کیا ہر صحابی نبی جنتی جنتی کا نعرہ درست ہے؟ہر صحابی کے جنتی ہونے پر کیا دلیل ہے؟
صحابہ کرام علیھم الرضوان کے فضائل قرآن و حدیث میں کثرت سے آئے ہیں اورتمام صحابہ کے جنتی ہونے پر واضح دلائل موجود ہیں لہذا یہ نعرہ”ہر صحابی نبی جنتی جنتی“ نہ صرف جائز بلکہ اسلامی عقیدے کے عین مطابق ہے۔اللہ پاک فرماتا ہے:” لَا یَسْتَوِیۡ مِنۡکُمْ مَّنْ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ ؕ اُولٰٓئِکَ اَعْظَمُ دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِیۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوۡا ؕ وَکُلًّا وَّعَدَ اللہُ الْحُسْنٰی ؕ وَ اللہُ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ “ترجمہ:اور تمہیں کیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو حالانکہ آسمانوں اور زمین سب کا وارث اللہ ہی ہے۔ تم میں فتح سے پہلے خرچ کرنے والے اور جہاد کرنے والے برابر نہیں ہیں ،وہ بعد میں خرچ کرنے والوں اور لڑنے والوں سے مرتبے میں بڑے ہیں اور ان سب سے اللہ نے سب سے اچھی چیز کا وعدہ فرمالیا ہے اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔
(حدید:10)
اس آیتِ کریمہ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے تفسیر سمرقندی میں ہے: ”معناہ وعد اللہ کلا الحسنی یعنی الجنۃ“ یعنی: آیت کریمہ کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام سے جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔(تفسیر سمرقندی، جلد3، صفحہ382)
ترمذی شریف میں ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:” سمعت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم یقول لا تمس النار مسلما رانی“ یعنی جس مسلمان نے مجھے دیکھا، اس کو آگ نہیں چھوئے گی۔
(ترمذی؛حدیث3826)