دوسرے ملک میں پڑھائی کے لئے جانا ہو تو اس کی شرط ہوتی ہے کہ اس کے اکاؤنٹ میں اچھی خاصی رقم ہو(ہر ملک کی اپنی لمٹ ہے) اب کئی لوگوں کے پاس پیسے نہیں ہوتے تو وہ صرف اماؤنٹ شو کروانے کے لئے ایجنٹ سےپیسے لیتے ہیں اس شرط پر کہ اماونٹ کا2 یا 4٪ اضافی دینا ہوگا یا مخصوص رقم اضافی دینی ہوگی ایسا کرنا کیسا؟

دوسرے ملک میں پڑھائی کے لئے جانا ہو تو اس کی شرط ہوتی ہے کہ اس کے اکاؤنٹ میں اچھی خاصی رقم ہو(ہر ملک کی اپنی لمٹ ہے) اب کئی لوگوں کے پاس پیسے نہیں ہوتے تو وہ صرف اماؤنٹ شو کروانے کے لئے ایجنٹ سےپیسے لیتے ہیں اس شرط پر کہ اماونٹ کا2 یا 4٪ اضافی دینا ہوگا یا مخصوص رقم اضافی دینی ہوگی ایسا کرنا کیسا؟

معلوم کی گئی صورت ناجائز و حرام ہے کیونکہ یہ سودی معاہدہ ہے اور اس میں دھوکہ بھی پایا جا رہا ہے۔تفصیل اس کی یہ ہے کہ ایجنٹ سے ملنی والی رقم قرض ہے اور اس کا اضافی رقم لینا قرض پر مشروط نفع ہے جوکہ خالص سود ہے۔دوسرا اس میں دھوکہ بھی پایا جا رہا ہے کیونکہ بینک میں مخصوص اماؤنٹ ہونے کی شرط اس لئے بھی ہوتی ہے کہ فلاں شخص دوسرے ملک میں جا کر بھیک مانگنا یا غیر قانونی طریقے سے کمانا شروع نہ کردے اور یہ شخص کسی اور سے عارضی طورپیسے مانگ کر یہ ثابت کرتا ہے کہ میں اتنا مالدار ہوں لہذا اس کی اجازت نہیں۔ حدیث پاک میں ہے:”کل قرض جر منفعۃ فھو ربا“ترجمہ: ہر وہ قرض جو نفع لے کر آئے سود ہے۔

(نصب الرایہ،جلد4،صفحہ60)

اپنا تبصرہ بھیجیں