کیا ایسی کوئی حدیث ہے کہ حضورﷺ نے کسی صحابی کا اونچا مکان دیکھا تو ناراضی کا اظہار فرمایا؟

کیا ایسی کوئی حدیث ہے کہ حضورﷺ نے کسی صحابی کا اونچا مکان دیکھا تو ناراضی کا اظہار فرمایا؟

ابو داؤد شریف میں ہے۔ رسول اللہﷺایک دن تشریف لے گئے ہم حضور کے ساتھ تھے تو حضورﷺ نے بلند عمارت دیکھی تو فرمایا یہ کیا ہے ؟صحابہ نے عرض کیا کہ یہ فلاں انصاری کا ہے تو حضور خاموش ہوگئے اور یہ بات دل شریف میں رکھ لی حتی کہ جب اس عمارت کا مالک حاضر ہوا تو آپ کو بھرے مجمع میں سلام کہا تو حضورﷺ نے منہ پھیر لیا انہوں نے یہ کئی بار کیا حتی کہ ان صاحب نے حضور انور میں اپنے لئےناراضی محسوس کرلی تو صحابہ رضی اللہ عنھم سے اس کی شکایت کی اور کہا کہ خدا کی قسم میں رسول اللہﷺ کوناراض پاتا ہوں، لوگوں نے کہا کہ حضورﷺ تشریف لے گئے تھے تو تمہاری عمارت دیکھی تھی تو وہ شخص عمارات کی طرف گیا اور اسے ڈھاکر زمین کے برابر کردیا ایک بار پھر رسول اللہﷺ تشریف لے گئے تو وہ عمارت نہ دیکھی فرمایا اس کا کیا ہوا؟ لوگوں نے عرض کیا کہ اس کے مالک نے آپ کی بے توجہی کا ذکر کیا تو ہم نے اسے خبردی تو اس نے وہ ڈھا دیا تو فرمایا کہ ہر تعمیر اس کے بانی پر وبال ہےسوائے اس کے جس کی اسے ضرورت ہو۔ (ابوداؤد،ح5237)

شرح:اگر وبال سے مراد گناہ ہے تو عمارات سے مراد وہ عمارتیں ہیں جو بلا ضرورت فخر وتکبر کے لیے بنائی جائے کہ یہ عمل ناجائز ہے، فخر و تکبر کا ہر کام حرام ہے اور اگر وبال سے مراد آخرت کا بوجھ ہے تب بلا ضرورت کی ہر عمارت اس میں داخل ہے خواہ فخریہ ہو یا نہیں۔۔الخ(مرآۃ،ج7،ص30)

اپنا تبصرہ بھیجیں