جماعت کےدوران بے وضو ہونے پرشرم کے باعث بغیر طہارت جماعت میں شامل رہنے کا حکم

جماعت کےدوران بے وضو ہونے پرشرم کے باعث بغیر طہارت جماعت میں شامل رہنے کا حکم

سوال:مفتی صاحب، کسی کی باجماعت نماز میں ریح خارج ہو جائے مگر شرم کی وجہ سے صف سے باہر نہ نکلے اور نماز ٹوٹ جانے کے باوجود بھی نماز مکمل کرے اگرچہ بعد میں نماز دوبارہ ادا کر لے، تو کیا وضو ٹوٹنے کے باوجود صف میں کھڑا رہنا اور نماز جیسی صورت بنائے رکھنا درست ہے، کوئی سخت حکم تو نہیں لگتا؟

(سائل:کاشف عطاری)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب

ایسے موقع پر بغیر شرم محسوس کیے بندے کو جماعت سے نکل کر، وضو کے بعد دوبارہ نماز میں شامل ہونا چاہیے تاہم اگر کوئی شرم کے سبب جماعت سے نہ نکلا اور بے وضو ہی رکوع و سجود ادا کرتا رہا تو اس پر حکم کفر نہیں کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ اس نے نماز کی تحقیر کے سبب ایسا نہیں کیا، نیز ایسے شخص کو چاہیے کہ وہ کچھ بھی نہ پڑے اور کھڑا ہوتے یا جُھکتے وقت نماز کے قیام اور رکوع و سجود کی نیت نہ کرے، اور یہ بھی یاد رہے کہ اگر کسی نے نماز کو ہلکا جانتے ہوئے ایسا کیا تو بلاشبہ ایسا کرنے والے پر حکم کفر ہے۔

البحرالرائق، فتاوی ہندیہ اور مجمع الانھر میں ہے (واللفظ للآخر) : و(یکفر)بصلاته لغير القبلة متعمدا أو في ثوب نجس أو بغير وضوء عمدا والمأخوذ به الكفر في الأخير فقط وقيل لا في الكل ومحل الاختلاف إذا لم يكن استخفافا بالدين وإن على وجه الاستهزاء والاستخفاف فيصير كافرا بالاتفاق.وفي فصول العمادي ولو ابتلي إنسان بذلك ضرورة بأن كان يصلي مع قوم فأحدث واستحى أن يظهر ذلك وكتم فصلى هكذا أو كان هرب من العدو فقام يصلي وهو غير طاهر قال بعض مشايخنا لا يكفر لأنه غير مستهزئ وينبغي لمن اضطر إلى ذلك أن لا يقصد بالقيام القيام إلى صلاة ولا يقرأ شيئا وإذا حنى ظهره لا يقصد الركوع ولا السجود ولا يسبح حتى لا يصير كافرا إجماعا.

[عبد الرحمن شيخي زاده ،مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر، باب المرتد ،الفاظ الكفر أنواع، 1/694]

[ابن نجيم ،البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق، كتاب الصلاة ،باب شروط الصلاة ، 1/302]

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ

ابوالحسن محمد حق نوازمدنی

11 شعبان المعظم 1445ء 22 فروری 2023ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں