مکان پلاٹ اس نیت سے خریدنا کہ اگر نفع ملا تو بیچ دوں گا،کیا اس پر زکوۃ ہو گی؟

مکان پلاٹ اس نیت سے خریدنا کہ اگر نفع ملا تو بیچ دوں گا،کیا اس پر زکوۃ ہو گی؟

سوال:مفتی صاحب، ایک شخص گھر یا پلاٹ خریدتا ہے اس نیت سے کہ یا اسے کرائے پر چڑھا دے گا یا پھر نفع ملا تو اسے بیچ دے گا تو کیا یہ مال تجارت میں شمار ہوگا، اس پر زکوٰۃ لازم ہو گی یا نہیں ؟

(سائل:غلام مصطفی عطاری)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب

پوچھی گئی صورت میں مذکورہ پلاٹ یا مکان کے مالِ تجارت نہ ہونے کے سب ان پر زکوۃ لازم نہیں، کیونکہ کسی سامان کے مالِ تجارت ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ خریداری کے وقت اس کو بیچنے کی پختہ نیت ہو،اگر یہ نیت ہو کہ بعد میں نفع ملا تو اسکو بیچ دوں گا اس سے خریدی گئی چیزپر مال تجارت کا حکم نہیں لگتا ،چنانچہ الاشباہ ولانظائر میں ہے: وتشترط نية التجارة في العروض ولا بد أن تكون مقارنة للتجارة، فلو اشترى شيئا للقنية ناويا أنه إن وجد ربحا باعه لا زكاة عليه.

[ابن نجيم ،الأشباه والنظائر لابن نجيم،الفن الأول ،القواعد الكلية ، القاعدة الأولى، 19 ]

علامہ کمال الدین ابن ہمام فرماتے ہیں : فلو اشترى عبدا مثلا للخدمة ناويا بيعه إن وجد ربحا لا زكاة فيه.

[الكمال بن الهمام، فتح القدير للكمال ابن الهمام،کتاب الزکاۃ ، باب زکاۃ المال ، ٢١٨/٢]

علامہ بدر الدین عینی فرماتے ہیں: أن النية إذا كانت مقرونة بالعمل كانت واجبة الاعتبار؛ لأن النية لتمييز ما اختلف من أنواع الفعل فلا تتصور مع عدم الفعل، والتجارة عمل مخصوص، والاستخدام ترك ذلك العمل، ولما نواها للخدمة وترك التجارة فيها اتصل المنوي بالعمل الذي هو إمساك الاستخدام فيعتبر فتبطل الزكاة.

[بدر الدين العيني، البناية شرح الهداية،کتاب الزکاۃ ،٣٠٩/٣]

بہارشریعت میں ہے : اگررکھنے کے لیے کوئی چیز لی اور یہ نیّت کی کہ نفع ملے گا تو بیچ ڈالوں گا توزکاۃ واجب نہیں۔

(بہار شریعت ،زکوۃ کا بیان، جلد 1 ، حصہ 5 مکتبۃالمدینہ)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ

ابوالحسن محمد حق نوازمدنی

03 رمضان المبارک 1445ء 14 مارچ 2024ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں