زکوۃ کے پیسوں پر سال مکمل ہونے سے قبل گاڑی خریدنا
سوال:مفتی صاحب، اگر کوئی سال کا اکثر حصہ مالک نصاب رہا اور آخر میں کچھ دن قبل اس نے ان پیسوں سے گاڑی خرید لی تو اس پر زکوۃ لازم ہو گی یا نہیں؟
(سائل:زاہد رضا)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب
♦ زکوۃ لازم ہونے کے لیے نصاب پر سال کا مکمل ہونا ضروری ہے،لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر مذکورہ شخص کے پاس گاڑی خریدنے کے بعد سال کے آخر میں حاجت اصلیہ سے زائد نصاب کے برابر مال نہیں تو زکوٰۃ لازم نہیں ۔
♦ اگر اس شخص نے گاڑی آگے بیچنے کے لیے خریدی ہے تواب یہ مال تجارت ہے ، اور اس گاڑی پر بھی زکوٰۃ لازم ہو گی، نیز یہاں گاڑی پر وقت خریداری سے الگ سال پورا ہونا ضروری نہیں بلکہ پہلے سے جو سال چلا ہوا آرہا ہے اُسی کا اعتبار ہو گا،مثلا اگر صاحب نصاب نے زکوۃ کا سال مکمل ہونے سے ایک ماہ قبل بیچنے کی نیت سے گاڑی خریدی تو اب ایک ماہ بعد اس گاڑی پر بھی زکوۃ لازم ہو گی،جبکہ زکوۃ کی دیگر شرائط بھی پائی جائیں۔
المبسوط للسرخسی میں ہے : أن في خلال الحول لو اشترى عبدا للتجارة لم ينقطع فيه الحول بخلاف ما إذا اشترى بالألف عبدا للخدمۃ. یعنی اگر کسی نے سال کے دوران تجارت کے لیے غلام خریدا تو سال منقطع نہ ہو گا، بر خلاف اُس صورت کے جب اُس نے غلام خدمت کے لیے خریدا( یعنی اب سال منقطع ہو جائے گا) [السرخسي، المبسوط للسرخسي، كتاب الزكاة ، زكاة الحلي،١٩٧/٢]
درر الحکام میں ہے: (وشرطه) أي وشرط وجوب أدائها (الحولان) أي حولان الحول (بثمنية المال) كالدراهم والدنانير (أو السوائم أو نية التجارة) إذا ما لم توجد هذه الأشياء لم يتوجه الخطاب فلا يأثم بالترك. [درر الحكام شرح غرر الأحكام،كتاب الزكاة ، شرط وجوب الزكاة]
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ
ابوالحسن محمد حق نوازمدنی
16 رمضان المبارک 1445ء 27 مارچ 2024ھ