کیا مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم 13 رجب کو کعبہ کے اندر پیدا ہوئے؟
اسلام کے چوتھے خلیفہ امیر المؤمنین مولائے کائنات مولا علی شیر خدا کرم اللہ وجہہ الکریم کی فضیلت مسلَّم ہےلیکن یہ فضیلت تاریخ ولادت اور جائے ولادت پر موقوف نہیں جو اس میں غلط روایات اور مبالغہ آرائی سے کام لیا جائے۔کئی صحابہ کرام علیھم الرضوان یہاں تک کہ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی بھی تاریخ ولادت صحیح سند کے ساتھ ثابت نہیں۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اہل عرب تاریخ ولادت یاد رکھنے کا اہتمام نہیں کرتے تھے،لہذا مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی تاریخ ولادت بھی احادیث کی امہات اور ماخذ کتابوں میں مذکور نہیں اور جہاں مذکور ہے وہاں کسی صحیح سند کے ساتھ ثابت نہیں،بعضوں نےدوسروں پر اعتماد کرکےاپنی کتابوں میں نقل کردیا اور بعض جگہ غیر مستند کتابوں کے حوالے سے نقل کردیا گیا،یہاں تک کہ بدمذہبوں کو بھی جشن ولادت مولا علی کی محفل کی تاریخ متعین کرنے کے لئے اجلاس بلانا پڑا،اگر تاریخ ولادت صحیح سند کے ساتھ ثابت ہوتی تو اسی دن کو متعین کرلیا جاتا۔اسی طرح مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کےکعبہ کے اندر پیدا ہونے میں بھی یہی معاملہ ہےبلکہ وہاں تو صراحت ہےکہ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی بھی کعبہ کے اندر پیدا نہیں ہوا اور مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت مکہ میں شعب ابی طالب میں ہوئی۔ایک بدمذہب نے لکھا:”11رجب 1122 کو اصفہان میں مولا علی کی ولادت کی محفل کی تاریخ کو معین کرنے کے لئے مجلس منعقد ہوئی اور مختلف آراءکے بعد 13 رجب طے پائی۔“ (ماخوذا:المختصروالمعتبرمن تواریخ۔۔،صفحہ42)
مسلم شریف میں ہے:”ولد حکیم ابن حزام فی جوف الکعبۃ“ترجمہ:حکیم بن حزام(رضی اللہ عنہ)کعبہ کے اندر پیدا ہوئے۔(مسلم،1532)
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا:”ولد حکیم بن حزام فی جوف الکعبہ ولا یعرف احدولد فیھا غیرہ“حکیم بن حزام کعبہ کے اندر پیدا ہوئے ان کے علاوہ کسی کے بارے میں ایسا معروف نہیں۔
(تہذیب الاسماءواللغات،صفحہ409)
امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے اس عبارت کے تحت لکھا:”وما وقع فی مستدرک الحاکم من ان علیا ولد فیھا ضعیف“ترجمہ:اور جو مستدرک میں واقع ہوا کہ حضرت علی کی ولادت کعبہ کے اندر ہوئی ہے وہ ضعیف ہے۔
(تدریب الراوی،جلد2،صفحہ880)