنے کو کسی چیز پر موقوف نہ کیا ہو جیسے مجھ پر ﷲ پاک کے لیے اتنے روزے رکھنے ہیں یا میں نے اتنے روزوں کی منت مانی۔
دوسری صورت: کا حکم یہ ہے کہ جو منت مانی ہے اسے ہی پورا کرنا ضروری ہے جیسے حج، عمرہ، نماز یا روزے کی منت مانی تو انہیں ہی بجا لائے۔
پہلی صورت کی پھر دو صورتیں ہیں:
(1) ایسی چیز پر معلق کیا کہ اس کے ہونے کی خواہش ہے جیسے میرا لڑکا تندرست ہوجائے تو اتنے روزے رکھوں گا۔
اس کا حکم یہ ہے کہ شرط پائے جانے کی صورت میں جو منت مانی ہے اسے ہی پورا کرنا ضروری ہے، اس کی جگہ کفارہ نہیں دے سکتے۔
(2) ایسی چیز پر معلق کیا کہ جس کا ہونا نہیں چاہتا، جیسے اگر میں تم سے بات کروں تو مجھ پر اتنے روزے ہیں۔
اس کا حکم یہ ہے کہ شرط پائے جانے کی صورت میں اسے اختیار ہے چاہے تو جو منت مانی ہے اسے پورا کرے اور چاہے تو کفارہ دے دے۔
تنویر الابصار مع در مختار میں ہے:
”(ثم إن) المعلق فيه تفصيل فإن (علقه بشرط يريده كإن قدم غائبي) أو شفي مريضي (يوفي) وجوبا (إن وجد) الشرط (و) إن علقه (بما لم يرده كإن زنيت بفلانة) مثلا فحنث (وفى) بنذره (أو كفر) ليمينه (على المذهب) لأنه نذر بظاهره يمين بمعناه فيخير ضرورة“
ترجمہ: جو منت مانی گئی ہے اس میں کچھ تفصیل ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر منت ماننے والے نے ایسی شرط پر معلق کیا ہے کہ جس کا ہونا چاہتا ہے جیسے کہ میرا غائب آجائے یا میرا مریض تندرست ہوجائے تو شرط پائے جانے کی صورت میں منت کو پورا کرنا واجب ہوگا، اور اگر ایسی شرط پر معلق کیا کہ جس کا ہونا نہیں چاہتا جیسے کہا “اگر میں نے فلانی عورت سے زنا کیا” پھر اس نے قسم توڑ دی، تو ظاہر الروایۃ کے مطابق جو منت مانی اسے پورا کرے یا اپنی قسم کا کفارہ دے۔ اس لیے کہ یہ اپنے ظاہرکے اعتبار سے نذر ہے اور معنی کے اعتبار سے یمین ہے؛ اس لیے ضرورتاً اسے اختیار دیا گیا ہے۔ (تنویر الابصار مع در مختار، کتاب الایمان، جلد5، صفحہ542-543، دار المعرفہ، بیروت)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
”وقد روي عن محمد رحمه ﷲ تعالى قال: إن علق النذر بشرط يريد كونه كقوله إن شفى ﷲ مريضي أو رد غائبي لا يخرج عنه بالكفارة كذا في المبسوط. ويلزمه عين ما سمى كذا في فتاوى قاضي خان. وإن علق بشرط لا يريد كونه كدخول الدار أو نحوه يتخير بين الكفارة وبين عين ما التزمه“
ترجمہ: اور امام محمد علیہ الرحمہ سے روایت ہے، آپ نے فرمایا اگر اس شخص نے نذر کو ایسی شرط کے ساتھ معلق کیا ہے کہ جس کا ہونا چاہتا ہے جیسے اس کا کہنا”اگر ﷲ پاک نے میرے مریض کو شفا دی یا میرا غائب لوٹ آیا“ تو یہ شخص کفارے سے برئ الذمہ نہیں ہوگا، ایسا ہی مبسوط میں ہے۔ اور اگر ایسی شرط پر معلق کیا کہ جس کا ہونا نہیں چاہتا، جیسے گھر میں داخل ہونے یا اس کے مثل کوئی منت مانی تو اسے کفارہ دینے اور جو منت مانی اسے پورا کرنے کا اختیار ہے۔ (فتاوی عالمگیری، جلد2، صفحہ65، دار الفکر، بیروت)
بہار شریعت میں ہے:
”منّت کی دو۲ صورتیں ہیں: ایک یہ کہ اوس کے کرنے کو کسی چیز کے ہونے پر موقوف رکھے مثلاً میرا فلاں کام ہو جائے تو میں روزہ رکھوں گا یا خیرات کروں گا، دوم یہ کہ ایسا نہ ہو مثلاً مجھ پر ﷲ (عزوجل) کے لیے اتنے روزے رکھنے ہیں یا میں نے اتنے روزوں کی منّت مانی۔ پہلی صورت یعنی جس میں کسی شے کے ہونے پر اوس کام کو معلق کیا ہو اس کی دوصورتیں ہیں۔ اگر ایسی چیز پر معلق کیا کہ اوس کے ہونے کی خواہش ہے مثلاً اگر میرا لڑکا تندرست ہوجائے یا پردیس سے آجائے یا میں روزگار سے لگ جاؤں تو اتنے روزے رکھوں گا یا اتنا خیرات کروں گا ایسی صورت میں جب شرط پائی گئی یعنی بیمار اچھا ہوگیا یا لڑکا پردیس سے آگیا یا روزگار لگ گیا تو اوتنے روزے رکھنا یا خیرات کرنا ضرور ہے یہ نہیں ہوسکتا کہ یہ کام نہ کرے اور اس کے عوض میں کفارہ دیدے،اور اگر ایسی شرط پر معلق کیا جس کا ہونا نہیں چاہتا مثلاً اگر میں تم سے بات کروں یا تمھارے گھر آؤں تو مجھ پر اتنے روزے ہیں کہ اوس کا مقصد یہ ہے کہ میں تمھارے یہاں نہیں آؤں گا تم سے بات نہ کروں گا ایسی صورت میں اگر شرط پائی گئی یعنی اوس کے یہاں گیا یا اوس سے بات کی تو اختیار ہے کہ جتنے روزے کہے تھے وہ رکھ لے یاکفارہ دے۔“(بہار شریعت، حصہ: 09، منت کا بیان، جلد2، صفحہ314، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ)
کچھ آگے چل کر صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ مزید فرماتے ہیں:
”جس منّت میں شرط ہو اوس کا حکم تو معلوم ہوچکا کہ ایک صورت میں منّت پوری کرنا ہے اور ایک صورت میں اختیار ہے کہ منّت پوری کرے یا کفارہ دے اور اگر شرط کا ذکر نہ ہو تو منّت کا پورا کرنا ضروری ہے حج یا عمرہ یا روزہ یا نماز یاخیرات یا اعتکاف جس کی منّت مانی ہو وہ کرے۔“(بہار شریعت، حصہ: 09، منت کا بیان، جلد2، صفحہ314-315، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ)
واللہ تعالی أعلم بالصواب
کتبه
ابو معاویہ محمد ندیم عطاری مدنی حنفی
نظر ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری
مؤرخہ 19جمادی الثانی 1445ھ بمطابق 02جنوری 2024ء، بروز منگل