امتحان میں نقل کرنے والےامام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا؟

امتحان میں نقل کرنے والےامام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا؟

امتحان میں نقل کرنا دھوکہ ہے اور دھوکہ دینا ناجائز و حرام ہے۔اگر کوئی امام اس طرح نقل کرتا ہو کہ آس پاس والے اس پر مطلع ہوجاتے ہوں یا وہ امام اعلانیہ اس کا تذکرہ کرتا ہو تو ایسا امام فاسق معلن ہے اور فاسق معلن کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں۔حدیث پاک میں ہے:”من غشنا فلیس منا“ترجمہ:جو دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ۔

(مسلم،حدیث284)

فتاوی رضویہ میں ہے:”فاسق معلن کو امام بنانا گناہ اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب۔“

(فتاوی رضویہ،جلد6،صفحہ600)

اپنا تبصرہ بھیجیں