کیا عقائد اور حلال و حرام میں تقلید ضروری نہیں؟
اصلِ عقائد میں کسی کی تقلید جائز نہیں البتہ فروعی اعتقادات میں اہلسنت امام ماتریدی اور امام اشعری کی تقلید کرتے ہیں،اسی طرح وہ احکام جو قرآن و حدیث سے واضح طورپر ثابت ہوں ان میں بھی تقلید جائز نہیں،البتہ ایسے احکام جو اجتہاد و استنباط کرکے نکالے جائیں ان میں غیر مجتہد پر تقلید واجب ہے۔مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:”عقائد میں کسی کی تقلید جائز نہیں۔۔۔صریح احکام میں بھی کسی کی تقلید جائز نہیں۔۔جو مسائل قرآن و حدیث یا اجماع امت سے اجتہاد و استنباط کرکے نکالے جائیں ان میں غیر مجتہد پر تقلید کرنا واجب ہے۔“
(جاء الحق،صفحہ22)
بہار شریعت میں ہے:” اُصولِ عقائد میں تقلید جاءز نہیں بلکہ جو بات ہو یقینِ قطعی کے ساتھ ہو، خواہ وہ یقین کسی طرح بھی حاصل ہو، اس کے حصول میں بالخصوص علمِ استدلالی کی حاجت نہیں، ہاں! بعض فروعِ عقائد میں تقلید ہوسکتی ہےاسی بنا پر خود اھلِ سنّت میں دو گروہ ہیں: ”ماتُرِیدیہ” کہ امام عَلم الہدیٰ حضرت ابو منصور ماتریدی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے متّبع ہوئے اور ”اَشاعرہ” کہ حضرت امام شیخ ابو الحسن اشعری رحمہ اﷲ تعالیٰ(2) کے تابع ہیں، یہ دونوں جماعتیں اھلِ سنّت ہی کی ہیں اور دونوں حق پر ہیں، آپس میں صرف بعض فروع کا اختلاف ہے۔
(بہار شریعت،جلد1،حصہ1،صفحہ178)