جہاز کے مسافروں کے لیے مغرب کی نماز کا مسئلہ

جہاز کے مسافروں کے لیے مغرب کی نماز کا مسئلہ

سوال:مفتی صاحب ، جہاز میں بیٹھے ہوئے کافی دیر تک سورج نظر آتا رہتا ہے، تو مغرب کی نماز کا کیا حکم ہوگا، حالانکہ جب جہاز میں بیٹھے تھے تو سورج غروب ہونے والا تھا؟

(سائل :صابر چوہدری)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب

جہاز والوں کو جب تک سورج نظر آ رہا ہے اسوقت تک مغرب کی نماز نہیں پڑھ سکتے، سورج غروب ہونے کے بعد ہی نماز پڑھیں گے، اگرچہ اس کے مقابل زمین والوں کا غروب ہو چکا ہو۔

خاتم المحققین علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمتہ ردالمحتار میں فرماتے ہیں : ومن كان على مكان مرتفع كمنارة إسكندرية لا يفطر ما لم تغرب الشمس عنده ولأهل البلدة الفطر إن غربت عندهم قبله وكذا العبرة في الطلوع في حق صلاة الفجر أو السحور. یعنی اگر کوئی شخص بلند جگہ پر ہو جیسے کہ اسکندریہ کا مینار ہے تو وہ اس وقت تک روزہ نہیں افطار کر سکتا جب تک اس کے ہاں سورج غروب نہ ہو جائے، البتہ شہر کے رہنے والے اس سے پہلے روزہ افطار کر سکتے ہیں اگر ان کے ہاں سورج غائب ہو جائے، اور ایسے ہی نماز فجر یا سحری کے معاملے میں طلوع کا بھی (مختلف) اعتبار ہو گا۔

[ الدر المختار وحاشية ابن عابدين ، کتاب الصوم، فروع فی الصیام ، ٤٢٠/٢]

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ

ابوالحسن محمد حق نوازمدنی

25 ذیقعدۃ الحرام 1445ء 04 جون 2024ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں