اگر شوہر یہ جملے کہے کہ میں اپنے نکاح سے فارغ کرنے کے لئے اپنی بیوی کو ایک طلاق رجعی دیتا ہوں تو کیا عدت کے اندر رجوع ہو سکتا ہے ؟اور رجوع کیسے ہوگا؟ اور کیا عورت کا قبول کرنا ضروری ہے؟
اگر سوال میں بیان کیا گیا جملہ ہی شوہر نے اپنی بیوی کو کہا تو ایک طلاق رجعی واقع ہوجائے گی۔اگریہ پہلی یا دوسری طلاق ہے تو شوہر عدت کے اندر رجوع کرسکتا ہے۔رجوع قول وفعل دونوں طرح ہوسکتا ہے مگر قول سے کرنا مسنون ہے اور گواہوں کے سامنے کرنا بہتر ہے اور عورت کا قبول کرنا ضروری نہیں۔جوہرہ نیرہ میں ہے:”واذا طلق الرجل امراتہ تطلیقۃ رجعیۃ او تطلیقتین فلہ ان یراجعھا فی عدتھا رضیت بذلک او لم ترض“اور جب شوہر بیوی کو ایک یا دو طلاق رجعی دے تو شوہر کے لئے عدت میں رجوع کرنا جائز ہے چاہے بیوی راضی ہو یا نہ ہو۔
(جوہرہ نیرہ،جلد2،صفحہ50)
مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:” رجعت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ کسی لفظ سے رجعت کرے اور رجعت پر دو عادل شخصوں کو گواہ کرے۔۔ اور اگر فعل سے رجعت کی مثلاً اُس سے وطی کی یا شہوت کے ساتھ بوسہ لیا یا اُس کی شرمگاہ کی طرف نظر کی تو رجعت ہو گئی مگر مکروہ ہے۔ اُسے چاہيے کہ پھر گواہوں کے سامنے رجعت کے الفاظ کہے۔“
(بہار شریعت،جلد2،حصہ8،صفحہ170،171)