ٹرین میں نماز پڑھنے کا طریقہ ارشاد فرمادیں۔
ٹرین اگر رکی ہوئی ہو تو اس میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں،چلتی ٹرین میں فرض،وتر اور سنت فجرنہیں پڑھ سکتے، اگر پڑھی تو نہیں ہوگی۔چلتی ٹرین میں نماز کا وقت ہوجائے تو رکنے کا انتظار کیا جائے،اگر نماز کا وقت تنگ ہوجائے اور گمان غالب ہوجائے کہ اب نہ پڑھی تو قضا ہوجائے گی تو چلتی ٹرین میں پڑھ لے اور بعد میں رکی ہوئی ٹرین میں یا نیچے اتر کر وہ نماز دوبارہ پڑھ لے۔ٹرین میں قبلہ رخ کھڑے ہو کر باوضو نماز پڑھی جائے۔قبلہ کی سمت ٹرین کے عملے سے معلوم کرلی جائے یا راستے میں آنے والی مساجد کے محراب وغیرہ سے اندازہ لگایا جائے یا لوگوں سے پوچھ لیا جائے،اگر کوئی صورت نہیں تو غور و فکر کیا جائے کہ قبلہ کہاں ہوگا، جس طرف دل جم جائے اسی رخ پر نماز پڑھ لی جائے۔
(ماخوذا:فتاوی رضویہ،جلد6،صفحہ137،136)