احرام کی حالت میں ناخن کاٹنا
کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ احرام کی حالت میں ناخن کاٹ سکتے ہیں یا نہیں؟بینوا توجروا(بیان فرما کر اجر پائیے۔)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
احرام کی حالت میں ناخن نہیں کاٹ سکتے؛ اس لیے کہ محرم کے لیے حلق یا تقصیر سے پہلے ناخن کاٹنا ناجائز و گناہ ہے۔
اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے ایک مجلس میں دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں کے سب ناخن یا ایک ہاتھ یا ایک پاؤں کے سب ناخن کاٹے تو ایک دم لازم ہو جائے گا۔ اور اگر کسی بھی ہاتھ یا پاؤں کے سب ناخن نہ کاٹے بلکہ کچھ کاٹے تو اس صورت میں ہر ناخن کے بدلے ایک صدقہ دینا ہوگا حتی کہ اگر دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں سے ہر ایک کے چار چار ناخن کاٹے تو سولہ صدقے لازم ہوں گے، ہاں اگر صدقوں کی قیمت ایک دم کے برابر ہوجائے تو پھر کچھ قیمت کم کر لے یا ایک دم دے دے، اسی طرح اگر کسی ایک ہاتھ یا پاؤں کے سب ناخن ایک مجلس میں کاٹے اور پھر دوسرے ہاتھ یا پاؤں کے سب ناخن دوسری مجلس میں کاٹے تو دو دم لازم ہوں گے، اسی طرح اگر دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں کے سب ناخن کاٹے لیکن چار مجلسوں میں تو چار دم لازم ہو جائیں گے۔
تنبیہ: مُحرم اگر جان بوجھ کر بغیر عُذر کے جرم کرے تو کفارہ بھی واجب ہوگا اور گناہ گار بھی ہوگا اور اس صورت میں توبہ بھی واجب ہوگی، محض کفارہ دے دینے سے گناہ سے پاک نہ ہوگا جب تک توبہ نہ کرے اور اگر بھول کر یا عذر کی وجہ سے جرم ہوا ہے تو صرف کفارہ کافی ہے۔ جرم میں کفارہ بہرحال لازم ہے، یاد سے ہو یا بھول چوک سے، اس کا جرم ہونا جانتا ہو یا معلوم نہ ہو، خوشی سے ہو یا مجبوراً، سوتے میں ہو یا بیداری میں، نشہ یا بے ہوشی میں یا ہوش میں، خود کیا ہو یا دوسرے نے اس کے حکم سے کیا ہو۔
المسالک فی المناسک میں ہے:
”لا يجوز للمحرم قص الأظافير“
ترجمہ: محرم کے لیے ناخن کاٹنا جائز نہیں ہے۔ (المسالک فی المناسک، فصل: کفارۃ جنایۃ الحلق، صفحہ747، ناشر: دار البشائر الاسلامیہ)
المسالک فی المناسک میں ہے:
”وليس للمحرم أن يقلم الأظفار قبل الحلق أو التقصير؛ لبقائه في الإحرام“
ترجمہ: محرم کے لیے حلق یا قصر سے پہلے ناخن کاٹنا جائز نہیں ہے؛ اس لیے کہ یہ ابھی حالت احرام میں ہی ہے۔(المسالک فی المناسک، فصل: کفارۃ جنایۃ الحلق، صفحہ755، ناشر: دار البشائر الاسلامیہ)
بدائع الصنائع میں ہے:
”وأما قلم الظفر فنقول: لا يجوز للمحرم قلم أظفاره؛ لقوله تعالى: {ثم ليقضوا تفثهم} وقلم الأظفار من قضاء التفث۔۔۔فإن قلم أظافير يد أو رجل من غير عذر وضرورة فعليه دم؛ لأنه ارتفاق كامل فتكاملت الجناية فتجب كفارة كاملة. وإن قلم أقل من يد أو رجل فعليه صدقة لكل ظفر نصف صاع وهذا قول أصحابنا الثلاثة“
ترجمہ: بہرحال محرم کے لیے اپنے ناخن کاٹنا جائز نہیں ہے،ا ﷲ پاک! کے اس فرمان عالیشان کی وجہ سے (پھر اپنا میل کچیل اُتاریں) اور ناخن کاٹنا میل کچیل اتارنے کے قبیل سے ہی ہے۔ لہذا اگر کسی شخص نے بغیر عذر و ضرورت کے ایک ہاتھ یا پاؤں کے ناخن کاٹے تو اس پر ایک دم لازم ہوگا؛ اس لیے کہ اس صورت میں کامل فائدہ اٹھانا پایا گیا ہے، اس لیے جنایۃ بھی بھی کامل ہوگی، لہذا کفارہ بھی کامل واجب ہوگا۔ اور اگر کسی بھی ہاتھ یا پاؤں کے مکمل ناخن نہ کاٹے بلکہ کچھ کاٹے تو اس صورت میں ہر ناخن کے بدلے نصف صاع صدقہ لازم ہوگا، اور یہ ہمارے ائمہ ثلاثہ کا مذہب ہے۔(بدائع الصنائع، کتاب الحج، فصل ما يجوز للمحرم أن يفعله في إحرامه، ج2،ص194، دار الکتب العلمیہ)
فتاوی حج و عمرہ میں علامہ عبد الغنی نابلسی علیہ الرحمہ کی کتاب الابتہاج بمناسک الحج کے حوالے سے لکھا ہے:
”إذا قص أظافير يديه أو رجليه أو يدٍ واحدةٍ أو رجل واحدة في مجلس واحد فعليه دم، و إن كان أقل من يد أو رجل فعليه لكلّ ظفر نصف صاع“
ترجمہ: جب کسی شخص نے دونوں ہاتھوں یا دونوں پاؤں کے یا ایک ہاتھ یا ایک پاؤں کے ناخن ایک مجلس میں کاٹے تو اُس پر ایک دَم لازم ہے اور اگر ایک ہاتھ پاؤں سے کم ہے تو ہر ناخن کے عوض نصف صاع (یعنی ایک صدقہ) ہے۔(فتاوی حج و عمرہ، عنوان: احرام، صفحہ38-39، ناشر: جمعیت اشاعت اہلسنت، الابتہاج بمناسک الحج، صفحہ12، ق)
بہار شریعت میں ہے:
”ایک ہاتھ ایک پاؤں کے پانچوں ناخن کترے یا بیسوں ایک ساتھ تو ایک دَم ہے اور اگر کسی ہاتھ یا پاؤں کے پورے پانچ نہ کترے تو ہر ناخن پر ایک صدقہ، یہاں تک کہ اگر چاروں ہاتھ پاؤں کے چار چار کترے تو سولہ صدقے دے مگر یہ کہ صدقوں کی قیمت ایک دَم کے برابر ہو جائے تو کچھ کم کرلے یا دَم دے اور اگر ایک ہاتھ یا پاؤں کے پانچوں ایک جلسہ میں اور دوسرے کے پانچوں دوسرے جلسہ میں کترے تو دو دَم لازم ہیں اور چاروں ہاتھ پاؤں کے چار جلسوں میں تو چار دَم۔“(بہار شریعت، حصہ:6، جرم اور ان کے کفارے کا بیان، جلد1، صفحہ1172، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ،کراچی)
بہار شریعت میں ہے:
”تنبیہ: مُحرم اگر بالقصد بلا عُذر جرم کرے تو کفارہ بھی واجب ہے اور گنہگار بھی ہوا، لہٰذا اس صورت میں توبہ واجب کہ محض کفارہ سے پاک نہ ہوگا جب تک توبہ نہ کرے اور اگر نا دانستہ یا عذر سے ہے تو کفارہ کافی ہے۔ جرم میں کفارہ بہرحال لازم ہے، یاد سے ہو یا بھول چوک سے، اس کا جرم ہونا جانتا ہو یا معلوم نہ ہو، خوشی سے ہو یا مجبوراً، سوتے میں ہو یا بیداری میں، نشہ یا بے ہوشی میں یا ہوش میں، اُس نے اپنے آپ کیا ہو یا دوسرے نے اُس کے حکم سے کیا۔“(بہار شریعت، حصہ:6، جرم اور ان کے کفارے کا بیان، جلد1، صفحہ1162، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ،کراچی)
واللہ اعلم
کتبه
ابو معاویہ محمد ندیم عطاری مدنی حنفی
نظر ثانی:
ابو احمد مفتی انس رضا قادری
مؤرخہ 23شوال المکرم 1445ھ بمطابق 02مئی 2024ء