ابو تراب ،نام رکھنے کا حکم

ابو تراب ،نام رکھنے کا حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ابو تراب نام رکھنا کیسا ہے؟

User ID:محمد عثمان سلطانی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

اس بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ ابو تراب ،دوالفاظ ”اب “اور ”تراب “ کا مجموعہ ہے جس کا معنی ہے”مٹی والا “۔ یہ اپنی اصل کے اعتبارسے اگر چہ کنیت ہے کیونکہ جوعَلم ”ام“ یا ”اب“سے شروع ہو،وہ کنیت کہلاتاہےلیکن اسے بطور نام رکھنا بھی جائزودرست ہےکنیت کے بطور نام ہو نے کے متعلق عمدۃ القاری میں ہے:” كثير من الأسماء المصدرة بالأب أو الأم لم يقصد بها الكنية، وإنما يقصد بها إما العلم وإما اللقب ولا يقصد بها الكنية“ترجمہ :بہت سے نام ”اب، ام“سے شروع ہوتے ہیں لیکن ان سے کنیت مقصود نہیں ہوتی بلکہ اس سے یا تو نام مقصود ہوتاہے یا لقب ،اس سے کنیت مراد نہیں ہوتی۔

(عمدۃالقاری ،جلد22،صفحہ218،بیروت)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

مولانا انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ

5رجب المرجب 1444ھ/ 18جنوری 2024 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں