طلاق دینا کب جائز ہے؟

طلاق دینا کب جائز ہے؟

طلاق دینا اگرچہ حلال ہے مگر ہر صورت میں طلاق دینا جائز نہیں یعنی بعض ایسی صورتیں ہیں کہ طلاق دینے سے بندہ گناہ گار ہوگا اگرچہ طلاق واقع ہوجائے گی۔حاجت کے وقت طلاق دینا جائز ہے مثلا عورت فاحشہ ہو،یا بداخلاقی و بدسلوکی کرنے والی ہو،اسی طرح عورت شوہر کو یا دیگر افراد کو ایذا دیتی ہو۔یہ اس صورت میں ہے کہ عورت سمجھانے کے باوجود نہ مانتی ہو۔ فتاوی رضویہ میں ہے”:تیسرا قول یہ ہے کہ اگر شوہر کو طلاق کی حاجت ہے تو مباح ہے ورنہ ممنوع،یہی قول صحیح اور دلائل سے موید ہے۔۔الخ“

(فتاوی رضویہ،جلد 12،صفحہ 322)

فتاوی شامی میں در مختار کے اس قول ”لو مؤذیة“(اگر بیوی ایذا دیتی ہو تو طلاق دینا جائز ہے) کے تحت فرماتے ہیں:”اطلقه فشمل المؤذیة له او لغیرہ بقولھا او فعلھا“ترجمہ: مصنف نے اسے مطلق رکھا ہے تو موذی ہونا شوہر اور شوہر کے علاوہ سب کو شامل ہے چاہے عورت کے فعل سے ایذا ہو یا فعل سے۔

(شامی،جلد4،صفحہ 416،دار المعرفہ)

اپنا تبصرہ بھیجیں