اللہ عزوجل کے لیے لفظ خیال کا اطلاق کرنا
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اللہ عزوجل کے لیے لفظ خیال کا اطلاق درست ہے یا نہیں؟ یعنی یہ کہنا کہ اللہ عزوجل کو خیال آیا؟
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ہدایۃ الحق و الصواب
اللّٰہ پاک کے لیے لفظ خیال کا اطلاق شرعاً ممنوع ہے ایسا کہنے والے پر توبہ لازم ہے کیونکہ یہ لفظ شرع میں کہیں وارد نہیں ہوا۔ دوسرا اس سے محال معنی کا وہم پیدا ہورہا ہے اور محال معنی کا صرف وہم بھی ممانعت کے لیے کافی ہے جیساکہ “یاد آنا” وغیرہ، کیونکہ یاد وہ چیز آتی ہے جو پہلے علم میں نہ ہو یعنی یاد آنے سے پہلے اس چیز کے بارے میں لاعلمی وجہالت ہوتی ہے اور ذات باری تعالیٰ لاعلمی و جہالت سے پاک ہے۔ اور دوسرا لفظ خیال کا ایک معنی ارادہ فرمانا بھی کتب میں مذکور ہے تو اس اعتبار سے خیال آیا کا مطلب ہے”ارادہ فرمایا” اور یہ معنی درست ہے اور بولنے والے پر حکمِ کفر تو نہیں ہوگا لیکن جب کسی لفظ کے چند ایسے معنی ہوں جن میں سے بعض اللّٰہ پاک کے حق میں محال ہوں، اور بعض اللہ پاک کے حق میں درست اور شرع میں اس لفظ کا استعمال نہ ہوا ہو تو ایسے لفظ کا استعمال اللہ پاک کے لیے شرعاً ممنوع ہوتا ہے کیونکہ معنی محال کا ایہام(وہم)ہی ممانت کے لیے کافی ہے۔ اگرچہ اس میں صحیح معنی کا احتمال بھی ہو اور “خیال آیا” کا لفظ معنی فاسد کا وہم پیدا کررہا ہے جس سے بچنا ضروری ہے۔
فیروز لغات میں ہے:
”خیال آنا: کچھ یاد آنا“(فیروز الغات، صفحہ602، فیروز سنز لاہور)
فیروز الغات میں لفظ خیال کے درج ذیل معنی لکھے ہیں:
”تصور وہ صورت جو آدمی بیداری میں تصور کرے یا خواب میں دیکھے، فکر، اندیشہ، دھیان، غور و خوض، سمجھ، رائے، منشا، توجہ، التفات، وہم، گمان، ایک راگ کا نام، پاس، لحاظ۔“(فیروز الغات ل، صفحہ602، فیروز سنز لاہور)
فرہنگ آصفیہ میں ہے:
”تصور، وہم، پندار، گمان، زعم، وہ قوت جو اس چیز کو محفوظ رکھتی ہے جسے حس مشترک نے قبول کیا ہے، وہ صورت جو آدمی بیداری میں تصور کرے یا خواب میں دیکھے، فکر، اندیشہ، ادھیڑ پن، کتر بیونت، سوچ و بچار، سمجھ، مضمون، ارادہ، توجہ، التفات، موج، جنون“( فرنگ آصفیہ، جلد2، صفحہ216، اردو سائنس بورڈ،لاہور)
رد المختار میں ہے:
”مجرد ایہام المعنی المحال کاف فی المنع عن التلفظ بہذا الکلام وان احتمل معنی صحیحا“
ترجمہ:محال معنی کا محض ایہام اس کلام کے بولنے سے ممانت کے لیے کافی ہے اگرچہ یہ صحیح معنی کا اعتبار رکھتا ہے۔(ردالمختار کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع،جلد5، صفحہ253، دار احیاء التراث بیروت)
ملفوظات اعلی حضرت میں امام اہل سنت اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے عرض کی گئی:
”حضور اللہ میاں کہنا جائز ہے یا نہیں“
جواب ارشاد فرمایا:
”زبان اردو میں لفظ میاں کے تین معنی ہیں ان میں سے دو ایسے ہیں جن سے شان الوہیت پاک و منزہ ہے اور ایک کا صدق ہو سکتا ہے تو جب لفظ دو خبیث معنوں میں اور ایک اچھے معنی میں مشترک ٹھہرا اور شرع میں وارد نہیں تو ذات باری تعالی پر اس کا اطلاق ممنوع ہوگا اور اس کے ایک معنی مولا، اللہ تعالی بے شک مولا ہے۔ دوسرے معنی شوہر، تیسرے معنی زنا کا دلال، کہ زانی اور زانیہ میں متوسط ہو۔“(ملفوظات اعلی حضرت،صفحہ174، مکتبۃ المدینہ کراچی)
فتاوی رضویہ میں ہے:
”یہ لفظ معنی فاسد کا موہم اور موہم سے بچنا واجب، ردالمحتار میں ہے:”مجرد ایہام المعنی المحال کاف فی المنع”(یعنی محض محال معنی کا محض ایہام ہی ممانت کے لیے کافی ہوتا ہے)۔“( فتاوی رضویہ جلد14، صفحہ 649-650، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
فتاوی شارح بخاری میں نائب مفتی اعظم ہند،حضرت مولانا مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
”ایسے الفاظ جن کے کچھ معنی درست ہوں اور کچھ خبیث اور شرع میں وارد نہ ہوں اس کا استعمال اللہ عزوجل اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ممنوع ہے۔“(فتاوی شارح بخاری، جلد1، صفحہ537، مکتبہ برکات المدینہ کراچی)
فتاوی شارح بخاری میں مزید پاک کے لیے لفظ مزاج کے استعمال پر کلام کرتے ہوئے مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
”اللّٰہ عزوجل کے لیے مزاج کا اطلاق کسی طرح جائز نہیں۔۔ لیکن چونکہ اس کے معنی عادت و خصلت کے بھی ہیں شیخ سعدی نے فرمایا کہ مزاج تو از حال طفلی نگشت،(یعنی ابھی تک تیری بچپن والی عادت نہ بدلی)۔ فیروز الغات میں ہے:”مزاج عادت، خصلت، طبیعت، خاصیت، خاصہ، جوہر، حقیقت، تکبر ناز، نخرہ”۔ اس لیے قائل کی تکفیر درست نہیں کہ ہو سکتا ہے کہ اس کی مراد عادت ہو اور قرینہ سے یہی ظاہر ہے لیکن چونکہ یہ لفظ معنئ سوء کا ایہام رکھتا ہے اس لیے اس کا اطلاق باری تعالی پر جائز نہیں۔۔۔ قائل پر توبہ لازم ہے۔“( فتاوی شارح بخاری، جلد1،صفحہ266، مکتبہ برکات المدینہ کراچی)
واللہ ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
بابر عطاری مدنی اسلام آباد
18شعبان المعظم1445ھ/29فروری2034