گھر میں نماز پڑھنے کا حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ گھر میں نماز پڑھنا کیسا ہے؟
User ID:علی عباس
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
اس بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ ہر عاقل ،بالغ،جماعت پر قادر مسلمان پر مسجد کی جماعت واجب ہے جان بوجھ کر چھوڑنا گناہ ہےاور اگر جماعت ترک کرنے کی عادت بنا لے تو ایسا شخص فاسق اور مردود الشہادۃ ہے ۔ البتہ گھر میں ادا کی تو اسکی نماز ناقص ہے کہ جماعت کے ثواب سے محروم رہا اور واجب ترک کرنے کی وجہ سے گنہگار ہوا البتہ سنن و نوافل گھر میں پڑھنا افضل ہے ۔ صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : عاقل ،بالغ،حر(آزاد) قادر جماعت پر جماعت واجب ہے ،بلا عذر ایک بار بھی چھوڑنے والا گنہگار اور مستحق سزا ہے اور کئی بار ترک کرے تو فاسق مردود الشہادۃ اور اس کو سخت سزا دی جائے گیاگر پڑوسیوں نے سکوت کیا تو وہ بھی گنہگار ہوئے۔
(بہارشریعت،جلد1،حصہ3،صفحہ586،مکتبۃالمدینہ کراچی)
ایک اور جگہ فرماتے ہیں : نفل نماز گھر میں پڑھنا افضل ہے۔ مگر (۱) تراویح و (۲) تحیۃ المسجد اور (۳) واپسی سفر کے دو نفل کہ ان کو مسجد میں پڑھنا بہتر ہے اور (۴) احرام کی دو رکعتیں کہ میقات کے نزدیک کوئی مسجد ہو تو اس میں پڑھنا بہتر ہے اور (۵) طواف کی دو رکعتیں کہ مقامِ ابراہیم کے پاس پڑھیں اور )۶) معتکف کے نوافل اور (۷) سورج گہن کی نماز کہ مسجد میں پڑھے اور (۸) اگر یہ خیال ہو کہ گھر جا کر کاموں کی مشغولی کے سبب نوافل فوت ہو جائیں گے یا گھر میں جی نہ لگے گا اور خشوع کم ہو جائے گا تو مسجد ہی میں پڑھے۔
(بہار شریعت جلد 1 ،حصہ 4، صفحہ 671،مکتبۃ المدینہ کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
مولانا انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ
26رجب المرجب 1445ھ/ 7فروری 2024 ء